خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباستائیسویں آئینی ترمیم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ستائیسویں آئینی ترمیم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 7, 2025 0 تبصرے 63 مناظر
64

ستائیسویں آئینی ترمیم: اصلاحات کا نیا باب

پاکستان کا آئین ایک ایسی دستاویز ہے جو صرف قانون نہیں بلکہ قوم اور ریاست کے درمیان ایک عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عہد وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ ملک کے حالات، اداروں کی ضروریات اور عوامی توقعات کے پیشِ نظر آئینی اصلاحات ہمیشہ سے قومی سفر کا حصہ رہی ہیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم بھی اسی تسلسل کی ایک تازہ کڑی ہے جس پر گفتگو اور اختلاف دونوں جاری ہیں۔

ترمیم کے حق میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی، عدالتی اصلاحات اور انتظامی کارکردگی کے لیے کچھ بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیرِ سماعت ہیں، عوام کو انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عدالتی ڈھانچہ اپنی ساخت کے لحاظ سے کمزور ہو چکا ہے اور اسے بہتر بنانا وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔

ماہرین قانون کی رائے ہے کہ اگر عدالتوں میں نچلی سطح پر انتظامی عدل کے نظام کو بحال کیا جائے تو اعلیٰ عدلیہ کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے نظام کو اسی تناظر میں دوبارہ لانے کی بات ہو رہی ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی سطح پر فوری نوعیت کے معاملات حل ہو سکیں گے بلکہ ضلعی انتظامیہ کو بھی اپنے اختیارات کے استعمال میں آسانی ملے گی۔ بعض حلقے اسے اختیارات کی مرکزیت کے بجائے اختیارات کی تقسیم سمجھتے ہیں، جو مقامی سطح پر گورننس کو بہتر بنا سکتی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ وفاقی حکومت مالیاتی نظم و نسق میں اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے، لیکن وفاق کے ذمے اب بھی قومی سطح کے منصوبے، دفاع، قدرتی آفات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے اہداف جیسے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ اگر مالیاتی تقسیم کے نظام میں معمولی ردوبدل سے وفاق کو بہتر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی استحکام حاصل ہوتا ہے تو اسے محض مرکزیت نہیں بلکہ توازن کی کوشش سمجھا جانا چاہیے۔

آئینی ترمیم کا ایک اور پہلو عدلیہ کی تنظیمِ نو سے متعلق ہے۔ ترمیم کے تحت ممکنہ طور پر اعلیٰ عدلیہ میں انتظامی کارکردگی، مقدمات کے فوری تصفیے اور شفاف احتساب کے لیے نئے اصول وضع کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے عدلیہ کی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے اس کے نظم کو مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدلیہ کی مضبوطی دراصل جمہوری استحکام کا ضامن ہے، کیونکہ انصاف ہی وہ ستون ہے جس پر ریاست کا پورا ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم اختیارات کے توازن میں تبدیلی پیدا کریں گی اور بعض اداروں کو غیر ضروری اثرورسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن ان خدشات کے باوجود ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سمجھتی ہے کہ اصلاحات کا مقصد کسی ادارے کو کمزور کرنا نہیں بلکہ نظام کو زیادہ متوازن اور عوام دوست بنانا ہے۔ آئین ایک جمود کا شکار نہیں رہ سکتا۔ جب معاشرہ بدلتا ہے تو آئینی ڈھانچے میں بھی نئی روح ڈالنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ترمیم کے ساتھ عوام کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سوالات فطری ہیں کیونکہ آئین براہِ راست عوام کی زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ لیکن اگر یہ تبدیلیاں وسیع مشاورت، پارلیمانی بحث، اور عوامی اعتماد کے ساتھ کی جائیں تو ان پر اتفاقِ رائے پیدا ہو سکتا ہے۔ شفاف مکالمہ اور قومی سطح پر مشاورت ہی وہ عمل ہے جو کسی بھی آئینی ترمیم کو مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے آئینی سفر میں یہ مرحلہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ ہم اپنے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، اور امتحان اس لیے کہ ہمیں اس عمل کو غیرسیاسی، منصفانہ اور عوامی مفاد کے تابع رکھنا ہوگا۔ کسی بھی ریاست کی طاقت اس کے آئین کی عمل داری میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور جب آئین کے اندر اصلاحات عوامی اعتماد کے ساتھ کی جائیں تو وہ قوم کے لیے استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم محض ایک قانونی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی توازن اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ایک کوشش ہے۔ اگر یہ ترمیم مکالمے، شفافیت اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو یہ پاکستان کے آئینی ارتقا میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔ مضبوط ادارے، متوازن اختیارات اور منصفانہ نظامِ انصاف ہی ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں قانون کی بالادستی صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں نظر آئے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گوندنی
  • اللہ کی محبت کے رنگ
  • صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ
  • سرودِعشق
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سبحان الذی خلق الازواج میں چھپی حکمت
پچھلی پوسٹ
تم نے عجلت سی دکھائی ہے

متعلقہ پوسٹس

ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات

دسمبر 12, 2025

کیا کرے شمع ِ نوخیز

مارچ 8, 2025

منٹو پر فحاشی کا الزام

اکتوبر 21, 2019

وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے

جنوری 15, 2020

مری نگاہ میں قربت کی

جون 25, 2025

سماج کی خدمت

دسمبر 27, 2025

عشقیہ کہانی

جنوری 21, 2020

نہ غموں کو تازہ بنا

جولائی 6, 2025

اِک وقت سے سہما ہوا چہرہ

مارچ 19, 2022

گھر کی دیوار پہ کیوں لکھا

فروری 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شیر خوار

مارچ 25, 2025

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

سفر نامہ بھارت – چوتھی قسط

نومبر 2, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں