خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020 0 تبصرے 65 مناظر
66

یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی! (اساتذہ کے نام)

کورونا نے دنیا کو بدترین معاشی بدحالی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ اہل نظر کے پاس اسکی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں، سب سے پہلے دھیان اس بات پر جاتاہے کہ حکمت عملی کی خامیوں کی بدولت ایسا ہوا، لیکن حکمتِ عملی ترتیب دینے والے اس کرہ ارض کے انسان ہیں اور یہ صرف وہی دیکھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں اور کرسکتے ہیں جہاں تک انہیں رسائی دی جاتی ہے۔آفتیں ہمیشہ سے آتی رہی ہیں اور یہ بھی لکھنے میں کوئی تردد نہیں کہ قدرت اپنے دائرہ اختیار میں محدود عمل دخل کی اجازت دیتی ہے، جب کبھی زیادہ معاملات تک رسائی کی کوششیں کی گئیں تو آفتوں کا نزول ہونا شروع ہوگیا۔اس طرح سے دنیا کا ہر خطہ ان آفتوں سے خوب واقف رہا جس کے پیش نظر ترقی کرتی دنیا نے مصیبتوں اور آفتوں پر تحقیقات کیں اور نمٹنے کی حتی الامکان حکمت عملیاں مرتب دینا شروع کردیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان قدرتی آفات کو روکا نہیں جاسکتا سوائے اسکے کے اس کے وارد ہونے کے وقت کا کسی حد تک تعین کرلیا جائے یا پھر رونما ہوجانے کی صورت میں جلد از جلد کم سے کم نقصان کیلئے کوشش کی جائے۔ بچاؤ یا نمٹنے کی حکمت عملی کا براہ راست تعلق ملکوں کی ترقی سے ہوتا ہے، ترقی یافتہ ممالک جن کی تعداد بہت کم ہے، نے بہترین تکنیکی محارت اورآلات(مشینیں)سنگین حالات میں استعمال کرنے کیلئے ایجاد کرلیں ہیں،جبکہ ترقی پذیر ممالک ابھی ترقی یافتہ ہونے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں جہاں آفت آجائے تو کچھ گنوا دیتے ہیں، کچھ بچا لیتے ہیں۔اسطرح دنیا کی آدھی آبادی اوسط ترقی پذیر ہے جبکہ باقی آدھی آبادی جسے عام فہم اصطلاح میں تیسری دنیا کہا جاتا ہے،سے زیادہ جانا جاتا ہے، یہ وہ آبادی ہے جو ابھی تک آفتوں کی زد میں آکر مرنے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی اور ملبے کے ڈھیر سے تباہ شدہ سامان اورمسخ شدہ لاشیں نکالنے کیلئے بھی دوسروں کے رحم و کر م پر ہوتی ہے۔
کورونا کے باعث سال رواں (۰۲۰۲) کو بہت سخت اور کٹھن سال کہا جا رہاہے، کیونکہ ابھی کوئی آگاہی نہیں کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا،یہ تو بتادیا گیا ہے کہ ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بد تر ہوگا اسی تناظر میں ڈر ہے کہ کہیں آنے والا سال ۰۲۰۲ کو بھلادینے والا نا ہو(خاکم بدہن)۔ وقت گزر رہا ہے سرد یوں کے موسم سے قبل ارباب اختیار اس بات کا اندیشہ ظاہرچکے ہیں کہ موسم سرما میں کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے بد قسمتی سے اب ایسا ہورہا ہے۔آج کورونا کے وار بھرپور طریقے سے پورے پاکستان میں جاری و ساری ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ابھی تک اس وباء کو وباء ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔ جیسا کہ کچھ حکومتی حکمت عملیوں اور باقی قدرت کے رحم کرنے کی وجہ سے ہم اس وباء کے پہلے دور سے کسی حد تک سکون سے گزر گئے لیکن اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ ابھی ہمیں کورونا کیساتھ رہنا ہے جسکے لئے ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا اور بار بار ہاتھ دھونا لازمی قرار پایا۔ ان ہدایات کو عمومی طور پر ہوا میں اڑا یا جاتا رہا۔ کورونا کے پہلے دور میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کروادیا گیا گوکہ یہ ایک اچھا اقدام تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اس بات کو خاطر میں نہیں رکھا گیا کہ ہمارے ملک کی ایک اندازے کیمطابق تقریباً ۵۷ فیصد آبادی نجی تعلیمی اداروں (چھوٹے، درمیانے اور بڑے سب ملا کر)میں تعلیم حاصل کرتی ہے جو اساتذہ کے روزگار کا بھی ایک باقاعدہ ذریعہ ہے(بعض جگہوں پر تو باقاعدہ کروبار کی طرز پر ہی تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں) اس کے برعکس سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دینے والے اساتذہ سرکار سے تنخواہ لیتے ہیں جس کے رکنے کا یا کم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایک عام رائے کیمطابق یہ وہ اساتذہ ہیں جو باآسانی کہیں اور بھی اپنی معاشی ضروریات کیلئے برسر روزگار ہوتے ہیں۔یہاں یہ وضاحت بھی کرتے چلیں، بہت ممکن ہے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں اور ان میں کام کرنے والوں (بشمول اساتذہ)کی تعداد نجی اسکولوں کی عمارتوں اور ان میں کام کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔
رواں سال اپنے آغاز سے ہی بین الاقوامی معیشت کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا لیکن دو وقت کی روٹی کمانے اور اپنے بچوں کی بہت ہی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورے کرنے والے اور مستقبل کے معماروں کی تعمیر و تشکیل کرنے والے حکومتوں کی نظر سے محروم رہے ہیں جی ہاں ایسے انگنت سفید پوش اساتذہ جوتقریباً گزشتہ دس ماہ سے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی بقاء کیلئے جنگی بنیادوں پر برسر پیکا رہیں۔ یوں تو ہم سب ہی اس دور میں کسی نا کسی قسم کی مشکل سے دوچار ہیں لیکن اساتذہ کا وہ مقام ہے جو ملکوں اور قوموں کے مستقبل کے معماروں کو تیار کرتے ہیں، یوں سمجھئے کہ آج دنیا میں موجود تقریباً ہر سہولت کے پیچھے ان اساتذہ کا ہی ہاتھ ہے، یہ ان ہی کا کمال ظرف ہوتا ہے کہ وہ بلا تفریق بچے کو پرکھتے ہیں اور اسے اسکے اندر موجود قابلیت سے آگاہ کرتے ہیں، یہ اساتذہ کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ دنیا کہ کسی بھی بڑے سے بڑے مفکر، سائنسدان، فلاسفر غرض یہ کہ ہر نامی گرامی قابل قدر شخصیت کو ایک استاد نے ہی تیار دیا ہوتا ہے۔
ہمارے ایک عزیز (ویسے تو ہر دل عزیز ہیں)سر محمد راحیل جوکہ تقریباً اپنی اعلی تعلیم مکمل کرنے کیساتھ ساتھ درس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہوئے اور گزشتہ تقریباً دس بارہ سال سے اس پیغمبرانہ پیشے سے وابسطہ ہیں، یہ ان چند افراد میں سے ایک ہیں جو علم کی ترویج کو حقیقی معنوں میں عین عبادت کے مترادف سمجھتے ہیں اورو علم کی روشنی کی قندیل لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، اس بات کی گواہی یہ ہے کہ ہم سے اکثر ملاقاتوں کے دوران بھی انکے شاگردوں کے فون آتے ہیں اور یہ نجی محفل میں ہونے والی گفتگو ترک کر کے فون پر آنے والے طالب علم کا مسلۂ حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ سر محمد راحیل کراچی کے ایک نامی گرامی تعلیمی ادارے میں بطور وائس پرنسپل وابسطہ ہیں جہاں بہت کم وقت میں اپنی دیانت اور محنت سے اپنا مقام بنایا۔ان سے ہماری گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی تو سر راحیل نے برملا بہت غم و غصہ کا اظہار کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے سارے کاروبار جو ں کے توں چل رہے ہیں، تقریبات اپنے شایہ شان چل رہی ہیں (جن میں گزشتہ دنوں لاہور میں منعقد ہونے والی شادی بھی زیر بحث آئی پھر کراچی میں منعقد ہونے والی ایک منگنی کی تقریب اور سب سے بڑھ کر سیاسی جلسے)۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ سب سے پہلے تعلیمی ادارے کیوں بند کردئیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد سر راحیل نے اپنے پیشے سے وابسطہ لوگوں کے مسائل سے آگا ہ کیا اور اساتذہ گزشتہ دس ماہ سے کن کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اس کا شائد کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے(مجھے اس بات کی شدت کا اندازہ اس بات سے ہوا کہ کچھ اساتذہ کی حالات زار بیان کرتے ہوئے سر راحیل کی آنکھوں میں نمی امڈ آئی تھی)۔ ہمارے پاس بہت ساری توجیحات تھیں جو میں ہمیشہ سے دیا کرتا رہا ہوں لیکن اب کی بار میں نے کچھ بھی نہیں کہا، کیوں کے تکلیف کی شدت کا صحیح اندازہ تکلیف زدہ سے بہتر کوئی نہیں لگا سکتا۔
سب سے پہلے تو حکومت کو تمام اساتذہ کا بذریعہ تعلیمی اداروں کے اندارج (ریجسٹریشن) کرنا چاہئے اسکے بعد ایسے حالات میں تمام تعلیمی اداروں کیساتھ بیٹھ کر کوئی مربوط حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے کہ جس سے اساتذہ کی فلاح و بہبود اور سب سے بڑھ کر انکی عزت نفس مجروح ہونے سے محفوظ رہ سکے۔ معاشرتی اعتبار سے والدین پر بھی یہ لازم ہے کہ اس بات کو سمجھیں کہ جس طرح انکے گھر کا چولا جلانے کیلئے وسائل کی ضرورت ہے بلکل اسی طرح اساتذہ کو بھی درپیش ہے وہ اگر بچوں کی پوری فیس نہیں دے سکتے تو تعلیمی ادارے کی انتظامیہ سے بات کریں اور جتنا حصہ فیس کا سہولت سے دے سکتے ہیں ادا کریں، سلسلہ تو قائم رکھیں۔اس وقت جڑے رہنے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کو چھوڑ نے کی ایک دوسرے کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ ہم بارہا اپنے مضامین میں یہ جملہ لکھتا رہا ہوں کہ کورونا انسانیت کو زندہ کرنے کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہے ایسے میں جن لوگوں نے ایک دوسرے کا خیال رکھا ایک دوسرے سے نبہاتے رہے یقینا اللہ ان سب کیساتھ آسانی کا معاملہ فرمائیں گے۔ بیشک موت برحق ہے۔
آخیر میں لازمی سمجھتا ہوں کہ ایک قیمتی بات آپ لوگوں تک پہنچاؤں اور وہ یہ کہ جب کبھی بھی کسی حوالے میں بھی اساتذہ کا ذکر آتا ہے تو ہمیں قابل احترام اشفاق احمدؒ صاحب کا وہ جملہ کسی ہزار وولٹ کے بلب کی طرح دماغ میں جل جاتا ہے اور وہ تاریخی جملہ جو اٹلی کی عدالت میں موجودمنصف (جج) کو پتہ چلنے پر کہ اس کمرے میں ایک استاد (خود اشفاق احمدؒ) موجود ہے تو وہ منصف یہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا تھا کہ (Teacher in the Court)استاد کمرہ عدالت میں۔جو اس بات کی دلیل ہے کہ استاد کس مرتبے پر فائز ہوتا ہے۔ قران کریم میں اللہ رب العز ت فرماتے ہیں کہ تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو قران سیکھے اوردوسروں کو سیکھائے۔حضرت محمد ﷺ جن کے ذریعے سے اللہ تعالی نے ساری دنیا کو روشن کرایا اور آپ ﷺ استاد اعظم کے مرتبے پر فائز ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے کسی نے ایک لفظ سیکھایا تو اس نے مجھے تمام زندگی کیلئے اپنا غلام بنالیا۔
جی ہاں اساتذہ ہی وہ حقیقی چراغ ہیں جو جلینگے تو روشنی کے استعارے بنیں گے تو آئیں ہر سطح پر اس آگاہی کو عام کریں اور عہد کریں کہ اساتذہ کا خصوصی خیال رکھین گے۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہم ہیں سُوکھے ہُوئے شجر آقا ؐ
  • اللہ والے
  • ہماری ضِد ہے
  • مجھ پہ بہتان لگاؤ گے، چلے جاؤگے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!
پچھلی پوسٹ
اشفاق احمد

متعلقہ پوسٹس

بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات

مارچ 4, 2026

کب کہا کم، بہت زیادہ ہے

جولائی 5, 2024

سانجھ

جنوری 5, 2020

ہے خبر گرم

دسمبر 6, 2019

بریدہ سر تھے مرے خواب

نومبر 17, 2025

ایسے بنیاد ہلاتے ہیں مرے شہر کے لوگ

جنوری 28, 2020

رقصِ شرر

جنوری 3, 2020

خواتین کی محفل

اپریل 1, 2023

ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم!

اکتوبر 31, 2021

بند کمرے میں کوئی میرے

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محمودہ

جنوری 17, 2020

قوموں کی حیات اور اقبال کا...

فروری 6, 2026

کسی چراغ کی لَو کی طرح...

اپریل 15, 2016
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں