خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسانوں پرخدامت بنو
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسمیع اللہ خان

انسانوں پرخدامت بنو

از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2021
از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2021 0 تبصرے 80 مناظر
81

انسانوں پرخدامت بنو

تاریخ کے آئینے میں دیکھاجائے تو Greek Mythology میں Tiresiasقبل مسیح کاوہ کردارہے جس کی جنس مردسے عورت تبدیل ہوئی۔کہاجاتاہے کہ وہ سات برس تک عورت رہا۔ادبی دنیا میں اس کاذکرمشہورزمانہ یونانی ٹریجڈی Oedipus the Kingمیں Sophoclesنے کیاہے۔موجودہ دورمیں انسانی حقوق کی علمبردار ارون دھتی رائے کاناول The Ministry of Utmost Happinessخواجہ سراؤں کے حقوق کی جنگ لڑرہاہے۔علاؤالدین خلجی کے دورحکومت میں ملک کافورجیسی شخصیت کوفوج کے اہم ترین عہدے تک ترقی دی گئی جوکہ خواجہ سراہی تھے۔مغل ایمپائر اورعثمانیہ خلافت میں زنان خانے کے جملہ فرائض انھی کی ذمہ داری ہواکرتی تھی۔دنیامیں سب سے پہلے یہ سہراارجنٹینیاکے سرجاتاہے کہ اس نے 2012میں Gender identity Lawمتعارف کرواکراللہ کی اس سادہ مخلوق کے حقوق کوتسلیم کیااورانھیں تتحفظ فراہم کیا۔بنگلہ دیش میں 2013سے خواجہ سراؤں کوووٹ کاحق حاصل ہے اور نومبر2020میں ڈھاکامیں ”اسلامک تھرڈ جینڈراسکول“کھول کر150خواجہ سراؤں کیلئے دینی اورسائنسی تعلیم کے دروازے کھول دیئے گئے۔امریکی الیکشن 2020میں Sarah McBrideپہلی ٹرانسجینڈرسینیٹرمنتخب ہوئیں جبکہ Stephanie Byersپہلی State legislatureمنتخب ہوئیں۔حسنینؑ کے ناناﷺکاخُدافرماتاہے کہ(مفہوم)اللہ نے تمہیں ماں کے رحم میں شکل دی،جب خداہی جنس کامالک ہے توپھرتفریق کاہے کی۔
پاکستان دنیاکے ان چند ممالک میں سے ہے جنھوں نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے قانون سازی کی جسے بہترین بناناوقت کی اہم ضرورت ہے۔خواجہ سراؤں سے متعلق برطانوی ”کرمنل ٹرائب ایکٹ“کوپاکستان بننے کے بعدختم کردیاگیالیکن خواجہ سراؤں کی جدوجہد2009میں اُبھرکرسامنے آئی اورسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخارچودھری صاحب نے کہاکہ پاکستانی آئین کے مطابق شناختی کارڈ سمیت انھیں مفت بنیادی تعلیم،صحت،نوکری کے وہ تمام بنیادی حقوق بطورTransgenderحاصل ہیں جس پرعام شہری بھی حق رکھتاہے۔پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قراردیاکہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 4 اور9کے مطابق خواجہ سراؤں کے حقوق عام شہریوں کے مساوی ہیں۔نومبر2016میں جب ایک معتبراسلامی ملک سے صدابلندہوئی کہ حج پرخواجہ سراؤں کاحق نہیں جسے اسلامی سکالرجاویداحمدغامدی نے یہ کہتے ہوئے ردکردیاکہ یہ ہارمونز کی تبدیلی کے باعث رب کی طرف سے ہوتاہے۔ انھوں نے مزیدکہاکہ کلمہ پڑھنے والاخواجہ سرااُمت رسول ﷺ ہے اوراگروالدین اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرتے ہیں تووہ گناہگار ٹھہرتے ہیں۔پاکستانی تاریخ میں 2017میں پہلی مرتبہ ایساہواکہ مردم شماری میں خواجہ سراؤں کیلئے الگ سے ایک خانہ رکھا گیا اوراس طرح 10,418خواجہ سرارجسٹرڈہوئے۔ اس اعتبارسے پاکستان کی کُل آبادی میں ان کاتناسب 0.005فیصدبنتاہے لیکن یورپین اکیڈمک ریسرچ کے والیم چارکے ایشونمبردس پرموجودآرٹیکل Transgender Issues in Pakistani Community میں لکھاہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعدادڈیڑھ ملین کے قریب ہے، اس ریسرچ پیپرکے مطابق پاکستان کی کل آبادی کے دوفیصدحصے پرٹرانس جینڈرازم کے اثرات ہیں (صفحہ9048)۔
مئی 2018میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سیدنویدقمرصاحب نے پروٹیکشن آف رائٹس ایکٹ 2018قومی اسمبلی میں پیش کیاجسے اکثریتی ووٹوں کے ساتھ منظورکرلیاگیا۔اس بل کے تحت اٹھارہ سال کی عمرکے خواجہ سراکی جنس کاتعین وہ خودکرے گاجبکہ اس سے کم عمرخواجہ سراکی جنس کاتعین ڈاکٹرکرے گا۔وہ تبدیلی کے اثرات کے بعدبرتھ سرٹیفیکیٹ سمیت شناختی کارڈمیں جنس کی تبدیلی کی ترمیم کاحق بھی رکھتے ہیں۔تعریف کے مطابق وہ انسان خواجہ سراہیں جوکہ نہ تومکمل طورپرمردہیں نہ عورت۔اس بل کے تحت خواجہ سراؤں کوگھرمیں یاباہرکسی بھی قسم کی تفریق قابلِ گرفت ہے۔صحت،تعلیم، کاروبار سمیت جائیدادکے حقوق اوراس کی خریدوفروخت یہ عام شہری کی طرح کرسکتے ہیں۔ ان پرکسی بھی قسم کی زیادتی ہونے کی صورت میں مجرم کوچھ ماہ قید یاپچاس ہزارتک جرمانہ کیاجاسکتاہے۔اس قانون میں یہ بھی طے کیاگیاکہ جیلوں میں ان کیلئے الگ کمرے بنائے جائیں گے۔اس قانون کے منظورہونے سے قبل این بی سی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2015سے 2018تک 57ٹرانس وومنزکوقتل کردیاگیا۔دوسری جانب Human Rights Advocacy Group Transgender Europeکے مطابق دنیابھرمیں یکم جنوری 2008سے تیس ستمبر 2016تک 2264ایسے افرادکاقتل کیا گیا جوکہ ٹرانس جینڈرتھے یاجن کا جینڈرروایتی میل یا فی میل جیسانہ تھابلکہ پیچیدہ تھا۔مئی 2018میں ہی اخوت نے خواجہ سراسپورٹ پروگرام کاآغازکیاجوکہ قومی سطح پر خواجہ سراؤں کی بہبود کاپہلاپروگرام گرداناجاتاہے۔
فروری 2018میں لودھراں میں ایک خوبصورت قدم اُٹھایاگیااورلٹریسی ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے پہلے سرکاری سکول کااجراء کیاگیاجس میں بیس خواجہ سراؤں نے داخلہ لیا۔اس سے قبل اپریل 2015میں The Gender Guardianکے نام سے لاہور کے آصف شہزادنے پرائمری لیول سے لے کرکالج لیول تک سکول قائم کیا۔آصف شہزادکے مطابق Exploring Future Foundationنامی این جی اوکے تحت یہ ادارہ قائم کیاگیا۔ اس میں فیشن ڈیزائننگ،بیوٹیشن، ہیئرسٹائلنگ،گرافک ڈیزائننگ اورموبائل ریپئرنگ سمیت متعددفنی کورسز کابھی آغاز کیاگیاتاکہ انھیں باعزت روزگارمیسرآسکے۔خواجہ سراچونکہ روایتی طورپر رقص کی محفل سے جڑے ہوتے ہیں توان کیلئے ایسے سکولز ہونے چاہیئں جو دوپہرکوکھلیں تاکہ وہ رت جگے کاکفارہ اداکرکے باآسانی سکول جاسکیں۔ایسے سکولز سے پڑھے لکھے خواجہ سراؤں کوٹیچرجیسی مناسب نوکری بھی میسرآسکے گی۔
کہنے کوتوپاکستان کے آرٹیکل 26کے تحت خواجہ سراکھلی آزادی سے عوامی مقامات پرآجاسکتے ہیں لیکن معاشرتی رویے آج بھی نامناسب ہیں،پاکستان کے آئین کے پارٹ ٹوکے چیپٹرون کے تحت ٹرانس جینڈرزکوبھی fundamental rightsحاصل ہیں لیکن سستی ترین کریمیں اورمیک اپ کاادنیٰ سامان استعمال کرنے والے خواجہ سراکی اکثریت ایڈزجیسے موذی مرض کاشکارہوجاتی ہے اورکوئی ان کاپرسان حال نہیں ہوتا۔ریسرچ گیٹ پرموجودthe lancet series کے ایک ریسرچ پیپر(2016)کے مطابق ہندوستان میں 14.5 فیصد خواجہ سراایڈزکاشکارہیں جبکہ پاکستان میں یہ تناسب 17.5فیصدہے۔دوسری طرف پاکستان کے ایسے خواجہ سراجوبہ امرمجبوری ناجائزجسمانی تعلق کاشکارہیں ان میں سے 71فیصدایسے ہیں جوکہ اس نامناسب فعل کے دوران ایڈزسے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات ہی نہیں کرتے یاانھیں کرنے نہیں دیئے جاتے۔خواجہ سراؤں کوجسمانی تبدیلی کے بعدبہترین سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مفلسی کی وجہ سے وہ ذہنی اذیت، اجنبیت اورمعاشرتی ناقدریوں کاشکارہوکرسسک سسک کرجان دے دیتے ہیں چونکہ جسمانی تبدیلی جسے جینڈرڈس پوریابھی کہاجاتاہے ہارمونز میں ڈسٹربنس کی وجہ سے ہوتی ہے توٹرانس جینڈرکوہارمون تھریپی جیسے علاج کی بھی اشدضرورت ہوتی ہے لیکن تمام قوانین کی موجودگی میں وہ نیلی چھت تلے یہ سوچتے سوچتے ملک راہی عدم ہوتے ہیں کہ ہماراقصورکیاہے؟۔کروناوائرس کے دوران جب لوگ قرنطینہ ہورہے تھے تب جولی کے بیان سے روح کانپ گئی،وہ بولیں کہ دنیاکواب پتہ چلے گاتنہائی کی اذیت کیاہوتی ہے،ہم توہوش سنبھالتے ہی قرنطینہ جیسی کربناک صورتحال کاسامنے کررہے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اپنے ان بیٹے اوربیٹیوں کوتسلیم کرے اورانھیں اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کاباعزت مقام دیاجائے۔

سُرخیاں
مزدوراورخواجہ سرادوایسے طبقات ہیں جن کیلئے قومی وصوبائی اسمبلی میں Reserved Seatsہونی چاہئے کیونکہ یہ طبقے الیکشن لڑکرآگے آنے سے قاصرہیں
علیشہ،عائشہ اورچاکلیٹ نامی خواجہ سرا ایم فل کرچکی ہیں جبکہ فیضی AIOUسے ایم فل اردوکرنے والی ہیں۔نایاب علی پہلی پاکستانی ٹرانس ہیں جن کواپنی کمیونٹی کیلئے کام کرنے پر GALASایوارڈ سے نوازاگیا۔
محترمہ عائشہ مغل کواقوام متحدہ کی کمیٹی برائےCEDAWکیلئے منتخب کرکے پاکستان پہلاایساملک بن گیاجس نے قومی وفدبرائے اقوام متحدہ کیلئے ٹرانس کا انتخاب کیا
راولپنڈی وومن پولیس سٹیشن نے اپنے ٹرانس یونٹ کیلئے بطورپولیس آفیسرریم شریف کاانتخاب کرکے تاریخ رقم کردی

سائیڈ سٹوری
چاکلیٹ خیبرپختوانخواہ کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھتی ہیں۔انھوں نے بی اے اکنامکس اسلامیہ کالج پشاورسے کیا،بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری پرسٹن یونیوسٹی سے حاصل کی اوربعدازاں فنانس اوراکاؤنٹنگ میں ایم فل کیا۔علیشہ نے ایجوکیشن پلاننگ مینجمنٹ میں بہاؤالدین زکریایونیوسٹی سے ایم فل کیا۔علیشہ اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام میں کوارڈینیشن کنسلٹنٹ ہیں اور اس سے قبل وہ اینگروفوڈزکمپنی میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کے عہدے پرکام کرچکی ہیں۔تیسری ٹرانس جینڈرمحترمہ عائشہ مغل ہیں جنھوں نے ہیومن ریسورس میں COMSATS سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔عائشہ مغل کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ وہ پہلی ٹرانس جینڈرہیں جنھوں نے قائداعظم یونیورسٹی میں بطوروزٹنگ فیکلٹی ایک سال کام کیا۔ان کے علاوہ اگراس کمیونٹی کے روشن ستاروں کی بات کی جائے تولیلی علی پاکستان کی پہلی خواجہ سراہیں جنھیں ڈرائیونگ لائنسس ایشوکیاگیا۔مارویہ ملک پہلی ٹرانس جینڈرہیں جنھوں نے کوہ نورٹی وی میں بطورنیوز اینکراپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔نیشاراؤ پہلی پاکستانی وکیل خواجہ سراہیں۔انھوں نے کراچی کی سڑکوں پرمحمد ﷺکے خداکے نام پرپیسہ مانگ کروکالت کی فیس اداکی۔وہ صبح آٹھ سے بارہ بجے دوپہرتک کراچی کے ٹریفک سگنلزپرخیرات طلب کرتیں اورپھر دوبجے سندھ لاء کالج میں اپنی کلاس میں پہنچ جاتیں۔مایہ زمان نے اقراء یونیورسٹی سے بزنس میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کی اورسُرخابی کے نام سے اسلام آبادمیں فیشن ہاؤس چلارہی ہیں۔

سمیع اللہ خان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چھوکری کی لوٹ
  • محبت کی دیوی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین
  • اندھیری رات ظالم نظام
  • گل بانو کی کہانی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں
پچھلی پوسٹ
سرِ خواب

متعلقہ پوسٹس

تانتیا

جنوری 8, 2022

چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی

جون 8, 2020

طےشُدہ عشق سرِ دار نبھانا ہو گا

مئی 9, 2020

چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور ہی بنا

فروری 24, 2022

موم کی طرح پگھلتے مرے ساتھ

فروری 15, 2020

گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

جولائی 11, 2021

لمبا قصّہ

جنوری 11, 2020

حملہ ہوا تھا

دسمبر 16, 2019

کیوں کہ میں نے اب سوچنا شروع کر دیا ہے

دسمبر 23, 2021

اُلٹی دنیا

مئی 25, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کمہارن

دسمبر 31, 2021

محبت کا راز

مئی 27, 2025

ایک جسم، ایک سایہ، ایک چیخ

جون 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں