خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہائے یہ خُود ساختہ معیارات
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

ایک اردو کالم از محبوب صابر

از سائیٹ ایڈمن اپریل 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 27, 2020 0 تبصرے 394 مناظر
395

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

 

اقوامِ عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی نظریہ ، روائت یا فلسفہ کسی بھی معاشرے میں ہمیشہ مستعمل نہیں رہتا- خواہ وہ مذہبی رسومات ہی کیوں نہ ہوں ہر بدلتے عشرے کیساتھ اُن میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور یہی مستقل ردو بدل تقریبا” ہر آدھی صدی کے بعد یکسر نئی صورت اختیار کر لیتا ہے- وہ عزت کے معیارات ہوں، رشتوں کی تقدیس اور حُرمت کے متعلق رواجات ہوں، رہن سہن کی عادات ہوں یا پھر معاشرتی رکھ رکھاؤ کا مروجہ طریقئہ کار ہو یکسر بدل جاتے ہیں- اسے ہی تہذیب کے ارتقاء سے موسوم کیا جاتا ہے- قدیم یونان کی ریاستوں میں جب طب اور فلسفہ اپنی ارتقائی منازل طے کر رہا تھا تواُس وقت کے طاقتورترین طبقہ نے عام فہم رکھنے والے شہریوں کو خُدا، مذہب، تجارت، سیاست اور معاشرتی رسومات کے ایسے معیارات متعارف کروا دیے کہ جو اُن کیلئے سود مند تھے یا جن کے نفاز سے جبرو استبداد اور مطلق العنانیت کا استحکام ضروری تھا- اور پھر جب کسی فطری طور پر ودیعت کئے ہوئے باشعور انسان نے اس ظلم ، جبر اور غیر منطقی مذہبی استحصال کے خلاف علمِ بغاوت بُلند کیا تو کسی کو زہر کا پیالہ پینا پڑا، کوئی مصلوب ہوا تو کسی کو سَر تن سے جُدا کروانا پڑا۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنسی ایجادات سے پہلے چرچ کو کرہ ارض پر سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا اور یہ تصورعام تھا کہ آسمانی آفات باالخصوص آسمان سے گرنے والی بجلی چرچ کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتی اور پھرجب زمین میں ارتھ لگا کر کچھ زہنی طور پر جاگتے لوگوں نے چکلوں اور اُس وقت کے خیال کے مطابق گناہ کی جگہوں کو اس سے محفوظ کر لیا تو انقلابِ فرانس جیسا بڑا معجزہ رونما ہوا جس نے اقوامِ عالم کی مذہبی ہیئت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا- کل کی بات ہے کہ باپ کی چارپائی پر بیٹھنا انتہائی بدتمیزی اور گستاخی تصور کیا جاتا تھا اور آج باپ کے برابر بلکہ اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا بھی شائد کسی کو عجیب محسوس نہ ہوتا ہو بلکہ یہ عمل محبت اور عقیدت کی زریں دلیل سمجھا جاتا ہے- اسی طرح برصغیر میں حیا، احترام، پردہ اور آدابِ گفتگو جو آج سے دو عشرے پہلے تھے کہیں ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتے- ایسا نہیں اور نہ ہی میں ایسے نقطئہ نظر کا حامی ہوں کہ آج حیا یا طریقئہ احترام تنزلی کا شکار ہے بلکہ اِس کے برعکس دیکھا جائے تو کوئی نظریہ یا فلسفہ اُس وقت تک مقبولیت یا تکریم حاصل ہی نہیں کر سکتا جب تک وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق نہ ہو، یا جسے قبول کرنے میں انسانوں کو اُکتاہٹ یا بیزاری سے نبردآزما ہونا پڑے- اگر آج سے آدھی صدی پہلے کے بازار، طرزِ تعمیر، زرائعِ آمدورفت، ترسیل اور روابط کا زریعہ، اندازِ معاشرت، عزت و تکریم کے معیارات،تقدیسِ معبد حتی کہ ویسا باپ اور ویسی ماں تک نہیں رہے تو یہ دو قدیم ترین اور متروک نظریات کیوں آج بھی مستعمل ہیں؟ ایک یہ کہ نوکر کو مالک کا ہر حال میں وفادار ہونا چاہیئے ، جس کا نمک کھاؤ اُس سے وفا کرو- حالانکہ ہر وہ شخص یا ادراہ جو کسی کو بھی ملازم رکھتا ہے وہ اُس کی صلاحیت اور محنت کی بدولت ہی تعیش اور راحت بھری پُر آسائش زندگی کا لطف لے رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ نظریہ استحصالی طبقہ کی بدمعاشیوں ، اُن کے مفادات کا تحفظ ، اُن کی انائی تسکین،حاکمیت پسندی اور انسانوں کو غلام رکھنے کی خواہش کا ترجمان تھا سواِس کو اتنا اُچھالا گیا کہ ملازم کو یہ سب حقیقت دکھائی دینے لگا اور وہ اِسی کی تقلید میں اپنی عزتِ نفس، رائے اور احترامِ آدمیت کے تمام تقاضے بُھلا بیٹھا اور نسل در نسل غُلامی ہی کو اپنا مقدر سمجھ کر استحصالی سوچ کے ہاتھ مظبوط تر کرنے لگا- اور ایسا ہی کچھ مذہبی ریاستوں کے حاکموں نے کیا کہ اپنی پسند کے فتاوی جات لینے کیلئے اُس وقت کے چند ضمیر فروش اور لالچی خود ساختہ علماء کو اپنے درباروں کی زینت بنایا جو اپنے اپنے عقیدے کی مذہبی کُتب کے حوالہ جات سے ایسے حکمرانوں کے ہاتھ مظبوط کرنے لگے- اور یہ بات اُن حالات میں صادق بھی آتی تھی کہ حکمرانوں نے ایسے علماء کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے ڈھال بنائے رکھا جس کی ایک بڑی مثال ہمارے مشترکہ ہندوستان میں آئینِ اکبری ہے۔ مگر اُس وقت نہ تو علم عام تھا اور نہ ہی باقائدہ تعلیمی اِدارے معرضِ وجود میں ائے تھے- لوگ نہ تو موازنہ کرنے کا ہُنر جانتے تھے اور نہ ہی اُن کے جُھوٹ کو جانچنے کیلئے کوئی واضع معیار موجود تھا- سو اُس وقت کا یہ نظریہ کہ علماء کو دربار سے دور رہنا چاہیئے سلیم العقلی اور دانشمندی کی علامت تھا۔ مگر اب جب نِصابی تعلیم اپنی رفعتوں کو چھو رہی ہے دُنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے جال بچھے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر قرانِ حکیم اوراحادیث کی سبھی تصحیح کُتب موجود ہیں اورہم میں سے اکثریت کسی بھی واقع یا مذہبی روائت کو علقی معیارات اورعلمی استدلال پر جانچنے کی متمنی ہو تو اُس کیلئے رتی برابر بھی مشکل نہیں- اس لیئے جہاں دیگر بہت سی رسومات اوررواجات ، نظریات اور طریقئہ ہائے زندگی بدل چُکے ہیں ہمیں مالک نوکر کے تعلقات کا ازسرِ نوع جائزہ لینے کیساتھ ساتھ علماء کا اربابِ اقتدار کے ساتھ تعلق یا رشتے کو بھی نئے سرے سے دیکھنا ہوگا- جہاں ہماری آسانیاں ہیں اور ہمارے مفادات پنہاں ہیں وہاں تو روایات کا بدل جانا تہذیب اور علم کے ارتقاء سے تعبیر کیا جائے اور جہاں ہم براہِ راست کسی سہولت یا نظریے سے مستفید نہیں ہورہے وہاں صدیوں پُرانے متروک نظریات کا پرچار کر کے کسی کی زات پر کیچڑ اُچھالنا یا معتوب کرنا انتہائی ذہنی بددیانتی ہے جس کا ارتکاب کسی بھی باشعور اور انصاف پسند شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا البتہ اگر کوئی ایسا عالم، مفکر یا رہبرِدین کسی بھی ایسے نظریے کا پر چار کر رہاہو جسے علمی استدلال یا عقل کی کسوٹی پر نہ پرکھا جا سکے تو اُس کی تعظیم یا حیثیت متنازع ہو سکتی ہے
محبوب صابر
27 اپریل 2020 سیالکوٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • انجام بخیر
  • بلی کی بند آنکھیں
  • جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی
  • دنیا کا رنگ ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
پچھلی پوسٹ
کھا کے سوکھی روٹیاں

متعلقہ پوسٹس

نہ رنجشیں، نہ شکایت ہے

ستمبر 24, 2025

کیوں چشمِ نم یہ زیرِ نکاسی

اکتوبر 16, 2025

قلم کی طاقت اور ذمہ داری

مارچ 12, 2026

نچلے درجے کی قناعت پسندی

جنوری 10, 2021

اُس کے جانے کا اِس دل کو ڈر سا تھا

مئی 20, 2020

سیکیورٹی ادارے متوجہ ہوں

دسمبر 12, 2025

ایلون مسک : حوصلے اور وژن کی کہانی

اکتوبر 4, 2025

صبیحہ سے امامہ کی پہلی ملاقات

جنوری 4, 2022

تری مٹی میں مل سکتے ہیں

اکتوبر 24, 2020

ہم یہاں کے ہو لیئے

نومبر 11, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محبتوں کی سفیر آنکھیں

اکتوبر 10, 2025

یہ دستور ہے دل کو یہ...

نومبر 30, 2020

دور سے دیکھنے والے کا گماں...

دسمبر 2, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں