خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامبلی کی بند آنکھیں
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

بلی کی بند آنکھیں

از سائیٹ ایڈمن فروری 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 28, 2026 0 تبصرے 115 مناظر
116

اس دنیا کی پرانی کہانی اب بالکل بدل چکی ہے جہاں کبھی کبوتر بلی کو دیکھ کر معصومیت سے آنکھیں موند لیا کرتا تھا کہ شاید اس طرح وہ شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ اب تو عالم یہ ہے کہ گلی محلے کی عام بلیاں بھی کبوتروں کو دیکھ کر منہ پھیر لیتی ہیں اور ان کا یہ ماننا ہے کہ ان ہڈیوں کے ڈھانچوں سے بھلا کیا گوشت برآمد ہوگا۔ وہ سوچتی ہیں کہ یہ بے چارہ کبوتر تو اونچی اڑانیں بھر بھر کر اور دانہ دنکا نہ ملنے کی وجہ سے اپنی ہڈیاں ہی سکھا چکا ہے اس سے بہتر ہے کہ کسی برائلر مرغی والے کی دکان کے نیچے ڈیرہ جما لیا جائے جہاں پیٹ بھرنے کا سامان ذرا آسانی سے میسر آ سکے۔
مگر صاحب یہ قصہ تو صرف ان چار ٹانگوں والی بلیوں کا ہے جنہوں نے فاقہ کشی سے تنگ آ کر کچھ نہ کچھ غیرت سیکھ لی ہے لیکن حضرت انسان کی بھوک کا عالم تو کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔ یہاں کی بڑی بلیاں یعنی دنیا کے وہ طاقتور ممالک جنہوں نے انسانیت کی خدمت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ان کی نظریں آج بھی ان ہی لاغر اور غریب کبوتروں پر جمی ہوئی ہیں۔ ان صیہونی شکاریوں نے تو ان غریب الوطن کبوتروں کا وہ حال کر دیا ہے کہ اب ان کی بوٹیوں سے جی نہیں بھرا تو ان کی ہڈیوں کی یخنی نکالنے کے درپے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صیہونی بلی لومڑی سے بھی زیادہ مکار نکلی جس نے برسوں پہلے اپنے خفیہ ایجنڈے کی وہ بساط بچھائی کہ دنیا آج تک اس کے سحر سے نہیں نکل سکی۔ کبھی اس نے ہولوکاسٹ کا سہارا لے کر مظلومیت کا ڈھونگ رچایا تو کبھی خود کو خدا کی چنی ہوئی سب سے اعلیٰ نسل قرار دے کر باقی دنیا کو اپنے قدموں تلے روندنے کا جواز ڈھونڈ نکالا۔ اس مکار بلی نے تو دنیا بھر کے ابلاغی ذرائع کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے تاکہ جب بھی وہ کسی معصوم کبوتر کی گردن دبوچے تو دنیا کو یہ یقین دلا سکے کہ کبوتر دراصل ایک خطرناک جانور ہے جو بلی کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔
ان بڑی صیہونی بلیوں نے تو اپنے ساتھ دوسری خونخوار بلیوں کا ایک ایسا غول تیار کر لیا ہے جو امن پسندی کا راگ الاپتے ہوئے کبوتروں کے لہو سے ہولی کھیلتی ہیں۔ گیارہ ستمبر جیسے واقعات کا تانا بانا خود بنا جاتا ہے اور اس کا سارا ملبہ اس بے چارے کبوتر پر ڈال دیا جاتا ہے جس کے پاس اڑنے کے لیے پر تو ہیں مگر اپنا دفاع کرنے کے لیے ناخن نہیں۔ ان مکار بلیوں نے ایپسٹین جیسی فائلوں کے ذریعے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے ہوس کے پجاری معصوم بچوں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور پھر اسی شیطان کے چرنوں میں سجدہ ریز ہو جاتے ہیں جس کے نام کی حکومتیں وہ دنیا بھر میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔
غزہ ہو یا سوڈان شام ہو یا مصر ہر جگہ ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے کہ جہاں کمزور کی ہڈیاں ہی کام آتی ہیں۔ ہم نے بچپن میں بزرگوں سے سنا تھا کہ ہڈیوں کا سرمہ بنایا جاتا ہے جو بینائی تیز کرتا ہے مگر اب تو ان بین الاقوامی قصابوں نے ہڈیوں کا سرمہ بنانا ایک عملی مشغلہ بنا لیا ہے۔ جب کبوتروں کے جسم کا سارا گوشت یہ طاقتور بلیاں نوچ لیتی ہیں تو پھر ان کی ہڈیوں کو پیٹ کر اپنی طاقت کا سکہ جماتی ہیں۔
تعجب تو اس بات پر ہے کہ یہ بلیاں خود کو امن کا علمبردار کہتی ہیں اور بڑی بڑی انجمنیں بنا کر کبوتروں کے حقوق کی حفاظت کا ناٹک کرتی ہیں۔ ان کا شعار تو اب صرف خدمت رہ گیا ہے مگر یہ خدمت کبوتر کی نہیں بلکہ اس صیہونی نظام کی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ان طاقتور ممالک نے غریب قوموں کو بھوکا ننگا رکھ کر ان کی پروازیں چھین لیں اور اب ان کے پاس صرف ہڈیاں ہی بچی ہیں جن پر یہ صیہونی شکاری اپنی دانت تیز کر رہے ہیں۔
دنیا کا یہ عجیب تماشہ ہے کہ یہاں بلی کبوتر کا شکار کرنے کے بعد خود ہی اس کا ماتم بھی کرتی ہے اور پھر کبوتروں کی بستی میں امداد کے نام پر وہ زہر بھیجتی ہے جو ان کی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کر دے۔ یہ صیہونی بلی اتنی چالاک ہے کہ اس نے کبوتروں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ان کا بچاؤ اسی میں ہے کہ وہ اپنی آنکھیں بند رکھیں تاکہ انہیں اپنا انجام نظر نہ آئے۔ لیکن اب کبوتروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آنکھیں بند کرنے سے بلی غائب نہیں ہوتی بلکہ شکار ہونا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔
اس عالمی سیاست کے کھیل میں اخلاقیات کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے اور اب صرف وہ قانون باقی ہے جس میں بڑی بلی کو ہر اس کبوتر کو ہڑپ کرنے کی اجازت ہے جو اس کے ایجنڈے کے سامنے رکاوٹ بنے۔ صیہونیت کا یہ جال اتنا گہرا ہے کہ اس نے کبوتروں کے دانہ دنکا پر بھی پہرے بٹھا دیے ہیں تاکہ وہ اتنے کمزور ہو جائیں کہ اڑنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔ ان کا مقصد صرف گوشت کھانا نہیں بلکہ ان کبوتروں کی روح تک کو غلام بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ہڈیاں خشک کر کے ان کے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں۔
مگر یاد رہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سبق ہے کہ کتنی ہی مکار بلیاں آئیں اور کبوتروں کا لہو پی کر رخصت ہو گئیں لیکن کبوتروں کی نسل آج بھی باقی ہے۔ یہ صیہونی ٹولہ چاہے کتنے ہی مکارانہ جال کیوں نہ بن لے اور چاہے کتنے ہی کبوتروں کی ہڈیوں سے اپنی پیاس کیوں نہ بجھائے ایک دن ان کا یہ غرور بھی خاک میں مل جائے گا۔ اب کبوتروں کو آنکھیں بند کرنے کے بجائے اپنے پروں میں وہ طاقت پیدا کرنی ہوگی جو ان شکاری بلیوں کی آنکھیں خیرہ کر دے اور اس صیہونی نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بین
  • ماں
  • بچنی
  • الوداع ڈاکٹر بشیر بدر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
پچھلی پوسٹ
آپریشن غضب للحق

متعلقہ پوسٹس

انسان کے باطن کو جگانے والا مہینہ

فروری 21, 2026

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

توکل کیا ھے؟

نومبر 5, 2025

اِس مُلک سے اب صِرف اتنی

جنوری 6, 2026

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

درک – رویہ سازی | تمنا کے دو حصّے

جولائی 21, 2026

گرہ کھلنے تک کا تنقیدی جائزہ

اپریل 27, 2025

محبت کی ریت میں

دسمبر 6, 2024

ایسا عجیب غصہ تھا کہ آ گ لگ گئی

دسمبر 12, 2025

دریچے درد کے جب وا ہوئے

جنوری 22, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قدرت کا نازک رقاص

نومبر 24, 2024

سیب کا درخت

مئی 20, 2020

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی...

اگست 31, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں