سورج سوا نیزے پر تھا اور بستی کے کچے مکانوں سے اٹھنے والی تپش فضا کو بوجھل بنا رہی تھی۔ دھول کی ایک ضخیم اور دبیز تہہ یہاں کے ہر در و دیوار پر جمی ہوئی تھی—بالکل ویسے ہی جیسے یہاں کے بسنے والوں کی تقدیر پر دہائیوں سے محرومی، بے بسی اور غلامی کی گرد جمی تھی۔ یہ وہ بستی تھی جہاں کے لوگ جینا نہیں بلکہ صرف سانس لینا جانتے تھے، اور جہاں خواب دیکھنا ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا نسلوں کو بھگتنی پڑتی تھی۔
بستی کے آخری سرے پر، جہاں سے کچے اور گرد آلود راستے نمبردار کی عالیشان حویلی کی طرف مڑتے تھے، ایک قدیم اور بوڑھا پیپل کا درخت اپنی جڑیں پھیلائے کھڑا تھا۔ اس کی گھنی اور سیاہ چھاؤں اس جھلسائی ہوئی بستی میں سکون کا آخری استعارہ تھی۔ اسی پیپل کے نیچے وہ شخص بیٹھا تھا جسے سب "باغی” کہتے تھے۔ یہ نام اسے کسی خاندانی شجرے یا وراثت میں نہیں ملا تھا، بلکہ اس نے اپنی غیرت اور خودداری کی وہ بھاری قیمت چکا کر کمایا تھا جس کا تصور بھی بستی کا کوئی دوسرا فرد نہیں کر سکتا تھا۔
آج بستی کی فضا میں ایک عجیب سا تناؤ اور حبس تھا۔ نمبردار کے کارندے، خان صاحب نے حویلی کا وہ جابرانہ پیغام پہنچایا تھا جو دراصل ایک موت کا پروانہ تھا۔ نمبردار چاہتا تھا کہ بستی کا یہ پڑھا لکھا نوجوان اس کے سیاسی جلسوں میں اس کی جھوٹی شان کے قصیدے لکھے اور ان غریبوں کا استحصال کرنے میں اس کا آلہِ کار بنے۔
”باغی! یاد رکھ، یہ سرکشی تجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ مٹ جائے گا تو اور تیرا نام و نشان بھی مٹ جائے گا! نمبردار کی چوکھٹ پر سر جھکانا سیکھ لے، ورنہ یہ زمین تیرے لیے اتنی تنگ کر دی جائے گی کہ تجھے قبر کے لیے دو گز جگہ بھی میسر نہیں ہوگی۔” کارندے کے لہجے میں فرعونیت کی بو اور حقارت کی چاشنی نمایاں تھی۔
باغی نے خاموشی سے اپنی شکستہ مگر اجلی واسکٹ کے بٹن درست کیے۔ اس کی آنکھیں تپتے ہوئے صحرا کی طرح روشن تھیں، مگر ان میں خوف کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ اس نے اپنی مخصوص عقابی نظریں اٹھائیں، کارندے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور ایک گہرے ٹھہراؤ کے ساتھ بولا:
”خان صاحب! اپنی حویلی میں جا کر اپنے آقا سے کہہ دینا کہ پیوند لگی قمیض بدن کے عیب تو ڈھانپ لیتی ہے، مگر ضمیر پر لگا ہوا داغ تاریخ کے کسی دریا سے نہیں دھلتا۔ میں فاقہ کشی تو قبول کر سکتا ہوں، میں کئی کئی دن بھوکا سو سکتا ہوں، لیکن اپنی انا، اپنی غیرت اور اپنا قلم تمہاری حویلی کی سنگلاخ اور غلیظ دہلیز پر قربان نہیں کر سکتا۔ میری خودداری کا سودا تمہارے بس کی بات نہیں۔”
وہاں موجود بستی کے لوگ ششدر رہ گئے۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ فاقوں سے نبرد آزما یہ دبلا پتلا نوجوان، جس کے پاس کل کائنات صرف چند بوسیدہ کتابیں اور ایک ٹوٹا ہوا قلم ہے، وہ یوں وقت کے جابر کو للکارے گا۔ یہ محض ایک انکار نہیں تھا، یہ ایک نئی داستان کا دیباچہ تھا—وہ داستان جو پیر انتظار حسین مصور کے قلم سے نکلی وہ آواز تھی جو ہر مظلوم کے دل کی پکار بننے والی تھی۔
نمبردار کے کارندے کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ طیش میں بھرا ہوا واپس مڑا، مگر پیچھے ایک ایسا بیج بو گیا جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت بننا تھا۔ بستی میں اب ایک خاموش خوف طاری تھا، جیسے طوفان سے پہلے کا سکون ہو۔ لوگ باغی کو ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی زندہ لاش ہو، کیونکہ نمبردار کی مخالفت کا مطلب اپنی ہستی مٹانا تھا۔
باغی وہاں سے اٹھا اور اپنے اس کچے حجرے کی طرف چل پڑا جہاں کتابوں کا ایک چھوٹا سا جہان آباد تھا۔ اس کا کمرہ کیا تھا، علم و دانش کا ایک مزار تھا جہاں مارکس، منٹو، فیض اور واصف علی واصف کی روحیں بستی تھیں۔ اسے یاد آیا جب اسے بچپن میں اسکول سے نکالا گیا تھا کیونکہ اس کے باپ کے پاس نئی وردی کے پیسے نہیں تھے اور ماسٹر نے اسے "کمی کا پتر” کہہ کر پوری کلاس کے سامنے ذلیل کیا تھا۔ اس دن وہ رویا نہیں تھا، بلکہ اس نے تپتی ریت پر لکڑی کے ایک ٹکڑے سے اپنا نام لکھا تھا۔ وہی دن تھا جب اس کے اندر کا "باغی” بیدار ہوا تھا۔
گھر پہنچتے ہی اسے اپنی ماں کی نحیف اور لرزتی ہوئی کھانسی سنائی دی، جو برسوں سے تپِ دق (ٹی بی) کی مریضہ تھی اور غربت کی وجہ سے دوا کے بجائے صرف دعاؤں اور صبر کی تسبیح پر جی رہی تھی۔
”باغی پتر! تو نے پھر سے ان وڈیروں سے بیر لے لیا؟” ماں نے مصلے پر بیٹھے ہوئے پوچھا، اس کی آنکھوں میں ممتا کی فکر اور زندگی بھر کی تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔
باغی نے جھک کر ماں کے قدم چھوئے اور نہایت ادب و محبت سے عرض کیا:
"امی جان! اگر آج میں نے ان ظالموں کے سامنے خاموشی اختیار کر لی تو بستی کے باقی بچے بھی غلامی کی اسی تاریک کوٹھڑی میں آنکھ کھولیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اس مٹی کے سپرد ہوں، تو یہ زمین گواہی دے کہ اس کے سینے میں دفن ہونے والا شخص کسی کے سامنے جھکا نہیں تھا۔ حق کی گواہی دینا ہی میری زندگی کا مقصد ہے۔”
اسی رات، جب پوری بستی گہری نیند سو رہی تھی، باغی نے اپنا وہ پرانا لیپ ٹاپ کھولا جسے اس نے شہر کے ایک کباڑی بازار سے محنت مزدوری کر کے خریدا تھا۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار لہروں کے درمیان اس نے اپنے بلاگ پر "پیر قلم کی چھاپ” کے عنوان سے ایک نئی تحریر کا آغاز کیا:
”عنوان: میرا قصور… میری خودداری”
اس تحریر کا پہلا جملہ ہی ایوانوں میں لرزہ طاری کرنے والا تھا:
”جس معاشرے میں انصاف کی منڈی لگی ہو اور جہاں قلم و ضمیر کی بولیاں لگتی ہوں، وہاں بغاوت ہی سب سے بڑی عبادت بن جاتی ہے۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب باغی کو خبر نہ تھی کہ اس کی یہ تحریر اس کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔ اسے اس بستی سے نکل کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہونا تھا جہاں لاہور کی بے رحم سڑکیں، طالیہ کی بے بسی، وقار کی سنگدلی اور ڈاکٹر احد کا فلسفہ اس کا منتظر تھا۔ ایک ایسا سفر جس کے اختتام پر اسے اپنی یادداشت، اپنی محبت اور اپنی جان ہارنی تھی، مگر ایک ایسی وصیت چھوڑ جانی تھی جو رہتی دنیا تک غریبوں کا سہارا بننے والی تھی۔
آنے والی قسط میں کیا ہوگا؟
مگر کیا ایک کچی بستی کا یہ خوددار نوجوان لاہور جیسے سنگدل شہر کی بے رحم موجوں کا مقابلہ کر پائے گا؟ کیا "باغی” کا یہ قلم وقت کے فرعونوں کی چکا چوند اور نوٹوں کی کھنک کے سامنے اپنی حرمت برقرار رکھ سکے گا یا پھر حالات کی چکی اسے بھی ایک "لفافہ لکھاری” بننے پر مجبور کر دے گی؟ طالیہ کی زندگی میں باغی کا داخلہ کیا رنگ لائے گا اور کیا وقار کی سازشیں اس پاکیزہ جذبے کو کچل دیں گی؟
جاننے کے لیے پڑھیے "باغ علی باغی” کی اگلی سنسنی خیز قسط، صرف سلام اردو پر!
پیر انتظار حسین مصور
