831
مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے
سفاک کر کے رکھ دیا صدمات نے مجھے
پتھر سا ہو گیا تھا میں کچھ بھی نہ کہہ سکا
چُپ سی لگا دی تیرے سوالات نے مجھے
اب روح بھی بھٹکتی ہے تیری تلاش میں
دِن نے سکوں دیا ہے نہ ہی رات نے مجھے
احساس چھین لے گیامجھ سے مری ہنسی
پتھر بنا دیا مرے جذبات نے مجھے
جی چاہتا ہے سانس سے بھی رشتہ توڑ دوں
وہ دکھ دیا ہے اب کے ملاقات نے مجھے
میں تھک گیا ہوں شاذؔ مگر کس سے کہوں
بھٹکا دیا ہے گردشِ حالات نے مجھے
شجاع شاذ
