خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباستائیسویں آئینی ترمیم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ستائیسویں آئینی ترمیم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 7, 2025 0 تبصرے 84 مناظر
85

ستائیسویں آئینی ترمیم: اصلاحات کا نیا باب

پاکستان کا آئین ایک ایسی دستاویز ہے جو صرف قانون نہیں بلکہ قوم اور ریاست کے درمیان ایک عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عہد وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ ملک کے حالات، اداروں کی ضروریات اور عوامی توقعات کے پیشِ نظر آئینی اصلاحات ہمیشہ سے قومی سفر کا حصہ رہی ہیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم بھی اسی تسلسل کی ایک تازہ کڑی ہے جس پر گفتگو اور اختلاف دونوں جاری ہیں۔

ترمیم کے حق میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی، عدالتی اصلاحات اور انتظامی کارکردگی کے لیے کچھ بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیرِ سماعت ہیں، عوام کو انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عدالتی ڈھانچہ اپنی ساخت کے لحاظ سے کمزور ہو چکا ہے اور اسے بہتر بنانا وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔

ماہرین قانون کی رائے ہے کہ اگر عدالتوں میں نچلی سطح پر انتظامی عدل کے نظام کو بحال کیا جائے تو اعلیٰ عدلیہ کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے نظام کو اسی تناظر میں دوبارہ لانے کی بات ہو رہی ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی سطح پر فوری نوعیت کے معاملات حل ہو سکیں گے بلکہ ضلعی انتظامیہ کو بھی اپنے اختیارات کے استعمال میں آسانی ملے گی۔ بعض حلقے اسے اختیارات کی مرکزیت کے بجائے اختیارات کی تقسیم سمجھتے ہیں، جو مقامی سطح پر گورننس کو بہتر بنا سکتی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ وفاقی حکومت مالیاتی نظم و نسق میں اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے، لیکن وفاق کے ذمے اب بھی قومی سطح کے منصوبے، دفاع، قدرتی آفات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے اہداف جیسے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ اگر مالیاتی تقسیم کے نظام میں معمولی ردوبدل سے وفاق کو بہتر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی استحکام حاصل ہوتا ہے تو اسے محض مرکزیت نہیں بلکہ توازن کی کوشش سمجھا جانا چاہیے۔

آئینی ترمیم کا ایک اور پہلو عدلیہ کی تنظیمِ نو سے متعلق ہے۔ ترمیم کے تحت ممکنہ طور پر اعلیٰ عدلیہ میں انتظامی کارکردگی، مقدمات کے فوری تصفیے اور شفاف احتساب کے لیے نئے اصول وضع کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے عدلیہ کی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے اس کے نظم کو مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدلیہ کی مضبوطی دراصل جمہوری استحکام کا ضامن ہے، کیونکہ انصاف ہی وہ ستون ہے جس پر ریاست کا پورا ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم اختیارات کے توازن میں تبدیلی پیدا کریں گی اور بعض اداروں کو غیر ضروری اثرورسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن ان خدشات کے باوجود ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سمجھتی ہے کہ اصلاحات کا مقصد کسی ادارے کو کمزور کرنا نہیں بلکہ نظام کو زیادہ متوازن اور عوام دوست بنانا ہے۔ آئین ایک جمود کا شکار نہیں رہ سکتا۔ جب معاشرہ بدلتا ہے تو آئینی ڈھانچے میں بھی نئی روح ڈالنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ترمیم کے ساتھ عوام کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سوالات فطری ہیں کیونکہ آئین براہِ راست عوام کی زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ لیکن اگر یہ تبدیلیاں وسیع مشاورت، پارلیمانی بحث، اور عوامی اعتماد کے ساتھ کی جائیں تو ان پر اتفاقِ رائے پیدا ہو سکتا ہے۔ شفاف مکالمہ اور قومی سطح پر مشاورت ہی وہ عمل ہے جو کسی بھی آئینی ترمیم کو مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے آئینی سفر میں یہ مرحلہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ ہم اپنے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، اور امتحان اس لیے کہ ہمیں اس عمل کو غیرسیاسی، منصفانہ اور عوامی مفاد کے تابع رکھنا ہوگا۔ کسی بھی ریاست کی طاقت اس کے آئین کی عمل داری میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور جب آئین کے اندر اصلاحات عوامی اعتماد کے ساتھ کی جائیں تو وہ قوم کے لیے استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم محض ایک قانونی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی توازن اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ایک کوشش ہے۔ اگر یہ ترمیم مکالمے، شفافیت اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو یہ پاکستان کے آئینی ارتقا میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔ مضبوط ادارے، متوازن اختیارات اور منصفانہ نظامِ انصاف ہی ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں قانون کی بالادستی صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں نظر آئے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بروٹس سے میر جعفر تک
  • یہ ہے تو رب کی جانب سے
  • ماں قوم کی استاد ہوتی ہے
  • ارادہ کر لیا ہے جب سفر کا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سبحان الذی خلق الازواج میں چھپی حکمت
پچھلی پوسٹ
تم نے عجلت سی دکھائی ہے

متعلقہ پوسٹس

بلا عنوان

جون 15, 2020

چراغوں کے نگر میں اے اجالو

نومبر 14, 2021

میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

اکتوبر 27, 2020

اچھرہ واقعہ کے قابل غور پہلو

مئی 10, 2024

اردوان اور سامراجی قوت

نومبر 18, 2019

ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی

مارچ 7, 2020

انجام بخیر

نومبر 14, 2019

چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں

اپریل 5, 2020

اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں

جون 6, 2020

خوابوں کے شہسوار

دسمبر 25, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لاھوربورڈ میٹرک رزلٹ 2025

دسمبر 12, 2025

مرزا غالبؔ کی حشمت خاں کے...

فروری 7, 2020

میلاد االنبیؐ کی خوشی

ستمبر 29, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں