561
سفر میں دھوپ رہی سائبان ہوتے ہوئے
کہ بے نشان گئے ہم نشان ہوتے ہوئے
جو مجھ میں کھیلتا رہتا تھا مر گیا لڑکا
ستم تو یہ ہے مرا بھی جوان ہوتے ہوئے
گزر رہی ہے مری عمر سخت محنت میں
میں اُڑ رہا ہوں پروں میں تکان ہوتے ہوئے
عجیب چپ سی لگی ہے تمہارے بعد ہمیں
سخن بھی کر نہیں سکتے زبان ہوتے ہوئے
اب اس کے بعد مجھے گفتگو میں مت رکھنا
میں تھک چکا ہوں مسلسل بیان ہوتے ہوئے
