ماٹی قدم کریندی یار: غرور کا خاتمہ اور مٹی کی حقیقت
انسانی وجود عجیب بوقلمونی کا مرقع ہے۔ ایک طرف یہ مٹی کا کمزور اور فانی پتلا ہے تو دوسری طرف اس میں ربِ کریم کی عطا کردہ روحِ انسانی کی مقدس امانت موجود ہے۔ لیکن انسان کا المیہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے اس عارضی جسم، ظاہری علم، حسب نسب یا فانی مال و دولت پر ناز کرنے لگتا ہے، تو اس کے باطن میں خود پسندی، تکبر اور عُجب جنم لیتے ہیں۔ یہی وہ باطنی بیماریاں ہیں جن سے دینِ اسلام نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، کیونکہ تکبر انسان کو عاجزی اور اخلاق کے اعلیٰ درجے سے گرا دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی پہلی شرط ہی یہی ہے کہ انسان اپنے اندر سے انا اور غرور کا خاتمہ کرے، کیونکہ جب تک انا کی یہ مادی دیوار بیچ میں کھڑی ہے، انسان کے باطن میں اخلاص اور عاجزی کی سچی روشنی داخل نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں تو ہر طرف مادی دوڑ، نام و نمود کی ہوس اور ایک دوسرے سے برتر ثابت ہونے کی کشمکش نظر آتی ہے۔ انسان یہ بھول چکا ہے کہ اس کی بنیاد کیا تھی اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ہم چند پیسوں کی فراوانی یا عارضی عہدے کے حصول پر اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ وہی معاشرتی مرض ہے جس نے ہمارے تعلقات اور بھائی چارے کو نقصان پہنچایا ہے۔ تکبر نے انسانوں کے درمیان ہمدردی کو ختم کر کے بغض اور رقابت کی اگ سلگا دی ہے۔
سرزمینِ پنجاب کے عظیم عارف اور شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ نے انسانی غرور اور انا کے اس کھوکھلے پن پر اپنے کلام میں ایسی گہری اخلاقی و باطنی ضرب لگائی ہے کہ انسان کو اس کی اصل حقیقت پر غور کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ بابا جی انسان کو اس کے فانی وجود کی اصل یاد دلاتے ہوئے اپنی شاہکار کافی میں ارشاد فرماتے ہیں:
ماٹی قدم کریندی یار!
ماٹی جوڑا، ماٹی گھوڑا، ماٹی دا اسوار
ماٹی ماٹی نوں دوڑائے، ماٹی دا کھڑکار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: اے دوست! دیکھو یہ مٹی ہی ہر طرف قدم بڑھا رہی ہے اور حرکت کر رہی ہے۔ انسان کا یہ زیبِ تن کیا ہوا لباس اور جوڑا بھی مٹی ہے، جس سواری (گھوڑے) پر وہ سوار ہے وہ بھی مٹی سے ہے، اور سوار بذاتِ خود مٹی کا پتلا ہے۔ ایک مٹی کا وجود دوسری مٹی کے وجود کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور یہ تمام ہنگامہ اور شور و غوغا (کھڑکار) بھی مٹی ہی کا پیدا کردہ ہے۔)
ان مصرعوں میں حضرت بابا بلھے شاہؒ نے اس مادی کائنات کی عارضی نوعیت کو نہایت خوبصورت تمثیل میں پیش کیا ہے۔ ہم جس جسم پر اتراتے ہیں، وہ عناصرِ اربعہ کا مجموعہ ہے۔ جو لباس انسان زیبِ تن کرتا ہے اور جس سواری پر بیٹھتا ہے، وہ سب بھی مٹی ہی کی پیداوار ہیں۔ جب انسان دنیاوی حرص کے لیے دوسرے کے پیچھے بھاگتا ہے، تو بصیرت کی نظر میں یہ مٹی کا مٹی کے پیچھے بھاگنا اور محض ایک عارضی شور و غوغا ہے۔
انسانی ہوس، جنگ و جدل اور آپسی نفاق کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے بابا جی اگلا تازیانہ یوں رسید کرتے ہیں:
ماٹی ماٹی نوں مارن لگی، ماٹی دے ہتھیار
جس ماٹی پر بہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: مٹی کا ایک وجود دوسرے مٹی کے وجود کو ختم کرنے میں لگا ہوا ہے اور جو ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں وہ بھی مٹی ہی سے حاصل کیے گئے لوہے و معدنیات ہیں۔ اور جس مٹی (انسان) کے پاس کچھ زیادہ مٹی (مال، دولت، جائیداد یا اقتدار) اکٹھی ہو جاتی ہے، وہی مٹی تکبر اور غرور (ہنکار) کرنے لگتی ہے۔)
یہ مصرع "جس ماٹی پر بہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار” انسان کے باطنی مرض کی بہترین نشاندہی کرتا ہے۔ جب ایک انسان کے پاس دنیا کی مٹی (مال و اقتدار) زیادہ آ جاتی ہے، تو وہ تکبر کرنے لگتا ہے۔ انسان بھول جاتا ہے کہ ہتھیار بھی مٹی سے بنے ہیں اور مٹی ہی مٹی کو نقصان پہنچا رہی ہے، حالانکہ اس تمام مال و اقتدار نے اسی زمین میں پیوند ہو جانا ہے اور ہر انسان کا آخری مسکن یہی خاموش مٹی بننا ہے۔
علمِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کی نظر سے دیکھا جائے تو انسان کے اندر روحانی لطائف کا نظام موجود ہے۔ صوفیاء بتاتے ہیں کہ انسان کے باطن میں بنیادی روحانی مراکز یعنی لطائفِ خمسہ (قلب، روح، سر، خفی اور اخفی) پائے جاتے ہیں۔ جب انسان کے اندر غرور اور انا کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کے یہ باطنی لطائف غفلت کی زد میں آ جاتے ہیں اور دل کی تختی پر انوارِ الٰہی کا نزول مدھم پڑ جاتا ہے۔
دنیا کے اس عارضی حسن اور چند روزہ بہار کا نقشہ بابا بلھے شاہؒ آگے یوں کھینچتے ہیں:
ماٹی باغ بغیچہ ماٹی، ماٹی دی گلزار
ماٹی ماٹی نوں ویکھن آئی، ماٹی دی اے بہار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: یہ تمام سرسبز باغات اور دلکش گلزار حقیقت میں مٹی ہی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ مٹی کی آنکھوں والا انسان مٹی ہی سے بنے ان مناظر اور بہار کو دیکھنے آتا ہے، یعنی مٹی ہی مٹی کا نظارہ کر رہی ہے۔)
ان بندوں میں بابا جی دنیا کی تماش گاہ کا دلکش نقشہ بیان کرتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنی آنکھوں کے ساتھ مٹی ہی کے ان مناظر کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اسے بہار قرار دیتا ہے، حالانکہ یہ سب مٹی کا بدلتا ہوا روپ اور عارضی جلوہ ہے۔
کافی کے آخری اور مقطعی بند میں حضرت بابا بلھے شاہؒ اس پوری رمز کا نہایت جامع حل اور حتمی حقیقت بیان فرماتے ہیں:
ہس کھیڈ پھر ماٹی ہووے، لمی پاوے تان
بلھے شاہ جو ایں بجھ جاوے، سوئی پا جاوے مان
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: انسان دنیا میں ہنس کھیل کر اور زندگی گزار کر آخرکار مٹی میں مل جاتا ہے اور ابدی نیند سو جاتا (لمی تان لیٹ جاتا) ہے۔ بابا بلھے شاہؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس راز اور پہیلی کو سمجھ لیتا ہے، وہی حقیقی عزّت، شرف اور بندگی کا مقام پا لیتا ہے۔)
بابا بلھے شاہؒ کا یہ فرمان انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے کہ تمام تر ظاہری خوشیاں، طاقت اور شباب ایک دن ختم ہو جائیں گے اور ہر انسان کو مٹی کی آغوش میں ابدی نیند سونا پڑے گا۔ جو شخص زندگی کی اس بنیادی پہیلی اور اپنی فانی حقیقت کو سمجھ جاتا ہے، وہی انسان اپنے اندر سے غرور، تکبر، خود پسندی اور انا کے بوجھ کو اتار پھینکتا ہے۔
حقیقی کامیابی، انسانی شرف اور مقامِ بندگی یہی ہے کہ انسان اپنے مٹی ہونے کی حقیقت کو پہچانے۔ جب انسان اپنے اندر سے تمام تر دنیاوی غرور، نسبی تعصب اور مال کا تکبر مٹا کر عاجزی، انکساری اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اس کا ظاہر و باطن ایک ہو جاتا ہے، اس کی زندگی یادِ الٰہی میں ڈھل جاتی ہے اور وہ دنیا کی منافقت سے نکل کر باطنی سکون اور قربِ الٰہی کا حقدار بن جاتا ہے۔
پیر انتظار حسین مصور

2 تبصرے
Mashallah peer intzaar sahib ap NE sahi frmaea
ماشاءاللہ بہت عمدہ جنابِ پیر اِنتظار حُسین مُصوِر ساحب