100
جو لفظ ہیں مہمل وہ معانی نہیں دیتے
کم ظرف ہیں پیاسوں کو بھی پانی نہیں دیتے
یہ عشق کبھی ان کی کہانی نہیں لکھتا
جو لوگ محبت میں جوانی نہیں دیتے
پھر اس نے نیا زخم یہی کہہ کے دیا ہے
تحفے میں کوئی چیز پرانی نہیں دیتے
گریے کے بھی آداب ہُوا کرتے ہیں اے دل !
آنکھوں کو کبھی اتنی روانی نہیں دیتے
زندہ ہیں کئی قسم کے کردار بھی مجھ میں
حالات کبھی جن کو کہانی نہیں دیتے
صدقے میں ہم اشعار تو دیدیتے ہیں طارق
لیکن کبھی اندازِ بیانی نہیں دیتے
ڈاکٹر طارق قمر لکھنئو
