خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکمہارن
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

کمہارن

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 31, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 31, 2021 0 تبصرے 77 مناظر
78

اس نے بابل، عکادی اور اشوری تہذیبوں کی جنم بھومی منطقۃ بین النہرین میں عرصہ درازتک بادیہ پیمائی کی۔ بیابانوں کی خاک چھانتے، دشت پیمائی کرتے, بلادالشراۃ اور سینائی سے ہوتے ہوئے وادی نیل پہنچی۔ یمن سے لے کر یونان تک گرد میں اٹی، کہیں غبارمیں اڑی، دھول مٹی ہم رکاب ہوئی اور کہیں اڑتی خاک اس کی ہمسفر۔ ‘سفراندر وطن’ میں، ہر جگہ، دھرتی کے انمول خزانوں سے کچھ نہ کچھ ساتھ لیا۔ اس آبلہ پائی کے صلے میں اسے نئی سے نئی راہیں سجھائی دیں۔ وہ سندھ طاس کے میدانوں سے دریاؤں کی گاد اور بھل لے آئی۔ ایودھیا، متھرا اور لمبینی کی چکنی مٹی بھی ڈھونڈھ لائی۔ اس کا پدارتھ ابھی بھی پورا نہیں ہوا تھا۔ کوٹیل سے اس نے چونا لیا۔ پہلے انسان کے مدفن گولگوٹھا یعنی کھوپڑی کی جگہ اور کیلوری پہاڑی سے بھی لومی مٹی لے آئی۔

اس مالیدہ میں دشت پاران کے ‘مینڈ لگا کر روکے گئے’ چشمے کا پانی ملا کر ساننا شروع کیا۔

برسات کی پہلی شام میں کھلنے والی رات کی رانی کی مد بھری سگندھ چرا لائی، دھکتے انگاروں پر پڑی صندل کی جلتی لکڑی کی نکہت مستانہ مچلتے دیکھی، توپکڑ لائی۔ مر، مصطکی، لون، لبان کو ملا کر بنائے گئے پاکیزہ تیل لگی مقدس زلفوں کی بھینی بھینی لپٹیں بھی لیں۔ سب ملا کردیکھا، مٹی کا سوندھا پن نہ بھایا۔

خوشبووں کے شہر ختن سے آہوئے تاتاری کی مشک لائی، مہنگے داموں عود ہندی خرید کر لائی، عنبرسر سے عبنر اشہب لا کراس مٹی میں ملایا، کچھ بھی دل کو نہ بھایا۔ پھر تلاش میں نکلی۔ کائنات کی ساری خوشبویں بیگانہ لگیں۔

پہلی مرتبہ رجولا ہوئے کنوارے لڑکے کے پسینے کو اس گوندھی ہوئی مٹی میں ملایا، باس ہر طرف پھیل گئی، تو سرشار ہو گئی۔ اس کے بےرنگ گالوں پر گلابوں کا رنگ نکھر گیا۔

جب مٹی کے اس ڈھیلے کو کمہارن نے اپنے ہاتھ میں اٹھایا تو یوں لگا پوری کائنات ہاتھ میں آگئی ہے۔

اس ڈھیلے کو چاک پر رکھ کر اسے گھما دیا۔ مشاق ہاتھوں نے کہیں سے دبایا، کہیں سے ابھارا۔ نرم و نازک انگلیوں نے مختلف پیکر، چھوٹے بڑے، تراش کر دیکھے۔ پھر گوندھا، رکھا، پھر گھمایا۔ بار بار تراشا۔ بہتر سے بہتر۔ کال چکر کے ساتھ وہ خود بھی گھوم گئی۔ لیکن یہ کیا؟ مقصود نظر نہ پا سکی، تصویر ابھرتے ابھرتے گم ہوجاتی۔ مجمع سی اکائی نکلتے نکلتے کہیں کھو جاتی۔ یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ اس کے اندر کوئی سایۂ متحرک مضطرب تھا، کوئی غیر محسوس آوازِ بازگشت تھی جو انوکھا پیکر ڈھونڈتی تھی۔ تصور میں موجود خیال کو قالب آرزو میں ڈھال نہ پائی۔

سالوں بعد ایک دن گھڑیال کی گھومتی سوئی کی طرح چکر کھاتے پہیے کے اوپر ایک اعلیٰ تصویر ابھر آئی۔ وہ عالم محویت اوراستغراق سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس حسین و دلکش چہرے پر نظر نہیں ٹکتی تھی۔ اس میں کوئی خاص بات تھی, ایک ایسی بات جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ شب و روز کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ کام جاری رہا اور پھر اگلے کچھ دنوں میں ایک جوان مرد کا حسین مجسمہ تیار ہو گیا۔ خوشبو بھرا نور کا پیکر۔

اس کو نکھارنے کا کام پھر بھی جاری تھا۔ جب کبھی وہ تھک جاتی تو اسی کے سامنے سو جاتی خوابوں میں وہی مورت اس کے سامنے چلتی پھرتی نظر آتی۔ اس کے چہرے سے ٹپکتا نور کمہارن کی روح کو بھی منورکر دیتا۔ وہ اپنی ہی تخلیق کےعشق میں کھو گئی۔ اس کے گالوں پر بکھرے گلابوں کا رنگ گہرا ہو گیا۔

وہ ہوش میں بھی مدہوش ہی رہتی۔ بے خودی کےعالم میں اسے چھوتی تو نور میں رنگے ہوے برف پروردہ سراپا میں سختی و صلابت موجود پاتی۔ وہ پہروں اس کی طرف دیکھتی رہتی، باتیں کرتی، اپنے دکھڑے سناتی۔ سوچتی، مٹی کا یہ مجسمہ کب لچک پائے گا اور جھک کراسے اپنی پناہ میں لے گا؟ وہ اسی غم میں گھلی جارہی تھی۔ وہ پاگل ہو گئی تھی۔ عشق میں پاگل پن نہ ہو، دکھ نہ ہو، محویت نہ ہو تو اسے اختیار ہی کون کرے! دن ڈھلتے رہے، طلوع و غروب آفتاب کے ارغوانی مناظر بدلتے رہے، عشق کی لذت و سرشاری بڑھتی گئی۔

جذب و اغراق کی حالت میں کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا کہ وہ زندہ ہے، ہمیشہ سے ہی زندہ اور اس کی باتیں سن رہا ہے۔

مہینوں گذر گئے۔ اس رات چاند اپنے پورے عروج و شباب پر تھا۔ وہ شکوہ گو ہوئی "تو کب میری التجائیں سنے گا؟ تمہارے لب کیوں نہیں ہلتے؟” وہ بولتی گئی اور روتی گئی۔ روتے روتے آنکھ لگ گئی۔ صبح ہوئی تو دیکھا ہاتھوں میں نرمی آگئی تھی۔ رنگ بھی بدل گیا تھا۔ یہ دیکھ کراس کی التجاؤں میں جوش آگیا۔ سورج نے اسے حرارت بخشی۔ روشنی زندگی دیتی ہے، اس پربھی مہربان ہو گئی۔ وہ بھاگ کر اس سے ہم آغوش ہو گئی۔ مجسمے نے جھک کر اپنے گرم گرم ہونٹ کمہارن کے ماتھے پر رکھ دیے۔ گلابی گالوں کا رنگ سرخ ہوگیا۔

سال ہا سال بیت گئے یا یگ بیت گئے۔ وہ متوالی اپنے محبوب، اپنے دیوتا، اپنے آقا کی خدمت میں مست رہی۔ وہ اسکی پجارن تھی۔ اس کی ہر خواہش پر واری واری جاتی۔ اس کی محبت، نرمی گرمی حتیٰ کہ مار پیار سب ہنسی خوشی قبول کرتی۔ بادل کی طرح برستا تو وہ پیاسی دھرتی بن جاتی۔ طوفان کی طرح گرجتا تو بھاگ کر اسی کی آغوش میں پناہ لیتی۔ وہ بھی اس سے دور نہ جاتا۔ اس کے ساتھ رہتا، ہمیشہ اس کے اندر سمایا۔

وقت گذرتا گیا اور کمہارن بوڑھی ہوگئی۔ ہر فانی شے کی طرح اس نے بھی مٹ جانا تھا۔ کہنے لگی "میرے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ میرے بعد تیرے محلات کون سجائے گا؟ تو کہاں رہے گا؟”

بولا، "تیرے ہاتھوں نے مجھے بنایا۔ تیری سوچ نے مجھے نکھارا۔ تو ہی بتا؟”

کمہارن بولی "ہاں! میں تو نہیں جا سکتی لیکن آہوے تخیل پر سوار کر کے میں تجھے پہنچا دوں گی، یہاں سے دور، بہت دور، جہاں کوئی فانی نہ پہنچ سکے، کوہ اولمپس کی چوٹی پر۔ ہواوں کے دوش پر اڑتے، نور کی شعاوں پر تیرتے اڈایا پہاڑ پر۔ افق کے اس پار، چاند اور سورج کی حدود سے بھی اس پار۔ وہ اوپر، حد نگاہ سے بھی اوپر، جہاں مکین و مکاں کی شناخت اوجھل ہو جاتی ہے، لامکاں جو وہم و گماں سے بھی بالا ہے۔”

پھر کمہارن میرے آقا، میرے دیوتا پکارتی اس کے حضور ڈھیر ہوکر مکت ہو گئی۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اشفاق احمد
  • بہار میں نقاب ہٹانے کا واقعہ اور عالمی ردعمل
  • سیاہ جھیل سی آنکھیں
  • مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شاعرِ وقت
پچھلی پوسٹ
رسم کے مت اسیر ہو جاؤ

متعلقہ پوسٹس

ہزاروں راز پنہاں ہیں شعورِ خاک کے اندر

اپریل 21, 2020

مرا جنوں مری وحشت بدلتی رہتی ہے

مارچ 4, 2020

دلچسپ وانمول قرآنی معلومات

نومبر 1, 2020

شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟

جنوری 1, 2023

گنڈاسا

مئی 15, 2017

آواز کس نے دی مجھے

اکتوبر 12, 2025

کنگ پوش

جون 14, 2020

ماہتابِ دلکشی

جنوری 10, 2025

جگہیں خالی نہیں ہوتیں

دسمبر 3, 2020

اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں

دسمبر 4, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیوں سے کہاں تک

مئی 20, 2026

رائی کا اک پہاڑ بنانے سے...

فروری 12, 2021

کربل کے میداں میں

مارچ 29, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں