خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااچھے ہمسائے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو تراجم

اچھے ہمسائے

از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2022 0 تبصرے 31 مناظر
32

افسانہ : اچھے ہمسائے (Good Neighbours )
افسانہ نگار : بروس ہالینڈ روجرز ( Bruce Holland Rogers )
اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاورؔ

اوپر رہنے والے ہمسایوں نے سنجے اور جمیلہ کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی ؛ وہ واقعی بہت برے ہمسائے تھے ۔ ماں ہر وقت تمباکو کے بادل بناتی رہتی ۔ باپ نے کبھی مسکراہٹ کا جواب مسکرا کر نہ دیا تھا اور بچے تو گندے تھے ہی ۔ ۔ ۔ ایسے لگتا تھا جیسے انہوں نے جب سے جوتے پہنے تھے ، تب سے انہیں کبھی اتارا ہی نہ تھا ۔ دھب ۔ ۔ ۔ دھب ۔ ۔ ۔ دھب ! رات میں جب بھی کبھی وہ پانی پینے کے لئے اٹھتے تو ایسی آوازیں نکالتے جیسے اوپر ایک پونی(Pony) ہو ۔ سنجے اور جمیلہ کو گاڑی کھڑی کرنے کے لئے جگہ کی بھی ضرورت تھی ۔ جمیلہ سنجے کو درس گاہ سے لا کر سہ پہر والی شفٹ میں کام پر جاتی ۔ جب وہ گھر واپس آتی تو شہر تاریک ہو چکا ہوتا اور ہر سُو خاموشی چھا چکی ہوتی ۔ ان کی گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ عمارت کے قریب اور خوب روشن تھی لیکن اوپر والے ہمسائے ہمیشہ ان کے لئے مخصوص کی گئی جگہ پر اپنی گاڑی کھڑی کر دیتے اور جمیلہ کواپنی گاڑی ایسی جگہ پارک کرنا پڑتی جو گاڑیوں کے لئے مخصوص نہ تھی اور دوسرے یہ تاریک بھی تھی ۔ ہمسایوں کے پاس ایسا کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی ۔ جمیلہ نے ان سے شائستگی سے بات کی ۔ سنجے نے بھی ان سے بات کی گو وہ کم شائستہ تھا لیکن اس نے بھی تہذیب کا دامن نہ چھوڑا ۔ لیکن دھب ۔ ۔ ۔ دھب ۔ ۔ ۔ دھب ، پھر بھی جاری رہی ۔ سنجے نے منیجر سے بات کی ، جس نے انہیں خط بھی لکھا لیکن ہمسائے ، جہاں ان کا دل کرتا ، گاڑی پارک کر دیتے ۔اس سے برا یہ تھا کہ سنجے کو یہ بھی شک تھا کہ وہ اپنی بالکونی سے ان کے ننھے سے پھولوں والے باغیچے میں پرندوں کے لئے دانہ بھی پھینکتے تھے ۔ پیلے رنگ کے یہ ننھے بیج اور کہاں سے آ سکتے تھے جن سے لگاتار گھاس پھوس پھوٹتی رہتی تھی ؟
جب سنجے کی ڈگری مکمل ہو گئی تو دونوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا اپارٹمنٹ بدلیں گے اور سب سے اوپر والی منزل پر لیں گے ۔ اور بھی کہ وہ سب سے اوپر رہنے کی وجہ سے نیچے والے ہمسایوں کے لئے بُرے ہمسائے ثابت نہیں ہوں گے ۔ وہ مہذب لوگوں کی طرح گھر میں جوتے اتار کر پھریں گے اور جرابوں یا چپل میں بھی لکڑی کے فرشوں پر آرام سے چلیں گے ۔
اور پھر ایسا ہوا کہ وہ اپنے نئے اپارٹمنٹ میں جا بسے ۔ یہ تیسری منزل پر تھا ۔ وہ اونچی آواز میں موسیقی نہیں سنتے تھے اور ٹیلی ویژن تو ان کے پاس تھا ہی نہیں ۔
ایک روز جب سنجے کام پر گیا ہوا تھا تو دروازے کی گھنٹی بجی ۔ جمیلہ نے دروازہ کھولا تو راہدری میں ایک بزرگ خاتون کو کھڑے پایا ۔ جمیلہ نے اسے ڈیوڑھی دیکھا ہوا تھا جہاں ڈاک کے بکسے لگے ہوئے تھے ۔
” میری پیاری ، “ ، عورت نے کہا ، ” مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تم اپنے خاوند سے یہ کہو کہ وہ تب تک جوتے نہ پہنا کرے جب تک وہ ساری سیڑھیاں اتر کر نیچے نہیں آ جاتا ۔ وہ صبح صبح بہت شور برپا کرتا ہے ۔ “
” اوہ ، ڈئیر “ ، جمیلہ نے کہا ، ” ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا ۔ میں یقیناً اس سے بات کروں گی ۔ ویسے میرا نام جمیلہ ہے ۔ کیا آپ چائے پینے کے لئے اندر آنا پسند کریں گی ؟ “
” تمہیں اونچا بولنا ہو گا “ ، عورت نے اپنا ہاتھ کان کے پاس لے جاتے ہوئے گہا ۔
” کیا آپ ایک کپ چائے پینا پسند کریں گی ؟ “ جمیلہ نے اونچی آواز میں دوہرایا ۔
” چائے؟ “ ، بزرگ عورت نے بات کو یقینی بنانے کے لئے کہا ، ” شکریہ ، ہاں ، شکریہ ، تم بہت مہربان ہو ۔“
اس بزرگ عورت کا نام مسز ویرک تھا ۔ جمیلہ یہ اندازہ نہ کر سکی کہ وہ کتنی بوڑھی ہو گی ۔ عورت کی جلد اتنی صاف شفاف تھی جتنی کہ بہت زیادہ عمر رسیدہ لوگوں کی ہوتی ہے اور اس نے جمیلہ سے بار بار کہا کہ وہ اپنی کی ہوئی بات دوہرائے ۔ اس سے جمیلہ کو حیرانی ہوئی کہ سنجے کے قدموں کی آواز اس کے لئے خلل کا باعث کیسے بن سکتی تھی ۔ جمیلہ نے ، بہرحال ، اس رات اپنے خاوند سے اس بارے میں بات کی ۔
” ٹھیک ہے ۔ مجھے اس بات میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا کہ میں نیچے جا کر جوتے پہن لیا کروں ۔“ ، اس نے جواب دیا ، ” ویسے وہ کس اپارٹمنٹ میں رہتی ہے ؟ “
جمیلہ نے اسے بتایا ۔ سنجے نے سوچا کہ یہ عجیب بات تھی کہ اس کے قدموں کی آواز اس عورت کو پریشان کرتی ہو کیونکہ وہ سیڑھیوں والی جگہ کے قریب بالکل نہ رہتی تھی ۔
اگلی بار مسز ویرک نے ایک اور شکایت کی ۔ اس بار یہ چرچراہٹ پیدا کرتے فرشوں کے بارے میں تھی ۔
” لیکن “ ، جمیلہ نے ایک اچھی ہمسائی کی طرح کپ میں چائے ڈالتے ہوئے کہا ، ” آپ اور ہمارے بیچ پوری ایک منزل حائل ہے ۔ کیا آپ کو یقین ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ چڑچڑاہٹ کی آواز ان ہمسایوں کے ہاں سے آتی ہو جو بالکل آپ کے اوپر رہتے ہیں ۔“
” اس اپارٹمنٹ میں رہنے والے تو چوہوں جیسے خاموش طبع ہیں ۔“ ، مسز ویرک نے جواب دیا ، ” مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ فرش کس بُری طرح سے چرچراتے ہیں ۔ اگر تم لوگ ذرا زیادہ محتاط رہو کہ ان جگہوں پر پاﺅں نہ پڑیں جو آواز پیدا کرتے ہیں ۔ “
بعد ازاں سنجے نے کہا ، ” ٹھیک ہے ، لیکن یہ خاصی عجیب بات ہے ۔ تم کہتی ہو کہ وہ بمشکل ہی سن سکتی ہے ؟ اور پھر بھی اسے فرش کی چرچراہٹ جو دو منزل اوپر سے آتی ہے ، پریشان کرتی ہے ۔ خیر ، ہمیں اس میں کوئی مشکل نہیں ہے کہ ہم احتیاط کریں کہ ہمارے قدم کہاں پڑ رہے ہیں ۔ “
اس کے بعد کئی ہفتوں تک جمیلہ نے مسز ویرک کو ڈاک کے بکسوں کے پاس نہیں دیکھا ۔ گھنٹی کی آواز پر جب اس نے دروازہ کھولا تو وہ مسز ویرک کو واکر(Walker) کے سہارے کھڑا دیکھ کر حیران ہوئی ۔
” میں بیمار ہوں “ ، بزرگ عورت نے کہا ۔ اس نے جب اپنا ایک ہاتھ واکر سے اٹھایا تو اس کا پورا بازو بری طرح سے لرزا ۔ ” میں بہت معذرت خواہ ہوں ۔ بہت معذرت خواہ ۔ ۔ ۔ مجھے آرام کی سخت ضرورت ہے لیکن تم لوگوں کی آوازیں مجھے سونے نہیں دیتیں ۔ “
اُس نے اِس بار جمیلہ کی چائے کی دعوت ٹھکرا دی ۔
سنجے جب کام سے گھر واپس آیا تو اس نے کہا ؛ ” ہماری آوازیں اتنی دور تک کیسے جا سکتی ہیں ! “
”شی “ ، جمیلہ بولی ، ” شاید پانی کی نالیوں کے ذریعے۔ “
” یہ لغو بات ہے ! “ ، سنجے نے کہا ۔
” پلیز ، اپنی آواز دھیمی رکھو۔ “ ، جمیلہ نے التجا کی ، ” ہمیں ان لوگوں کی طرح نہیں کرنا چاہیے جس طرح کے لوگ ہمارے اوپر رہتے تھے ۔“
سنجے نے نرمی سے کہا ، ” ہم ان جیسے نہیں ہیں ۔“
” وہاں تم مجھ سے سرگوشیوں میں ہی بات کرتے تھے ۔ “ ، جمیلہ نے تاسف سے کہا ۔´
” ہاں مجھے یاد ہے “ ، سنجے نے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی ۔
ایک رات ایمبولینس کی جلتی بجھتی روشنیوں نے انہیں جگا دیا ۔ مسز ویرک پر فالج کا حملہ ہوا تھا ۔ انہوں نے ، گو ، پیرامیڈیکل سٹاف کو اسے سٹیچر پر ڈالے لے جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا لیکن جمیلہ اور سنجے اس کے بعد بھی احتیاط برتتے ہوئے سرگوشیوں میں باتیں کرتے رہے ۔ پھر ایک بار ، جمیلہ نے ڈاک کے بکسوں کے پاس ایک اور ہمسائی سے سنا کہ مسز ویرک مر گئی تھی ۔
” خیر “ ، سنجے نے کہا ، اس بار اس کی آواز اونچی تھی ، ” ہم آخر تک اچھے ہمسائے رہے ۔ “
” کیا واقعی ایسا تھا ؟ “
” ہم ملنسار رہے ہیں ! تم اسے اندر بلا کر چائے پلاتی رہی ہو ! تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے ؟ لگتا ہے کہ تم خود کو قصوروار سمجھ رہی ہو ! “
” یہ اداسی والی بات تو ہے نا “ ، وہ بولی ، ” ہمیں اسے کھانے پر بلانا چاہیے تھا ۔“
” اور اگر تم نے ایسا کر لیا ہوتا تو کیا وہ ہمیشہ زندہ رہتی ؟ “
اس کے بعد انہوں نے اس بزرگ خاتون کے بارے میں دوبارہ کبھی بات نہ کی ۔ لیکن ایک رات ، جب یہ بہت گہری تھی اور جب ٹیلی فون کی گھنٹی یا تو غلطی سے بج اٹھتی ہے یا پھر کوئی بھیانک خبر لاتی ہے ۔ ۔ ۔ فون بجا ۔ سنجے نے اسے اٹھایا ۔ اس نے کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوئے کہا ؛ ” ہیلو؟ ۔ ۔ ۔ ہیلو؟ “
ٹیلی فون کی لاین میں سرسراہٹ تھی اور آواز ٹوٹ ٹوٹ کر آ رہی تھی ۔
” ہیلو“ ، وہ پھر بولا ، ” ہیلو ! “
ایک مدہم ، مشکل سے سنے جانے والی آواز ستاروں کی درمیانی دراڑوں کے درمیان اور سورج کی ساکت ہوا (Static Solar Wind) میں سے آتی آواز کو وہ نہ پہچان سکا جو اس کی بیوی کا نام لے رہی تھی ۔
”یہ ایک بُرا کنکشن ہے ۔ ۔ ۔ “ ، اس نے جمیلہ کو فون تھماتے ہوئے کہا اور بستر پر واپس چلا گیا ۔
”جی ؟ “ ، جمیلہ نے فون میں کہا ۔ ” ہیلو۔ ۔ ۔؟ جی ۔ ۔ ۔ ؟ ہیلو ۔ ۔ ۔ ؟ کیا آپ ابھی بھی لائن پر ہیں ؟ ”
” تمہارا خاوند “ ، ایک مانوس آواز نے کہا جسے جمیلہ پہلے پہچان نہ پائی ۔
” مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تمہارا خاوند خراٹے لے رہا ہے ۔“

مصنف کا تعارف :

بروس ہالینڈ روجرز ( Bruce Holland Rogers) امریکی کہانی کار ہے ۔ وہ ’ Hanovi Braddock ‘ اور ’ Victor Appleton ‘ کے قلمی و سنڈیکیٹ ناموں سے بھی لکھتا ہے ۔ اس کی تحریروں کے آٹھ مجموعے ، نان فکشن کی ایک کتاب اور دو ناول ’ Mind Games ‘ اور ’ Ashes of the Sun ‘ شائع ہو چکے ہیں ۔ اس کی ایک کہانی ’ Lifeboat on a Burning Sea ‘ پر ’ The Other Side ‘ کے نام سے ایک مختصر فلم بھی بن چکی ہے ۔ ویسے تو اس کا گھر ’ ایوجین ‘ ، اوریگون میں ہے لیکن وہ لندن ، برطانیہ میں بھی بہت عرصہ رہا ہے ۔ اس کی کہانیاں سائنس فکشن ، فینٹسی ، پُراسرار ، تجرباتی اور اِررئیل فکشن میں شمار ہوتی ہیں جبکہ کچھ ایسی بھی ہیں جن کو کسی صنف میں قید نہیں کیا جا سکتا ۔ کہانیاں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں’ تخلیقی تحریر‘ ( Creative Writing ) کا استاد بھی ہے ۔

قیصر نذیر خاورؔ پاکستان کے ممتاز افسانہ نگار ، انشاءپرداز اورترجمہ نگار ہیں ۔سولہ سے زائد کتابوں کے مصنف/مترجم ہیں۔ جن میں ہاروکی موراکامی ، ایلس منرو، برناڈ شیلنک، جے ایشر ، ستیہ جِت رے کی تخلیقات کے تراجم نمایاں ہیں۔ حال ہی میں دو طبع زاد ناولٹ "دی فادر ، دی سَن اینڈ دی ہولی گھوسٹ” اور "ادھ کھلے دریچے” شایع ہوئے ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حیاتِ رواں
  • تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
  • مشتاق تیرے کر رہے ہیں
  • ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہنگامہ گرم کُن جو دل ناصبور تھا
پچھلی پوسٹ
بابل رے توری بنتی کروں ہوں

متعلقہ پوسٹس

پچھتاوا

دسمبر 10, 2021

گاف گُم

جنوری 13, 2020

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں گیا

مئی 22, 2020

بغیر بولے مرا مدعا سمجھتا ہے

اپریل 23, 2022

قیدِ موجود و میسر میں نہیں رہنے دیا

دسمبر 15, 2019

مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

دسمبر 27, 2023

بات اپنی سنا کے دیکھوں گا

اکتوبر 25, 2025

لائیسنس

جنوری 12, 2020

دست ربّ قدیر کی جانب

اپریل 25, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ستائیسویں آئینی ترمیم

نومبر 7, 2025

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے

جنوری 6, 2020

یہ ہے تو رب کی جانب...

جون 17, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں