خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامماٹی قدم کریندی یار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

ماٹی قدم کریندی یار

از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2026 2 تبصرے 2 مناظر
3

ماٹی قدم کریندی یار: غرور کا خاتمہ اور مٹی کی حقیقت

انسانی وجود عجیب بوقلمونی کا مرقع ہے۔ ایک طرف یہ مٹی کا کمزور اور فانی پتلا ہے تو دوسری طرف اس میں ربِ کریم کی عطا کردہ روحِ انسانی کی مقدس امانت موجود ہے۔ لیکن انسان کا المیہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے اس عارضی جسم، ظاہری علم، حسب نسب یا فانی مال و دولت پر ناز کرنے لگتا ہے، تو اس کے باطن میں خود پسندی، تکبر اور عُجب جنم لیتے ہیں۔ یہی وہ باطنی بیماریاں ہیں جن سے دینِ اسلام نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، کیونکہ تکبر انسان کو عاجزی اور اخلاق کے اعلیٰ درجے سے گرا دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی پہلی شرط ہی یہی ہے کہ انسان اپنے اندر سے انا اور غرور کا خاتمہ کرے، کیونکہ جب تک انا کی یہ مادی دیوار بیچ میں کھڑی ہے، انسان کے باطن میں اخلاص اور عاجزی کی سچی روشنی داخل نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں تو ہر طرف مادی دوڑ، نام و نمود کی ہوس اور ایک دوسرے سے برتر ثابت ہونے کی کشمکش نظر آتی ہے۔ انسان یہ بھول چکا ہے کہ اس کی بنیاد کیا تھی اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ہم چند پیسوں کی فراوانی یا عارضی عہدے کے حصول پر اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ وہی معاشرتی مرض ہے جس نے ہمارے تعلقات اور بھائی چارے کو نقصان پہنچایا ہے۔ تکبر نے انسانوں کے درمیان ہمدردی کو ختم کر کے بغض اور رقابت کی اگ سلگا دی ہے۔
سرزمینِ پنجاب کے عظیم عارف اور شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ نے انسانی غرور اور انا کے اس کھوکھلے پن پر اپنے کلام میں ایسی گہری اخلاقی و باطنی ضرب لگائی ہے کہ انسان کو اس کی اصل حقیقت پر غور کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ بابا جی انسان کو اس کے فانی وجود کی اصل یاد دلاتے ہوئے اپنی شاہکار کافی میں ارشاد فرماتے ہیں:
ماٹی قدم کریندی یار!
ماٹی جوڑا، ماٹی گھوڑا، ماٹی دا اسوار
ماٹی ماٹی نوں دوڑائے، ماٹی دا کھڑکار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: اے دوست! دیکھو یہ مٹی ہی ہر طرف قدم بڑھا رہی ہے اور حرکت کر رہی ہے۔ انسان کا یہ زیبِ تن کیا ہوا لباس اور جوڑا بھی مٹی ہے، جس سواری (گھوڑے) پر وہ سوار ہے وہ بھی مٹی سے ہے، اور سوار بذاتِ خود مٹی کا پتلا ہے۔ ایک مٹی کا وجود دوسری مٹی کے وجود کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور یہ تمام ہنگامہ اور شور و غوغا (کھڑکار) بھی مٹی ہی کا پیدا کردہ ہے۔)
ان مصرعوں میں حضرت بابا بلھے شاہؒ نے اس مادی کائنات کی عارضی نوعیت کو نہایت خوبصورت تمثیل میں پیش کیا ہے۔ ہم جس جسم پر اتراتے ہیں، وہ عناصرِ اربعہ کا مجموعہ ہے۔ جو لباس انسان زیبِ تن کرتا ہے اور جس سواری پر بیٹھتا ہے، وہ سب بھی مٹی ہی کی پیداوار ہیں۔ جب انسان دنیاوی حرص کے لیے دوسرے کے پیچھے بھاگتا ہے، تو بصیرت کی نظر میں یہ مٹی کا مٹی کے پیچھے بھاگنا اور محض ایک عارضی شور و غوغا ہے۔
انسانی ہوس، جنگ و جدل اور آپسی نفاق کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے بابا جی اگلا تازیانہ یوں رسید کرتے ہیں:
ماٹی ماٹی نوں مارن لگی، ماٹی دے ہتھیار
جس ماٹی پر بہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: مٹی کا ایک وجود دوسرے مٹی کے وجود کو ختم کرنے میں لگا ہوا ہے اور جو ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں وہ بھی مٹی ہی سے حاصل کیے گئے لوہے و معدنیات ہیں۔ اور جس مٹی (انسان) کے پاس کچھ زیادہ مٹی (مال، دولت، جائیداد یا اقتدار) اکٹھی ہو جاتی ہے، وہی مٹی تکبر اور غرور (ہنکار) کرنے لگتی ہے۔)
یہ مصرع "جس ماٹی پر بہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار” انسان کے باطنی مرض کی بہترین نشاندہی کرتا ہے۔ جب ایک انسان کے پاس دنیا کی مٹی (مال و اقتدار) زیادہ آ جاتی ہے، تو وہ تکبر کرنے لگتا ہے۔ انسان بھول جاتا ہے کہ ہتھیار بھی مٹی سے بنے ہیں اور مٹی ہی مٹی کو نقصان پہنچا رہی ہے، حالانکہ اس تمام مال و اقتدار نے اسی زمین میں پیوند ہو جانا ہے اور ہر انسان کا آخری مسکن یہی خاموش مٹی بننا ہے۔
علمِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کی نظر سے دیکھا جائے تو انسان کے اندر روحانی لطائف کا نظام موجود ہے۔ صوفیاء بتاتے ہیں کہ انسان کے باطن میں بنیادی روحانی مراکز یعنی لطائفِ خمسہ (قلب، روح، سر، خفی اور اخفی) پائے جاتے ہیں۔ جب انسان کے اندر غرور اور انا کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کے یہ باطنی لطائف غفلت کی زد میں آ جاتے ہیں اور دل کی تختی پر انوارِ الٰہی کا نزول مدھم پڑ جاتا ہے۔
دنیا کے اس عارضی حسن اور چند روزہ بہار کا نقشہ بابا بلھے شاہؒ آگے یوں کھینچتے ہیں:
ماٹی باغ بغیچہ ماٹی، ماٹی دی گلزار
ماٹی ماٹی نوں ویکھن آئی، ماٹی دی اے بہار
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: یہ تمام سرسبز باغات اور دلکش گلزار حقیقت میں مٹی ہی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ مٹی کی آنکھوں والا انسان مٹی ہی سے بنے ان مناظر اور بہار کو دیکھنے آتا ہے، یعنی مٹی ہی مٹی کا نظارہ کر رہی ہے۔)
ان بندوں میں بابا جی دنیا کی تماش گاہ کا دلکش نقشہ بیان کرتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنی آنکھوں کے ساتھ مٹی ہی کے ان مناظر کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اسے بہار قرار دیتا ہے، حالانکہ یہ سب مٹی کا بدلتا ہوا روپ اور عارضی جلوہ ہے۔
کافی کے آخری اور مقطعی بند میں حضرت بابا بلھے شاہؒ اس پوری رمز کا نہایت جامع حل اور حتمی حقیقت بیان فرماتے ہیں:
ہس کھیڈ پھر ماٹی ہووے، لمی پاوے تان
بلھے شاہ جو ایں بجھ جاوے، سوئی پا جاوے مان
ماٹی قدم کریندی یار!
(اردو ترجمہ: انسان دنیا میں ہنس کھیل کر اور زندگی گزار کر آخرکار مٹی میں مل جاتا ہے اور ابدی نیند سو جاتا (لمی تان لیٹ جاتا) ہے۔ بابا بلھے شاہؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس راز اور پہیلی کو سمجھ لیتا ہے، وہی حقیقی عزّت، شرف اور بندگی کا مقام پا لیتا ہے۔)
بابا بلھے شاہؒ کا یہ فرمان انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے کہ تمام تر ظاہری خوشیاں، طاقت اور شباب ایک دن ختم ہو جائیں گے اور ہر انسان کو مٹی کی آغوش میں ابدی نیند سونا پڑے گا۔ جو شخص زندگی کی اس بنیادی پہیلی اور اپنی فانی حقیقت کو سمجھ جاتا ہے، وہی انسان اپنے اندر سے غرور، تکبر، خود پسندی اور انا کے بوجھ کو اتار پھینکتا ہے۔
حقیقی کامیابی، انسانی شرف اور مقامِ بندگی یہی ہے کہ انسان اپنے مٹی ہونے کی حقیقت کو پہچانے۔ جب انسان اپنے اندر سے تمام تر دنیاوی غرور، نسبی تعصب اور مال کا تکبر مٹا کر عاجزی، انکساری اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اس کا ظاہر و باطن ایک ہو جاتا ہے، اس کی زندگی یادِ الٰہی میں ڈھل جاتی ہے اور وہ دنیا کی منافقت سے نکل کر باطنی سکون اور قربِ الٰہی کا حقدار بن جاتا ہے۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • انٹرنیٹ کی سست رفتار
  • ممدبھائی
  • قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا
  • ٹھنڈا گوشت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل لگی یاد آئے گی
پچھلی پوسٹ
درد کی سرحد سے دل بھی

متعلقہ پوسٹس

اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا

اکتوبر 5, 2025

ایک بے بس کشمیری

مارچ 28, 2022

ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں

نومبر 29, 2020

میرا نام رادھا ہے

جنوری 15, 2020

کافر کوٹ کے کھنڈر

اکتوبر 9, 2022

اندھیرے کا سفر

دسمبر 6, 2024

کروناوائرس: سوالات سے ٹکراتے سوالات

اپریل 15, 2020

گہرے پانیوں والی آنکھیں !

مئی 9, 2020

صدام حسین

مارچ 8, 2026

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

اپریل 4, 2026

2 تبصرے

Bakhtiar Hussein اگست 7, 2026 - 10:00 صبح

Mashallah peer intzaar sahib ap NE sahi frmaea

جواب دیں
Bakhtiar Hussein اگست 7, 2026 - 10:03 صبح

ماشاءاللہ بہت عمدہ جنابِ پیر اِنتظار حُسین مُصوِر ساحب

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

 ماں

مئی 9, 2020

ڈیجیٹل دور میں تعلیم کا نیا...

ستمبر 19, 2025

ابابیل

جنوری 22, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں