خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسگنل
آپ کا سلاماردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

سگنل

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2025 0 تبصرے 60 مناظر
61

” بھائی جان! ہیلمٹ لیتے جائیں۔ فائن ہوجائے گا ” یہ آواز میری بہن کی تھی جو مجھے ہیلمٹ پہننے کی تلقین میں اپنا فضول وقت ضائع کرر رہی تھی ، مگر میں نے اُسے یہ کہہ کر روک دیا،” ہونہہ۔ ہیلمٹ ۔ ابے جا پگلی ۔ میں پاکستان میں رہتا ہوں کوئی یورپ میں نہیں رہتا جو پولیس میرا فائن کردے گی ” اور گھر سے موٹر سائیکل کو کک مار کے نکل گیا۔ میں اپنی بہن کے الفاظ اور سادگی پر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ اس نے تو آج بالکل میرےhalmet دوستوں والی بات کردی ہے۔میرے یار دوست جو اکثر بیرونی ممالک میں مقیم ہیں اُن سے جب بھی فون پر بات ہوتی ہے یا بالمشافہ ملاقات کا موقع ملتا ہے ، ایک دکھ مشترک سُننے کو ملتا ہے ” بھائی ! اس بار تین ہزار پاؤنڈ تو ٹریفک کا فائن بھر کے آیا ہوں۔ ارے صاحب! کیا پوچھتے ہو ادھر گاڑی چلاتے ہوئے تھوڑی غلطی ہوئی نہیں کہ اُدھر جرمانے کی رسید ملی نہیں۔ بس بھائی! تمہاری تو موجیں لگی ہیں موجیں۔ پاکستان نہیں جنت میں رہ رہے ہو۔ کبھی ادھر آؤ تو لگ پتہ جائے” وغیرہ وغیرہ۔ سچ پوچھیے تو مجھے ایسی خبریں سُن کر اندر سے ایک عجب سی خوشی محسوس ہوتی جو پاکستان سے باہر نہ جاسکنے کے دکھ پر مرہم کا کام دیتی۔ میں اکثر اپنے دوستوں کو بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے یا اشارہ توڑ کے وکٹری کا نشان بنانے کی ویڈیوز بنا کر بھیجتا رہتا تھا تاکہ اُن کا کلیجہ جلتا رہے اور میرااُن کی آہیں سُن کر ٹھنڈا ہوتا رہے۔ میں اس قانون شکن زندگی سے لطف اٹھاتا خزاں میں بہار کے گیت گارہا تھا اور زندگی کی تمام مسرتوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا کہ اچانک کسی دشمن یا زیادہ قرینِ قیاس کسی دوست کی نظر لگ گئی اور سب کچھ یوں بدل گیا جیسے انقلاب آکر ملکوں کے نقشے اور عوام کے حالات بدل دیتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی سے ٹی وی کو بیس سال پہلے تین طلاق دے کر یوں خارج کردیا تھا کہ اب ٹی وی تو درکنار کسی سیاسی یوٹیوب چینل کو بھی نہیں سنتاجس کی وجہ سے میری دماغی اور جسمانی صحت عام اوسط پاکستانی سے قدرے پانچ فیصد بہتر ہے ۔ میرے نزدیک پاکستان میں بلڈ پریشر، شوگر، ہارٹ اٹیک اور خود کشی کی سب سے بڑی وجہ یہ سیاسی خبریں اور سیاسی ٹاک شوز ہیں جن کو فورا بند کرکے اُن کی جگہ دیگر مفید پروگرام جیسے جوڑوں میں بیٹھنے کا چلہ اور اُس کے ورد ، دماغ کی دہی بنانے کے طریقے، بٹیر بازی کے میچ پر جوا لگانے کا صحیح وقت معلوم کرنے کا زائچہ بنانا اور گھریلو موٹر ائینڈنگ کورس وغیرہ شروع کردیے جائیں تاکہ ہمارے بچے اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر یورپ امریکہ اور چائنا کی تیز رفتار ترقی کا مقابلہ کرسکیں۔signal جی تو صاحب! میں عرض کر رہا تھا کہ کیونکہ میں دماغی اور جسمانی صحت کو بہتر رکھنے کیلئے سماجی روابط کی ویب سائیٹس اور ٹی وی سے کوسوں دور ہوں لیکن یہ دوری ایک دن مالی نقصان کی صورت میں سامنے آئے گی اس کا اندازہ بالکل نہیں تھا۔
میں اپنی دھن میں موٹر سائیکل چلاتا اُس چیک پوسٹ پر جب پہنچا جہاں ہمیشہ وارڈن صاحب کے پاس سے ون ویلنگ کرکے اُن کی بے بسی پر قہقہہ لگاتے گزرتا تھا تو خلافِ معمول ناکہ لگا ہوا دیکھا جس کا فرنٹ مورچہ اُنہی وارڈن صاحب نے سنبھالا ہوا تھا۔ میں نے اچانک جو بریک لگائی تو سیدھا اُن کے قدموں پر گرتے گرتے بچا۔اُنہوں نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے پوچھا،” سنا پھر کاکا۔ کیا حال ہے؟”۔ اُن کے چہرے پر جو خاص شیطانی اور وحشیانہ سی مسکراہٹ دیکھی تو دل نے یہی کہا،” آج انداز بدلے بدلے سے کیوں ہیں ساجن کے”۔ساجن کے بگڑے اندازوں کا اُس وقت پتہ چلا جب اُنہوں نے پوچھا،” بلو! ہیلمٹ کدھر ہے تیرا”۔ اُن کی بات سُن کر بہن کے وہ الفاظ کانوں میں گونجنا شروع ہوگئے،” بھائی جان ہیلمٹ لیتے جائیں۔ فائن ہوجائے گا”۔
” جی وہ اصل میں مجھے سانس کی دائمی بیماری ہے۔ ڈاکٹر نے ہیلمٹ پہننے سے منع کر رکھا ہے۔ ورنہ گھر میں پڑا ہوا ہے ۔ بالکل نیا ہیلمٹ”۔ میں نے اپنی دانست میں بہت ہی عمدہ بہانہ تراشا تھا جس کے بعد مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے ” خصوصی طبی استثنیٰ” دے کر جانے دے گا مگر وہ خواب ہی کیا جن کی تعبیر مل جائے۔” باؤ! کوئی بات نہیں۔ وہ بڑے ڈاکٹر صاحب کھڑے ہیں وہ ایک ہی نسخہ دیں گے انشاء اللہ سانس کے ساتھ ساتھ باقی بیماریاں بھی جڑ سے ختم ہوجائیں گی”۔ اُس نے ایک نہایت موٹے بھائی صاحب کی طرف اشارہ کیا جن کو دیکھ کر پہلا خیال یہی آیا کہ ان کے جنازے کو اٹھائے گا کون۔ مگر یہ سب مستقبل بعید کی باتیں تھیں اور مجھے صیغہ حال میں رہتے ہوئے اُن سے ملاقات کرنی تھی۔ میں اُن کے پاس گیا پوری سنجیدگی سے سلام کیا اور خود سے کہہ دیا کہ جی وہ سانس کی بیماری ہے۔ اُنہوں نے نہایت مشفقانہ انداز میں مجھے دیکھا پھر کچھ سوچا اور اُس کے بعد بیاض کا صفحہ کھول کر میرا نام پتہ حلیہ شناخت وغیرہ سب نوٹ کرکے نہایت چابکدستی سے وہ صفحہ پھاڑا اور میرے حوالے کیا جس پر درج جرمانے کو دیکھ کر میری تو سانس اکھڑ گئی۔قصہ مختصر میں اُن سے رسید لیکر نکلا اور جب واپس موٹر سائیکل کو کک ماری تو وہی وارڈن صاحب بولے،” سناؤ پھر ملی سانس کی پھکی؟”۔ میں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور بوجھل دل کے ساتھ پہلے بازار سے ہیلمٹ لیا، پھر جرمانہ جمع کروایا اور آخر منہ لٹکائے گھر لوٹ آیا۔اُس کے بعد ہیلمٹ اور میں یک جان دو قالب ہوگئے گویا ہیلمٹ میرے لئے ایسے ہوگیا جیسے رانجھے کیلئے ہیر اور سسی کیلئے پنوں۔
ایک دن مگر میرے جی نے ٹھانی کہ چلو آج اتوار کاا دن ہے تو کیوں نا اشارہ توڑ کر بھاگنے کی دم توڑتی روایت کااحیاء کیا جائے۔ یہ سوچ دماغ میں آنے کی دیر تھی کہ ابا جان سے منت کرکے گاڑی لی اور اپنے مقرر کردہ راستوں سے پوری ایمانداری کے ساتھ اشارے توڑتا ہوا پولیس کی سادگی پہ ہنستا ہوا اور اشارے پہ رک کر اشارہ کھلنے کے انتظار میں رکنے والوں کی سادگی پر چار حرف بھیجتا ہواشہر بھر کی آوارہ گردی کرنے کے بعد جب گھر پہنچا تو دروازے پر ابا جان قدس اللہ سرہ دام اقبالہ وہ چھڑی اٹھائے میرے استقبال کیلئے کھڑے تھے جس سے مجھے میٹرک تک باقاعدگی سے وہ سیدھا کرتے رہے ہیں۔ وہ چھڑی جس کا نام والد ماجد نے ” ہدایت بخش” تفویض فرما رکھا تھا اُسے دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہوگئے کہ ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی جو گوشہ گمنای میں پڑا ” ہدایت بخش” ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر نمودار ہوگیا ہے۔اُن کی آنکھوں سے نکلتے سرخ سگنلز بتا رہے تھے کہ آج سگنل سگنل کا میچ ہونے والا ہے۔ میں گھر آیا گاڑی کو اپنی مقرر کردہ جگہ پر پارک کیا اور پھر ہدایت حاصل کرنے کیلئے ” ہدایت بخش” کے پاس پہنچ گیا۔ قبلہ حضور کو سلام کیا اُنہوں نے جواب میں بس اتنا کہا ،” کتنے سگنل توڑ کے آیا ہے؟”، اور پھر ” ہدایت بخش” کے ساتھ سلامتی کی ڈھیروں دعائیں دے کر مجھے کمرے تک رخصت کیا ۔ میں کمرے میں سیدھا جاکر پلنگ پر ڈھیر ہوگیا اورپھر مجھے کچھ یاد نہ رہا کہ ” ہدایت بخش” کا جادو جسم کے کون کون سے حصے پر چلا ہے۔ اگلی صبح جب نیند آور ” ہدایت بخش” کا اثر ختم ہوا تو اُس وقت انگ انگ دکھ رہا تھا اور ہر سانس ” اوئی اللہ جی۔ اوئی اللہ جی” پکار رہی تھی۔ میری والدہ اور بہن صاحبہ میرے پاس آئیں اور یہ خوشخبری سنا ئی کہ کل جو ٹریفک سگنلز توڑنے پر فائن کے میسجز قبلہ والد جان مدظلہ العالی کو ملے ہیں اُن کو ادا کرنے کا اب یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم گاڑی بیچ دیں سو آج وہ گاڑی بیچنے چلے گئے ہیں تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گا سگنل، مم میرا مطلب بانسری۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں تیرے دیدار کی
  • شادیوں پر فضول خرچی — روایت یا مصیبت؟
  • ”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج
  • زندگی میں اک موڑ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا نقصان
پچھلی پوسٹ
تمام خوابوں کی تعبیر

متعلقہ پوسٹس

پاکستانی فوج کی داستان

مارچ 20, 2026

نہ سہی گر شبِ وصال نہیں

دسمبر 12, 2025

کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد

فروری 6, 2026

ملا نصیر الدین

مئی 10, 2020

تعلیمی میدان

جنوری 24, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

اعداد و شمار کا پاکستان

جنوری 2, 2026

جو لفظ ہیں مہمل وہ معانی نہیں دیتے

دسمبر 19, 2025

کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟

اپریل 26, 2026

سیاہی کے نقوش اور خلوص کی کائنات

مارچ 12, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستانی فوج کی داستان

مارچ 20, 2026

معدہ (طب نبویﷺ کی روشنی میں)

اپریل 29, 2026

مصائب کو چھپانا جانتا ہے

فروری 20, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں