31
تیر کس کی کماں سے نکلا ہے
سا منے شیر خوار بچہ ہے
دیکھ ! نہر فرات دیکھ ! ذرا
کون پیاسا ہے ؟ کون پیاسا ہے ؟
میرے سینے میں آگ جلتی ہے
میری آنکھوں میں ایک دریا ہے
میں ہوں تیر ے خیال کا چہر ہ
تو مجھے کیسے بھول سکتا ہے ؟
ہم جلائیں گے آنسوؤں کے چراغ
آج پھر دشتِ غم میں میلہ ہے
بس زباں میر ـؔ سی نہیں آتی
حال دل کا تو میر ؔ جیسا ہے
موت باطل کی دوستی ہے کلیم ؔ
زندگی کربلا میں لڑنا ہے
کلیم احسان بٹ
