خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامماٹی قدم کریندی یار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

ماٹی قدم کریندی یار

از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2026 2 تبصرے 96 مناظر
97

ماٹی قدم کریندی یار: غرور کا خاتمہ اور مٹی کی حقیقت

انسانی وجود عجیب بوقلمونی کا مرقع ہے۔ ایک طرف یہ مٹی کا کمزور اور فانی پتلا ہے تو دوسری طرف اس میں ربِ کریم کی عطا کردہ روحِ انسانی کی مقدس امانت موجود ہے۔ لیکن انسان کا المیہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے اس عارضی جسم، ظاہری علم، حسب نسب یا فانی مال و دولت پر ناز کرنے لگتا ہے، تو اس کے باطن میں خود پسندی، تکبر اور عُجب جنم لیتے ہیں۔ یہی وہ باطنی بیماریاں ہیں جن سے دینِ اسلام نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، کیونکہ تکبر انسان کو عاجزی اور اخلاق کے اعلیٰ درجے سے گرا دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی پہلی شرط ہی یہی ہے کہ انسان اپنے اندر سے انا اور غرور کا خاتمہ کرے، کیونکہ جب تک انا کی یہ مادی دیوار بیچ میں کھڑی ہے، انسان کے باطن میں اخلاص اور عاجزی کی سچی روشنی داخل نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں تو ہر طرف مادی دوڑ، نام و نمود کی ہوس اور ایک دوسرے سے برتر ثابت ہونے کی کشمکش نظر آتی ہے۔ انسان یہ بھول چکا ہے کہ اس کی بنیاد کیا تھی اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ہم چند پیسوں کی فراوانی یا عارضی عہدے کے حصول پر اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ وہی معاشرتی مرض ہے جس نے ہمارے تعلقات اور بھائی چارے کو نقصان پہنچایا ہے۔ تکبر نے انسانوں کے درمیان ہمدردی کو ختم کر کے بغض اور رقابت کی اگ سلگا دی ہے۔
سرزمینِ پنجاب کے عظیم عارف اور شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ نے انسانی غرور اور انا کے اس کھوکھلے پن پر اپنے کلام میں ایسی گہری اخلاقی و باطنی ضرب لگائی ہے کہ انسان کو اس کی اصل حقیقت پر غور کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ بابا جی انسان کو اس کے فانی وجود کی اصل یاد دلاتے ہوئے اپنی شاہکار کافی میں ارشاد فرماتے ہیں:
ماٹی قدم کریندی یار!
ماٹی جوڑا، ماٹی گھوڑا، ماٹی دا اسوار
ماٹی ماٹی نوں دوڑائے، ماٹی دا کھڑکار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: اے دوست! دیکھو یہ مٹی ہی ہر طرف قدم بڑھا رہی ہے اور حرکت کر رہی ہے۔ انسان کا یہ زیبِ تن کیا ہوا لباس اور جوڑا بھی مٹی ہے، جس سواری (گھوڑے) پر وہ سوار ہے وہ بھی مٹی سے ہے، اور سوار بذاتِ خود مٹی کا پتلا ہے۔ ایک مٹی کا وجود دوسری مٹی کے وجود کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور یہ تمام ہنگامہ اور شور و غوغا (کھڑکار) بھی مٹی ہی کا پیدا کردہ ہے۔)
ان مصرعوں میں حضرت بابا بلھے شاہؒ نے اس مادی کائنات کی عارضی نوعیت کو نہایت خوبصورت تمثیل میں پیش کیا ہے۔ ہم جس جسم پر اتراتے ہیں، وہ عناصرِ اربعہ کا مجموعہ ہے۔ جو لباس انسان زیبِ تن کرتا ہے اور جس سواری پر بیٹھتا ہے، وہ سب بھی مٹی ہی کی پیداوار ہیں۔ جب انسان دنیاوی حرص کے لیے دوسرے کے پیچھے بھاگتا ہے، تو بصیرت کی نظر میں یہ مٹی کا مٹی کے پیچھے بھاگنا اور محض ایک عارضی شور و غوغا ہے۔
انسانی ہوس، جنگ و جدل اور آپسی نفاق کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے بابا جی اگلا تازیانہ یوں رسید کرتے ہیں:
ماٹی ماٹی نوں مارن لگی، ماٹی دے ہتھیار
جس ماٹی پر بہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: مٹی کا ایک وجود دوسرے مٹی کے وجود کو ختم کرنے میں لگا ہوا ہے اور جو ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں وہ بھی مٹی ہی سے حاصل کیے گئے لوہے و معدنیات ہیں۔ اور جس مٹی (انسان) کے پاس کچھ زیادہ مٹی (مال، دولت، جائیداد یا اقتدار) اکٹھی ہو جاتی ہے، وہی مٹی تکبر اور غرور (ہنکار) کرنے لگتی ہے۔)
یہ مصرع "جس ماٹی پر بہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار” انسان کے باطنی مرض کی بہترین نشاندہی کرتا ہے۔ جب ایک انسان کے پاس دنیا کی مٹی (مال و اقتدار) زیادہ آ جاتی ہے، تو وہ تکبر کرنے لگتا ہے۔ انسان بھول جاتا ہے کہ ہتھیار بھی مٹی سے بنے ہیں اور مٹی ہی مٹی کو نقصان پہنچا رہی ہے، حالانکہ اس تمام مال و اقتدار نے اسی زمین میں پیوند ہو جانا ہے اور ہر انسان کا آخری مسکن یہی خاموش مٹی بننا ہے۔
علمِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کی نظر سے دیکھا جائے تو انسان کے اندر روحانی لطائف کا نظام موجود ہے۔ صوفیاء بتاتے ہیں کہ انسان کے باطن میں بنیادی روحانی مراکز یعنی لطائفِ خمسہ (قلب، روح، سر، خفی اور اخفی) پائے جاتے ہیں۔ جب انسان کے اندر غرور اور انا کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کے یہ باطنی لطائف غفلت کی زد میں آ جاتے ہیں اور دل کی تختی پر انوارِ الٰہی کا نزول مدھم پڑ جاتا ہے۔
دنیا کے اس عارضی حسن اور چند روزہ بہار کا نقشہ بابا بلھے شاہؒ آگے یوں کھینچتے ہیں:
ماٹی باغ بغیچہ ماٹی، ماٹی دی گلزار
ماٹی ماٹی نوں ویکھن آئی، ماٹی دی اے بہار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: یہ تمام سرسبز باغات اور دلکش گلزار حقیقت میں مٹی ہی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ مٹی کی آنکھوں والا انسان مٹی ہی سے بنے ان مناظر اور بہار کو دیکھنے آتا ہے، یعنی مٹی ہی مٹی کا نظارہ کر رہی ہے۔)
ان بندوں میں بابا جی دنیا کی تماش گاہ کا دلکش نقشہ بیان کرتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنی آنکھوں کے ساتھ مٹی ہی کے ان مناظر کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اسے بہار قرار دیتا ہے، حالانکہ یہ سب مٹی کا بدلتا ہوا روپ اور عارضی جلوہ ہے۔
کافی کے آخری اور مقطعی بند میں حضرت بابا بلھے شاہؒ اس پوری رمز کا نہایت جامع حل اور حتمی حقیقت بیان فرماتے ہیں:
ہس کھیڈ پھر ماٹی ہووے، لمی پاوے تان
بلھے شاہ جو ایں بجھ جاوے، سوئی پا جاوے مان
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: انسان دنیا میں ہنس کھیل کر اور زندگی گزار کر آخرکار مٹی میں مل جاتا ہے اور ابدی نیند سو جاتا (لمی تان لیٹ جاتا) ہے۔ بابا بلھے شاہؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس راز اور پہیلی کو سمجھ لیتا ہے، وہی حقیقی عزّت، شرف اور بندگی کا مقام پا لیتا ہے۔)
بابا بلھے شاہؒ کا یہ فرمان انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے کہ تمام تر ظاہری خوشیاں، طاقت اور شباب ایک دن ختم ہو جائیں گے اور ہر انسان کو مٹی کی آغوش میں ابدی نیند سونا پڑے گا۔ جو شخص زندگی کی اس بنیادی پہیلی اور اپنی فانی حقیقت کو سمجھ جاتا ہے، وہی انسان اپنے اندر سے غرور، تکبر، خود پسندی اور انا کے بوجھ کو اتار پھینکتا ہے۔
حقیقی کامیابی، انسانی شرف اور مقامِ بندگی یہی ہے کہ انسان اپنے مٹی ہونے کی حقیقت کو پہچانے۔ جب انسان اپنے اندر سے تمام تر دنیاوی غرور، نسبی تعصب اور مال کا تکبر مٹا کر عاجزی، انکساری اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اس کا ظاہر و باطن ایک ہو جاتا ہے، اس کی زندگی یادِ الٰہی میں ڈھل جاتی ہے اور وہ دنیا کی منافقت سے نکل کر باطنی سکون اور قربِ الٰہی کا حقدار بن جاتا ہے۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جشن آزادی کی شرعی حیثیت
  • رفوگر
  • خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ
  • ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل لگی یاد آئے گی
پچھلی پوسٹ
درد کی سرحد سے دل بھی

متعلقہ پوسٹس

پیرِ کامل کس کو کہتے ہیں

جنوری 5, 2022

یزید

اکتوبر 29, 2019

ایک قبر کی فریاد

جنوری 20, 2020

نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی تیری

مارچ 9, 2020

سنگترہ ، بہترین پھل بہترین فوائد

نومبر 19, 2021

شاہی محلہ کے سید

جون 28, 2020

غزل الغزلات: عہد نامہ قدیم کا محبت بھرا نغمہ

فروری 12, 2021

قوال پارٹی

نومبر 27, 2019

انصاف کی بدبو دیتی لاش

جنوری 21, 2019

گہرے پانیوں والی آنکھیں !

مئی 9, 2020

2 تبصرے

Bakhtiar Hussein اگست 7, 2026 - 10:00 صبح

Mashallah peer intzaar sahib ap NE sahi frmaea

جواب دیں
Bakhtiar Hussein اگست 7, 2026 - 10:03 صبح

ماشاءاللہ بہت عمدہ جنابِ پیر اِنتظار حُسین مُصوِر ساحب

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرخ ٹوپی

اکتوبر 26, 2019

بھینٹ

جون 14, 2020

توبۃ النصوح – فصل ششم

اکتوبر 30, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں