خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامباغ علی باغی (قسط اول)
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرپیر انتظار حسین مصور

باغ علی باغی (قسط اول)

از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2026 0 تبصرے 50 مناظر
51

​سورج سوا نیزے پر تھا اور بستی کے کچے مکانوں سے اٹھنے والی تپش فضا کو بوجھل بنا رہی تھی۔ دھول کی ایک ضخیم اور دبیز تہہ یہاں کے ہر در و دیوار پر جمی ہوئی تھی—بالکل ویسے ہی جیسے یہاں کے بسنے والوں کی تقدیر پر دہائیوں سے محرومی، بے بسی اور غلامی کی گرد جمی تھی۔ یہ وہ بستی تھی جہاں کے لوگ جینا نہیں بلکہ صرف سانس لینا جانتے تھے، اور جہاں خواب دیکھنا ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا نسلوں کو بھگتنی پڑتی تھی۔

​بستی کے آخری سرے پر، جہاں سے کچے اور گرد آلود راستے نمبردار کی عالیشان حویلی کی طرف مڑتے تھے، ایک قدیم اور بوڑھا پیپل کا درخت اپنی جڑیں پھیلائے کھڑا تھا۔ اس کی گھنی اور سیاہ چھاؤں اس جھلسائی ہوئی بستی میں سکون کا آخری استعارہ تھی۔ اسی پیپل کے نیچے وہ شخص بیٹھا تھا جسے سب "باغی” کہتے تھے۔ یہ نام اسے کسی خاندانی شجرے یا وراثت میں نہیں ملا تھا، بلکہ اس نے اپنی غیرت اور خودداری کی وہ بھاری قیمت چکا کر کمایا تھا جس کا تصور بھی بستی کا کوئی دوسرا فرد نہیں کر سکتا تھا۔

​آج بستی کی فضا میں ایک عجیب سا تناؤ اور حبس تھا۔ نمبردار کے کارندے، خان صاحب نے حویلی کا وہ جابرانہ پیغام پہنچایا تھا جو دراصل ایک موت کا پروانہ تھا۔ نمبردار چاہتا تھا کہ بستی کا یہ پڑھا لکھا نوجوان اس کے سیاسی جلسوں میں اس کی جھوٹی شان کے قصیدے لکھے اور ان غریبوں کا استحصال کرنے میں اس کا آلہِ کار بنے۔

​”باغی! یاد رکھ، یہ سرکشی تجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ مٹ جائے گا تو اور تیرا نام و نشان بھی مٹ جائے گا! نمبردار کی چوکھٹ پر سر جھکانا سیکھ لے، ورنہ یہ زمین تیرے لیے اتنی تنگ کر دی جائے گی کہ تجھے قبر کے لیے دو گز جگہ بھی میسر نہیں ہوگی۔” کارندے کے لہجے میں فرعونیت کی بو اور حقارت کی چاشنی نمایاں تھی۔

​باغی نے خاموشی سے اپنی شکستہ مگر اجلی واسکٹ کے بٹن درست کیے۔ اس کی آنکھیں تپتے ہوئے صحرا کی طرح روشن تھیں، مگر ان میں خوف کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ اس نے اپنی مخصوص عقابی نظریں اٹھائیں، کارندے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور ایک گہرے ٹھہراؤ کے ساتھ بولا:

​”خان صاحب! اپنی حویلی میں جا کر اپنے آقا سے کہہ دینا کہ پیوند لگی قمیض بدن کے عیب تو ڈھانپ لیتی ہے، مگر ضمیر پر لگا ہوا داغ تاریخ کے کسی دریا سے نہیں دھلتا۔ میں فاقہ کشی تو قبول کر سکتا ہوں، میں کئی کئی دن بھوکا سو سکتا ہوں، لیکن اپنی انا، اپنی غیرت اور اپنا قلم تمہاری حویلی کی سنگلاخ اور غلیظ دہلیز پر قربان نہیں کر سکتا۔ میری خودداری کا سودا تمہارے بس کی بات نہیں۔”

​وہاں موجود بستی کے لوگ ششدر رہ گئے۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ فاقوں سے نبرد آزما یہ دبلا پتلا نوجوان، جس کے پاس کل کائنات صرف چند بوسیدہ کتابیں اور ایک ٹوٹا ہوا قلم ہے، وہ یوں وقت کے جابر کو للکارے گا۔ یہ محض ایک انکار نہیں تھا، یہ ایک نئی داستان کا دیباچہ تھا—وہ داستان جو پیر انتظار حسین مصور کے قلم سے نکلی وہ آواز تھی جو ہر مظلوم کے دل کی پکار بننے والی تھی۔

​نمبردار کے کارندے کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ طیش میں بھرا ہوا واپس مڑا، مگر پیچھے ایک ایسا بیج بو گیا جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت بننا تھا۔ بستی میں اب ایک خاموش خوف طاری تھا، جیسے طوفان سے پہلے کا سکون ہو۔ لوگ باغی کو ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی زندہ لاش ہو، کیونکہ نمبردار کی مخالفت کا مطلب اپنی ہستی مٹانا تھا۔

​باغی وہاں سے اٹھا اور اپنے اس کچے حجرے کی طرف چل پڑا جہاں کتابوں کا ایک چھوٹا سا جہان آباد تھا۔ اس کا کمرہ کیا تھا، علم و دانش کا ایک مزار تھا جہاں مارکس، منٹو، فیض اور واصف علی واصف کی روحیں بستی تھیں۔ اسے یاد آیا جب اسے بچپن میں اسکول سے نکالا گیا تھا کیونکہ اس کے باپ کے پاس نئی وردی کے پیسے نہیں تھے اور ماسٹر نے اسے "کمی کا پتر” کہہ کر پوری کلاس کے سامنے ذلیل کیا تھا۔ اس دن وہ رویا نہیں تھا، بلکہ اس نے تپتی ریت پر لکڑی کے ایک ٹکڑے سے اپنا نام لکھا تھا۔ وہی دن تھا جب اس کے اندر کا "باغی” بیدار ہوا تھا۔

​گھر پہنچتے ہی اسے اپنی ماں کی نحیف اور لرزتی ہوئی کھانسی سنائی دی، جو برسوں سے تپِ دق (ٹی بی) کی مریضہ تھی اور غربت کی وجہ سے دوا کے بجائے صرف دعاؤں اور صبر کی تسبیح پر جی رہی تھی۔

​”باغی پتر! تو نے پھر سے ان وڈیروں سے بیر لے لیا؟” ماں نے مصلے پر بیٹھے ہوئے پوچھا، اس کی آنکھوں میں ممتا کی فکر اور زندگی بھر کی تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔

​باغی نے جھک کر ماں کے قدم چھوئے اور نہایت ادب و محبت سے عرض کیا:

"امی جان! اگر آج میں نے ان ظالموں کے سامنے خاموشی اختیار کر لی تو بستی کے باقی بچے بھی غلامی کی اسی تاریک کوٹھڑی میں آنکھ کھولیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اس مٹی کے سپرد ہوں، تو یہ زمین گواہی دے کہ اس کے سینے میں دفن ہونے والا شخص کسی کے سامنے جھکا نہیں تھا۔ حق کی گواہی دینا ہی میری زندگی کا مقصد ہے۔”

​اسی رات، جب پوری بستی گہری نیند سو رہی تھی، باغی نے اپنا وہ پرانا لیپ ٹاپ کھولا جسے اس نے شہر کے ایک کباڑی بازار سے محنت مزدوری کر کے خریدا تھا۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار لہروں کے درمیان اس نے اپنے بلاگ پر "پیر قلم کی چھاپ” کے عنوان سے ایک نئی تحریر کا آغاز کیا:

​”عنوان: میرا قصور… میری خودداری”

​اس تحریر کا پہلا جملہ ہی ایوانوں میں لرزہ طاری کرنے والا تھا:

​”جس معاشرے میں انصاف کی منڈی لگی ہو اور جہاں قلم و ضمیر کی بولیاں لگتی ہوں، وہاں بغاوت ہی سب سے بڑی عبادت بن جاتی ہے۔”

​یہ وہ لمحہ تھا جب باغی کو خبر نہ تھی کہ اس کی یہ تحریر اس کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔ اسے اس بستی سے نکل کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہونا تھا جہاں لاہور کی بے رحم سڑکیں، طالیہ کی بے بسی، وقار کی سنگدلی اور ڈاکٹر احد کا فلسفہ اس کا منتظر تھا۔ ایک ایسا سفر جس کے اختتام پر اسے اپنی یادداشت، اپنی محبت اور اپنی جان ہارنی تھی، مگر ایک ایسی وصیت چھوڑ جانی تھی جو رہتی دنیا تک غریبوں کا سہارا بننے والی تھی۔

آنے والی قسط میں کیا ہوگا؟

مگر کیا ایک کچی بستی کا یہ خوددار نوجوان لاہور جیسے سنگدل شہر کی بے رحم موجوں کا مقابلہ کر پائے گا؟ کیا "باغی” کا یہ قلم وقت کے فرعونوں کی چکا چوند اور نوٹوں کی کھنک کے سامنے اپنی حرمت برقرار رکھ سکے گا یا پھر حالات کی چکی اسے بھی ایک "لفافہ لکھاری” بننے پر مجبور کر دے گی؟ طالیہ کی زندگی میں باغی کا داخلہ کیا رنگ لائے گا اور کیا وقار کی سازشیں اس پاکیزہ جذبے کو کچل دیں گی؟

جاننے کے لیے پڑھیے "باغ علی باغی” کی اگلی سنسنی خیز قسط، صرف سلام اردو پر!

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محبت کے بادل
  • خشت و گل
  • فلسطین میں امن کو موقع دو
  • بلی کی بند آنکھیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پیٹرول کا نیا بوجھ – عوام کا مسئلہ
پچھلی پوسٹ
کشتی اُلٹتا، موجِ مہ و سال کھینچتا

متعلقہ پوسٹس

اجنبی آنکھیں

اپریل 25, 2019

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

قسط وار ناول بہرام: پہلی قسط

جولائی 31, 2022

نسوانیت کا استحصال

مئی 18, 2024

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

دسمبر 15, 2019

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

گریہ زاری کے لیے اور دہائی کے لیے

فروری 20, 2026

انسانوں پرخدامت بنو

مئی 22, 2021

نقشِ دلبر بہ دستِ قلم

دسمبر 15, 2024

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

مارچ 1, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرحدی کارروائیوں کی روشن مثال

فروری 22, 2026

ماں تیری ممتا

جون 29, 2020

جوار کی کاشت و دیکھ بھال

مئی 19, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں