خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا23مارچ: یومِ پاکستان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

23مارچ: یومِ پاکستان!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2022 0 تبصرے 31 مناظر
32

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دورس اور تاریخ کا دھاوا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان جسے منٹو پارک کہا جاتا ہے، لاکھوں مسلمان اکھٹے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔
پاکستان کی تاریخ میں تیئیس مارچ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت (مسلم لیگ) نے قائد اعظم محمد علی کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنے ستائیسویں سالانہ اجلاس (منعقدہ لاہور) میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔

1940 میں مسلم لیگ نے اسی قرارداد کو بنیاد بنا کر برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک جدا وطن کے حصول کی جو تحریک شروع کی تھی، وہ صرف سات برس کے مختصر عرصہ میں کامیاب ہوئی تھی۔دنیا میں ہندوستان واحد ملک ہے، جہاں مسلمان آٹھ سو سال حکمران رہے لیکن نہ تو انہوں نے ہندووں کو زبردستی مسلمان بنایا اور نہ ہی ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی، یہی وجہ ہے کہ آٹھ سو سال حکومت کرنے کے باوجود وہ یہاں اقلیت میں رہے۔
قرارداد پاکستان ہی دراصل وہ مطالبہ ہے، جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا اور 23 مارچ کا یہ دن ہر سال اہل پاکستان کو اُسی جذبے کی یاد دلاتا ہے، جو قیام پاکستان کا باعث بنا تھا۔ 23 مارچ 1940 پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے اس روز برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لیے قرارداد منظور کی، جس کو قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔یہ 1941 میں مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی۔

اس میں واضح کیا گیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جو اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، ان کا مذہب، عقیدہ اور رسم و رواج الگ ہیں اوروہ ایک الگ وطن چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ اسی دن 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین بھی منظور ہوا تھا۔آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی یہ متفقہ رائے تھی کہ کوئی دوسرا دستوری خاکہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔
اس تاریخی اجتماع کا آغاز 22 مارچ 1940کو ہوا تھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اس دن اپنی اڑھائی گھنٹے کی تقریر میں فرمایاکہ مسلمان کسی بھی تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں، ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں اورسماجی عادات سے تعلق رکھتے ہیں، جو آپس میں شادی کر سکتے ہیں، نہ اکٹھے کھانا کھا سکتے ہیں۔ آج سے ایک ہزار سال قبل البیرونی نے اپنی معرکتہ الآراء کتاب ”کتاب الہند“ میں لکھا تھا ”ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں، وہ غیرملکیوں کو، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، ملیچھ کے نام سے پکارتے ہیں اور ان سے تعلقات رکھنے کی سخت ممانعت کرتے ہیں“۔
اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے بیگم مولانا محمد علی جوہر نے سب سے پہلے ”قرارداد پاکستان“ کا لفظ استعمال کیا تھا اور آل انڈیا مسلم لیگ نے 1941 میں 23 مارچ کے دن سے ہی ’یوم پاکستان‘ منانا شروع کر دیا تھا۔ اُس وقت قرارداد میں ’پاکستان‘ کا لفظ شامل نہیں ہوا تھا مگربعد میں قائداعظم نے اپنی ایک تقریر میں قرارداد لاہور کے لیے پاکستان کا لفظ قبول کرتے ہوئے اسے قرارداد پاکستان ہی کہا تھا۔ اس اجلاس سے چار روز پیشتر لاہور میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا۔ خاکساروں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالا اور حکومت پنجاب نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کرکے متعدد خاکساروں کو شہید کردیا تھا، اس وجہ سے شہر میں کافی کشیدگی پھیل چکی تھی۔ بعض لوگوں نے قائد اعظم کو جلسہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا لیکن قائد اعظم نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
قائد اعظم کی اس جلسے میں تاریخی تقریر سے اگلے روز یعنی 23 مارچ 1940 کو شیر بنگال مولوی فضل الحق نے وہ تاریخی قرارداد پیش کی، جسے قرارداد لاہور کہا گیا تھا، جو آگے چل کر قیام پاکستان کی بنیاد قرار پائی۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ”کوئی بھی دستوری خاکہ مسلمانوں کے لیے اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا، جب تک ہندوستان کے جغرافیائی اعتبار سے متصل وملحق یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی حد بندی نہ کی جائے اور ضروری علاقائی رد و بدل نہ کیا جائے اور یہ کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی (شمال مغربی اور شمال مشرقی) علاقوں کو خودمختار ریاستیں قرار دیا جائے۔

جس میں ملحقہ یونٹ خودمختار اور مقتدر ہوں اور یہ کہ ان یونٹوں کی اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے صلاح و مشورے سے دستور میں مناسب و مو?ثر اور واضح انتظامات رکھے جائیں اور ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں ان کے اور دیگر اقلیتوں کے صلاح مشورے سے ان کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے“۔
قائداعظم نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، 8 مارچ 1944 کو کہا تھا ”پاکستان تو اسی دن وجود میں آگیا تھا، جس دن ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔“
برصغیر میں مسلمان اور ہندو لگ بھگ ہزار سال ساتھ رہے، مسلمانوں نے حکمرانی کی اورعمومی طور پر ہندووں کے ساتھ انتہائی اچھا رویہ رکھا۔ معروف ہندوستانی مورخ ڈاکٹر تارا چند اپنی تصنیف ”تاریخ ہند“ میں رقم طراز ہیں کہ ”مقامی آبادی کو اس (محمد بن قاسم) نے ایک نیا ریاستی نظام اور فلاحی در و بست عطا کیا، اس سے وہ محمد بن قاسم کی ایسی گرویدہ ہوئی کہ اسے ”لکھ داتا“ کہ کر پکارنے لگی اور اس کی (محمد بن قاسم کی) پرستش کے لیے سندھ میں مندر وجود میں آگئے“۔ یہی ڈاکٹر تارا چند اپنی ایک اور تصنیف ”ہندوستانی تہذیب پر مسلمانوں کا اثر“ میں لکھتے ہیں کہ ”اسلام کے اثر سے ہندو قوم میں مبلغوں کا ایک گروہ پیدا ہوا اور انہوں نے اس کام کو اپنا نصب العین سمجھا، جو کام مسلم صوفی کررہے تھے“۔
لیکن ان دس صدیوں کے دوران میں، ہندو کو جب بھی موقع ملا، اس نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی کوشش کی اورہمیشہ مسلمانوں کو حملہ آور اور اجنبی سمجھا۔ شیوا جی سے لیکر مہاتما گاندھی اور بال ٹھاکرے تک، یہ ہندو قائدین ایک ہی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ انگریزوں کی آمد کے بعد یہ سلسلہ زیادہ تیز ہوا اور مختلف اداور میں ہندووں کی جانب سے مذہبی تحریکیں چلائی گئیں۔
دوسری جانب انگریزوں کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا کہ انہوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی ہے، اس لیے منطقی طور پر ان کو مخالفت کا سامنا بھی مسلمانوں کی جانب سے زیادہ تھا۔ اگرچہ ابتداء میں ہندووں نے بھی انگریزوں کے خلاف تحریک میں حصہ لیا لیکن بعد میں انگریزوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں ہندووں کی زیادہ پذیرائی کرنا شروع کر دی، ان کو ہر معاملے میں مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی، خواہ وہ تعلیم کا میدان ہو، تجارت کا شعبہ ہو یا سیاست؛ ہر جگہ مسلمانوں کو دبایا جاتا اور ہندووں کو شہ دی جاتیدو قومی نظریے نے اسی رویے کے نتیجے میں جنم لیا۔ آج بھی امریکہ ہو یا دیگران کی شہ بھارت کو ہوتی ، تب ہی 90لاکھ انسانی جانیں محصور ، دنیا تماشائی ، آج کا دن تجدید کا ہے۔ہمیں یکجہیتی کی اشد ضرورتہے، یہی اس دن کا تقاضا ہے۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شیرو
  • دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں اک للکار سے
  • حرام جادی
  • فرض اپنا وہ نبھانے آئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لالچ
پچھلی پوسٹ
ایک شام ڈاکٹر ساحل سلہری کے نام

متعلقہ پوسٹس

کُچھ بتائیں دِل کا شِیشہ چُور کیوں رکھا گیا

جنوری 29, 2024

دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں

مئی 23, 2020

ڈھونڈیے مت یہ خیر و شر

فروری 25, 2025

ایک خسارہ دیکھ چکے

جنوری 16, 2025

ہمارے واسطے عالم اضافی !

مارچ 23, 2025

خودی سے پا کے اب فرار دور رہنا ہے

اپریل 4, 2020

ترے فقیر کا تیور

مارچ 4, 2025

پریشر ککر، دھواں اور خواب

دسمبر 17, 2019

عشق کینہ ور کی آگ

جنوری 12, 2020

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وحشی

اکتوبر 29, 2019

ساغر صدیقی کا کرب اور آج...

مارچ 14, 2026

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں