خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامصدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026 0 تبصرے 112 مناظر
113

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کی روشنی میں: رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اپنے نفس کو قابو میں لانے، صبر و تقویٰ حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ انسان کے ظاہر و باطن کو پاک کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے؛ لیکن انسان ہونے کے ناتے روزے کے دوران بعض کوتاہیاں اور لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ انہی کوتاہیوں کی تلافی اور روزے کی تکمیل کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے ایک خاص صدقہ مقرر کیا ہے جسے صدقۂ فطر یا فطرانہ کہا جاتا ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس صدقے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ صدقۂ فطر روزہ داروں کے لیے طہارت اور ان کے روزوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یعنی اگر روزےsadqa fitr کے دوران کسی قسم کی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو یہ صدقہ اس کی تلافی اور تکمیل کا سبب بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے نماز کے فرائض کے ساتھ سنتیں اور نوافل مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اگر فرض نماز میں کسی قسم کی کمی رہ جائے تو وہ سنتوں اور نوافل کے ذریعے پوری ہو جائے۔
روزوں کی تکمیل کا ذریعہ
رمضان المبارک میں مسلمان دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سے کوئی غیر مناسب بات ہو جائے، غفلت کا لمحہ آ جائے یا عبادت میں وہ کمال حاصل نہ ہو سکے جو مطلوب تھا۔ ایسی صورت میں صدقۂ فطر ایک روحانی صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔
یہ گویا روزے کی عبادت پر لگنے والی ایک مہرِ قبولیت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حضور بندے کی عبادت کو مزید کامل اور پاکیزہ بنا دیتی ہے۔
صدقۂ فطر کی ایک بڑی حکمت معاشرے میں ہمدردی، مساوات اور اجتماعی خوشی کو فروغ دینا بھی ہے۔ عیدالفطر مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔ مالدار اور خوشحال لوگوں کے گھروں میں تو عید کے دن خوشیاں اور نعمتیں ہوتی ہیں، لیکن معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غربت اور محتاجی کی وجہ سے بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں۔
اگر ایسے غریب لوگ عید کے دن بھی اسی طرح محرومی اور فقر میں رہیں تو عید کی اجتماعی خوشی کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر شفقت کرتے ہوئے مالدار مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ وہ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کریں، تاکہ مسکین اور محتاج لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
اسلام نے صدقۂ فطر کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ اس کی حکمت یہی ہے کہ محتاج اور نادار لوگ عید کے دن کسی قسم کی پریشانی اور محتاجی میں مبتلا نہ ہوں۔ جب انہیں عید سے پہلے یہ مدد مل جاتی ہے تو وہ بھی خوشی کے ساتھ عید منا سکتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے کچھ خرید سکتے ہیں اور معاشرے کی اجتماعی خوشیوں میں برابر کے شریک بن سکتے ہیں۔
حضرت تھانویؒ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اگر معاشرے میں مساکین اور محتاجوں کی تعداد زیادہ ہو تو صدقۂ فطر کو ایک منظم طریقے سے جمع کرنے کا انتظام ہونا چاہیے، جیسے بیت المال کے نظام کے ذریعے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ محتاجوں کو یقین ہو جائے گا کہ معاشرہ ان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔
یہ دراصل اسلام کے اس عظیم معاشرتی اصول کی طرف اشارہ ہے کہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کی کفالت اجتماعی ذمہ داری ہے۔
صدقۂ فطر میں اسلام نے عبادت اور خدمتِ خلق کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ ایک طرف یہ عبادت بندے کے روزوں کو پاکیزہ اور مکمل بناتی ہے، اور دوسری طرف معاشرے کے محتاج افراد کی مدد کا ذریعہ بنتی ہے۔
یوں یہ صدقہ انسان کے اندر ایثار، سخاوت اور ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی دولت میں دوسروں کا بھی حق ہے۔

ابو خالد قاسمی آسامی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خوشبوئے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
  • نپولین کی محبوبہ
  • نفسیات شناس
  • ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دہلیز کا آخری وعدہ
پچھلی پوسٹ
لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

متعلقہ پوسٹس

اُلّو ہمارے بھائی ہیں

دسمبر 16, 2019

مولانا وحید الدین خان اور اُردو ادب

ستمبر 20, 2025

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

اے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!

نومبر 25, 2020

چمک، شہرت اور تلخ حقیقت

فروری 22, 2026

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہے

جنوری 12, 2026

غیر منظم منصوبہ بندیاں!

جنوری 29, 2021

ڈیجیٹل دہشتگردی

جنوری 4, 2026

زہے نصیب جو ہوتی رہے حضورؐﷺ کی نعت

مئی 19, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یوگا – جسم اور ذہن کے...

اگست 29, 2025

شجرہ نصب

اکتوبر 22, 2025

کتنے پل صراط

جون 2, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں