348
شمس معدوم ہے تاروں میں ضیا ہے تو سہی
چاندنی رات میں مد مست ہوا ہے تو سہی
خواہش عشق کی تکمیل کہاں ہوتی ہے
گرچہ وہ شوخ نہیں شوخ نما ہے تو سہی
آہٹیں جاگ کے تاریخ کو دستک دیں گی
آس کے سینے میں ایک زخم ہرا ہے تو سہی
صبح کی راہ میں ظلمات کے سنگ آتے ہیں
میں نے ہر سنگ کو ٹھوکر پہ رکھا ہے تو سہی
ہاں اسی عقدے سے الجھا ہے تخیل کا شعور
یعنی الجھا ہوا ہاتھوں میں سرا ہے تو سہی
جنبش لب سے مرے دار پہ سر آتے ہیں
پھر بھی کچھ راز فضاؤں میں کھلا ہے تو سہی
گرچہ میں ہادی و رہبر نہیں ہوں عالمؔ کا
پھر بھی ہاتھوں میں میرے ایک عصا ہے تو سہی
افروز عالم
