خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامبلی کی بند آنکھیں
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

بلی کی بند آنکھیں

از سائیٹ ایڈمن فروری 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 28, 2026 0 تبصرے 43 مناظر
44

اس دنیا کی پرانی کہانی اب بالکل بدل چکی ہے جہاں کبھی کبوتر بلی کو دیکھ کر معصومیت سے آنکھیں موند لیا کرتا تھا کہ شاید اس طرح وہ شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ اب تو عالم یہ ہے کہ گلی محلے کی عام بلیاں بھی کبوتروں کو دیکھ کر منہ پھیر لیتی ہیں اور ان کا یہ ماننا ہے کہ ان ہڈیوں کے ڈھانچوں سے بھلا کیا گوشت برآمد ہوگا۔ وہ سوچتی ہیں کہ یہ بے چارہ کبوتر تو اونچی اڑانیں بھر بھر کر اور دانہ دنکا نہ ملنے کی وجہ سے اپنی ہڈیاں ہی سکھا چکا ہے اس سے بہتر ہے کہ کسی برائلر مرغی والے کی دکان کے نیچے ڈیرہ جما لیا جائے جہاں پیٹ بھرنے کا سامان ذرا آسانی سے میسر آ سکے۔
مگر صاحب یہ قصہ تو صرف ان چار ٹانگوں والی بلیوں کا ہے جنہوں نے فاقہ کشی سے تنگ آ کر کچھ نہ کچھ غیرت سیکھ لی ہے لیکن حضرت انسان کی بھوک کا عالم تو کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔ یہاں کی بڑی بلیاں یعنی دنیا کے وہ طاقتور ممالک جنہوں نے انسانیت کی خدمت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ان کی نظریں آج بھی ان ہی لاغر اور غریب کبوتروں پر جمی ہوئی ہیں۔ ان صیہونی شکاریوں نے تو ان غریب الوطن کبوتروں کا وہ حال کر دیا ہے کہ اب ان کی بوٹیوں سے جی نہیں بھرا تو ان کی ہڈیوں کی یخنی نکالنے کے درپے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صیہونی بلی لومڑی سے بھی زیادہ مکار نکلی جس نے برسوں پہلے اپنے خفیہ ایجنڈے کی وہ بساط بچھائی کہ دنیا آج تک اس کے سحر سے نہیں نکل سکی۔ کبھی اس نے ہولوکاسٹ کا سہارا لے کر مظلومیت کا ڈھونگ رچایا تو کبھی خود کو خدا کی چنی ہوئی سب سے اعلیٰ نسل قرار دے کر باقی دنیا کو اپنے قدموں تلے روندنے کا جواز ڈھونڈ نکالا۔ اس مکار بلی نے تو دنیا بھر کے ابلاغی ذرائع کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے تاکہ جب بھی وہ کسی معصوم کبوتر کی گردن دبوچے تو دنیا کو یہ یقین دلا سکے کہ کبوتر دراصل ایک خطرناک جانور ہے جو بلی کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔
ان بڑی صیہونی بلیوں نے تو اپنے ساتھ دوسری خونخوار بلیوں کا ایک ایسا غول تیار کر لیا ہے جو امن پسندی کا راگ الاپتے ہوئے کبوتروں کے لہو سے ہولی کھیلتی ہیں۔ گیارہ ستمبر جیسے واقعات کا تانا بانا خود بنا جاتا ہے اور اس کا سارا ملبہ اس بے چارے کبوتر پر ڈال دیا جاتا ہے جس کے پاس اڑنے کے لیے پر تو ہیں مگر اپنا دفاع کرنے کے لیے ناخن نہیں۔ ان مکار بلیوں نے ایپسٹین جیسی فائلوں کے ذریعے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے ہوس کے پجاری معصوم بچوں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور پھر اسی شیطان کے چرنوں میں سجدہ ریز ہو جاتے ہیں جس کے نام کی حکومتیں وہ دنیا بھر میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔
غزہ ہو یا سوڈان شام ہو یا مصر ہر جگہ ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے کہ جہاں کمزور کی ہڈیاں ہی کام آتی ہیں۔ ہم نے بچپن میں بزرگوں سے سنا تھا کہ ہڈیوں کا سرمہ بنایا جاتا ہے جو بینائی تیز کرتا ہے مگر اب تو ان بین الاقوامی قصابوں نے ہڈیوں کا سرمہ بنانا ایک عملی مشغلہ بنا لیا ہے۔ جب کبوتروں کے جسم کا سارا گوشت یہ طاقتور بلیاں نوچ لیتی ہیں تو پھر ان کی ہڈیوں کو پیٹ کر اپنی طاقت کا سکہ جماتی ہیں۔
تعجب تو اس بات پر ہے کہ یہ بلیاں خود کو امن کا علمبردار کہتی ہیں اور بڑی بڑی انجمنیں بنا کر کبوتروں کے حقوق کی حفاظت کا ناٹک کرتی ہیں۔ ان کا شعار تو اب صرف خدمت رہ گیا ہے مگر یہ خدمت کبوتر کی نہیں بلکہ اس صیہونی نظام کی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ان طاقتور ممالک نے غریب قوموں کو بھوکا ننگا رکھ کر ان کی پروازیں چھین لیں اور اب ان کے پاس صرف ہڈیاں ہی بچی ہیں جن پر یہ صیہونی شکاری اپنی دانت تیز کر رہے ہیں۔
دنیا کا یہ عجیب تماشہ ہے کہ یہاں بلی کبوتر کا شکار کرنے کے بعد خود ہی اس کا ماتم بھی کرتی ہے اور پھر کبوتروں کی بستی میں امداد کے نام پر وہ زہر بھیجتی ہے جو ان کی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کر دے۔ یہ صیہونی بلی اتنی چالاک ہے کہ اس نے کبوتروں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ان کا بچاؤ اسی میں ہے کہ وہ اپنی آنکھیں بند رکھیں تاکہ انہیں اپنا انجام نظر نہ آئے۔ لیکن اب کبوتروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آنکھیں بند کرنے سے بلی غائب نہیں ہوتی بلکہ شکار ہونا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔
اس عالمی سیاست کے کھیل میں اخلاقیات کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے اور اب صرف وہ قانون باقی ہے جس میں بڑی بلی کو ہر اس کبوتر کو ہڑپ کرنے کی اجازت ہے جو اس کے ایجنڈے کے سامنے رکاوٹ بنے۔ صیہونیت کا یہ جال اتنا گہرا ہے کہ اس نے کبوتروں کے دانہ دنکا پر بھی پہرے بٹھا دیے ہیں تاکہ وہ اتنے کمزور ہو جائیں کہ اڑنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔ ان کا مقصد صرف گوشت کھانا نہیں بلکہ ان کبوتروں کی روح تک کو غلام بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ہڈیاں خشک کر کے ان کے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں۔
مگر یاد رہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سبق ہے کہ کتنی ہی مکار بلیاں آئیں اور کبوتروں کا لہو پی کر رخصت ہو گئیں لیکن کبوتروں کی نسل آج بھی باقی ہے۔ یہ صیہونی ٹولہ چاہے کتنے ہی مکارانہ جال کیوں نہ بن لے اور چاہے کتنے ہی کبوتروں کی ہڈیوں سے اپنی پیاس کیوں نہ بجھائے ایک دن ان کا یہ غرور بھی خاک میں مل جائے گا۔ اب کبوتروں کو آنکھیں بند کرنے کے بجائے اپنے پروں میں وہ طاقت پیدا کرنی ہوگی جو ان شکاری بلیوں کی آنکھیں خیرہ کر دے اور اس صیہونی نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو
  • سرکس
  • پرانے خدا
  • قلم اور صفحہ کی گفتگو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
پچھلی پوسٹ
آپریشن غضب للحق

متعلقہ پوسٹس

جوتےکی نوک پر

جنوری 21, 2020

سیر عدم

جنوری 16, 2026

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

مارچ 11, 2021

محبتوں كی سفیر شاعرہ

جنوری 21, 2020

رشتوں کے درمیان

اگست 7, 2022

مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں

مئی 5, 2021

سندھی ثقافتی دن

نومبر 28, 2024

ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ

جولائی 5, 2024

صرف ایک مچھر۔۔۔۔ صرف ایک شاہد مسعود

جنوری 26, 2018

عشق باز ٹڈہ

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

احترام کا رشتہ

اپریل 1, 2023

سفیرِ ادب

اپریل 9, 2026

لگ کے بیٹھا تھا ایک کونے...

مارچ 22, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں