411
کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک
ہم نہ دیکھیں گے عمارت کو کھنڈر ہونے تک
تم تو دروازہ کھلا دیکھ کے در آئے ہو
تم نے دیکھا نہیں دیوار کو در ہونے تک
چپ رہیں آہ بھریں چیخ اٹھیں یا مر جائیں
کیا کریں بے خبرو تم کو خبر ہونے تک
ہم پہ کر دھیان ارے چاند کو تکنے والے
چاند کے پاس تو مہلت ہے سحر ہونے تک
حال مت پوچھیے کچھ باتیں بتانے کی نہیں
بس دعا کیجے دعاؤں میں اثر ہونے تک
سگ آوارہ کے مانند محبت کے فقیر
در بدر ہوتے رہے شہر بدر ہونے تک
آپ مالی ہیں نہ سورج ہیں نہ موسم پھر بھی
بیج کو دیکھتے رہیے گا ثمر ہونے تک
دشت خاموش میں دم سادھے پڑا رہتا ہے
پاؤں کا پہلا نشاں راہگزر ہونے تک
فانی ہونے سے نہ گھبرائیے فارسؔ کہ ہمیں
ان گنت مرتبہ مرنا ہے امر ہونے تک
رحمان فارس
