خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامصدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026 0 تبصرے 335 مناظر
336

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کی روشنی میں: رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اپنے نفس کو قابو میں لانے، صبر و تقویٰ حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ انسان کے ظاہر و باطن کو پاک کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے؛ لیکن انسان ہونے کے ناتے روزے کے دوران بعض کوتاہیاں اور لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ انہی کوتاہیوں کی تلافی اور روزے کی تکمیل کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے ایک خاص صدقہ مقرر کیا ہے جسے صدقۂ فطر یا فطرانہ کہا جاتا ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس صدقے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ صدقۂ فطر روزہ داروں کے لیے طہارت اور ان کے روزوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یعنی اگر روزےsadqa fitr کے دوران کسی قسم کی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو یہ صدقہ اس کی تلافی اور تکمیل کا سبب بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے نماز کے فرائض کے ساتھ سنتیں اور نوافل مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اگر فرض نماز میں کسی قسم کی کمی رہ جائے تو وہ سنتوں اور نوافل کے ذریعے پوری ہو جائے۔
روزوں کی تکمیل کا ذریعہ
رمضان المبارک میں مسلمان دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سے کوئی غیر مناسب بات ہو جائے، غفلت کا لمحہ آ جائے یا عبادت میں وہ کمال حاصل نہ ہو سکے جو مطلوب تھا۔ ایسی صورت میں صدقۂ فطر ایک روحانی صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔
یہ گویا روزے کی عبادت پر لگنے والی ایک مہرِ قبولیت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حضور بندے کی عبادت کو مزید کامل اور پاکیزہ بنا دیتی ہے۔
صدقۂ فطر کی ایک بڑی حکمت معاشرے میں ہمدردی، مساوات اور اجتماعی خوشی کو فروغ دینا بھی ہے۔ عیدالفطر مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔ مالدار اور خوشحال لوگوں کے گھروں میں تو عید کے دن خوشیاں اور نعمتیں ہوتی ہیں، لیکن معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غربت اور محتاجی کی وجہ سے بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں۔
اگر ایسے غریب لوگ عید کے دن بھی اسی طرح محرومی اور فقر میں رہیں تو عید کی اجتماعی خوشی کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر شفقت کرتے ہوئے مالدار مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ وہ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کریں، تاکہ مسکین اور محتاج لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
اسلام نے صدقۂ فطر کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ اس کی حکمت یہی ہے کہ محتاج اور نادار لوگ عید کے دن کسی قسم کی پریشانی اور محتاجی میں مبتلا نہ ہوں۔ جب انہیں عید سے پہلے یہ مدد مل جاتی ہے تو وہ بھی خوشی کے ساتھ عید منا سکتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے کچھ خرید سکتے ہیں اور معاشرے کی اجتماعی خوشیوں میں برابر کے شریک بن سکتے ہیں۔
حضرت تھانویؒ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اگر معاشرے میں مساکین اور محتاجوں کی تعداد زیادہ ہو تو صدقۂ فطر کو ایک منظم طریقے سے جمع کرنے کا انتظام ہونا چاہیے، جیسے بیت المال کے نظام کے ذریعے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ محتاجوں کو یقین ہو جائے گا کہ معاشرہ ان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔
یہ دراصل اسلام کے اس عظیم معاشرتی اصول کی طرف اشارہ ہے کہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کی کفالت اجتماعی ذمہ داری ہے۔
صدقۂ فطر میں اسلام نے عبادت اور خدمتِ خلق کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ ایک طرف یہ عبادت بندے کے روزوں کو پاکیزہ اور مکمل بناتی ہے، اور دوسری طرف معاشرے کے محتاج افراد کی مدد کا ذریعہ بنتی ہے۔
یوں یہ صدقہ انسان کے اندر ایثار، سخاوت اور ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی دولت میں دوسروں کا بھی حق ہے۔

ابو خالد قاسمی آسامی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آج ذکر ھوگا ذکرمصطفےﷺ
  • اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
  • نازو
  • نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دہلیز کا آخری وعدہ
پچھلی پوسٹ
لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

متعلقہ پوسٹس

بچنی

جنوری 21, 2020

بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل

ستمبر 2, 2025

رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف

اکتوبر 29, 2020

اتنے برس گزار دیے، میسج نہیں کیا

اکتوبر 4, 2026

احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

فروری 5, 2023

ابدی موت

جنوری 2, 2022

تُو رسُولِﷺ حق، تُو قبولِ حق

اکتوبر 14, 2019

اکبر الہ آبادی، نوآبادیاتی نظام اور عہد حاضر

مئی 27, 2024

فردوسِ بریں

جون 5, 2026

رفتار

جنوری 2, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پرانے خدا

اکتوبر 24, 2019

چمنیوں کے دھوئیں سے اٹا

فروری 22, 2026

دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر...

اکتوبر 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں