351
حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے
تو کیوں اندیشۂ تشنہ لبی معلوم ہوتی ہے
تمہاری گفتگو سے آس کی خوشبو چھلکتی ہے
جہاں تم ہو وہاں پہ زندگی معلوم ہوتی ہے
ستارے مثل جگنو زائچے میں رقص کرتے ہیں
ذرا سی دیر میں کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے
جہاں پر ایک جوگن مست ہو کر گنگناتی ہے
اسی ساحل پہ اک گرتی ندی معلوم ہوتی ہے
اداسی زلف کھولے گی دنوں کی یاد میں گم ہے
شعور گل کو فکر تشنگی معلوم ہوتی ہے
جہاں پہ پھول کھلتا ہے سنورتا ہے بکھرتا ہے
اسی شاخ محبت پہ کلی معلوم ہوتی ہے
ستاتی ہے تمہاری یاد جب مجھ کو شب ہجراں
مجھے خود اپنی ہستی اجنبی معلوم ہوتی ہے
تمہارے لمس کو میں جب کبھی محسوس کرتا ہوں
بہت ہلکی سہی اک روشنی معلوم ہوتی ہے
فنا ہونا اندھیری رات کی تقدیر ہے عالمؔ
مجھے یہ بے بسی بھی زندگی معلوم ہوتی ہے
افروز عالم
