خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسوہانجنا ۔ ایک کرشماتی درخت
اردو تحاریراردو کالمززرعی کالم

سوہانجنا ۔ ایک کرشماتی درخت

از سائیٹ ایڈمن مئی 19, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 19, 2024 0 تبصرے 79 مناظر
80

ہمارے اردگرد کئی ایسے پودے موجود ہیں جو قدرت کا تحفہ ہیں لیکن ہم اپنی کم علمی کے باعث ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ۔ان پودوں میں سے ایک سوہانجنا ہے جو پاکستان میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں صدیوں سے موجود ہے۔آج اسے دنیا میں ایک کرشماتی پودے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جس کے پتے، شاخیں اور جڑوں کے ساتھ ساتھ بیج میں بھی اہم غذائی اجزاء موجودہیں۔اس پودے کے کرشماتی فوائد سے دنیا اس وقت آگاہ ہوئی جب اسے سینیگال میں قحط کے دوران غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔پاکستان میں اس کے کرشماتی خواص پر تحقیقات کرنے اور عوام میں اس کی کاشت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کا سہرا پروفیسر ڈاکٹر شہزاد بسرا کے سر ہے جو عرصہ دراز سے “مورنگا فار لائف” کے پلیٹ فارم سے لوگوں کی راہنمائی کر رہے ہیں۔ان کی تحقیق کے مطابق اس پودے کا اصل وطن جنوبی پنجاب ہے جہاں سے یہ پودا برصغیر کے دیگر حصوں اور جنوبی افریقہ میں پہنچا۔ایک وقت تھا کہ پاکستان میں اس کی 13سپی شیز تھیں لیکن اب ان میں سے دو سپی شیز باقی ہیں جن میں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ اہمیت مورینگا اولیفیرا کو حاصل ہے۔یہ درخت ان علاقوں میں بہترین کارکردگی ظاہر کرتا ہے جہاں درجہ حرارت18سے 48 سینٹی گریڈ اورسالانہ بارش 250سے 1500ملی میٹر سالانہ ہو۔اس کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ او ر جنوبی پنجاب کے صحرائی علاقو ں میں کاشت کرنے سے کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر کے ماہرین غذائیت اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔اس کے ہر حصہ کو بطور غذا استعمال کیا جاسکتا ہے۔پھول بطور سبزی پکائے جاتے ہیں، پھلیوں کا اچار اور سالن تیار کیا جاتا ہے جبکہ جڑوں کا اچار پاک و ہند میں مقبول ہے۔تحقیقات کے مطابق مورنگا میں دودھ کے مقابلے میں 17گنا زیادہ کیلشیم، دہی سے 9گنا زیادہ پروٹین، گاجر سے 4گنا زیادہ وٹامن اے ،بادام سے 12گنا زیادہ وٹامن ای،کیلے سے 15گنا زیادہ پوٹاشیم اور پالک سے 19گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔سوہانجنا کے پتوں کی افادیت دیکھتے ہوئے مختلف ممالک میں انھیں بطور غذا استعمال کیا جا رہا ہے اور مغربی ممالک میں اس کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ جاپان کی ایک معروف دودھ کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے جو مورنگا کی غذائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔اس کے پتوں کا پچاس گرام سفوف دن بھرکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ایک غریب آدمی جو مہنگے پھلوں اور گوشت کا متحمل نہیں ہوسکتا وہ مورنگا کے استعمال سے اپنی غذائی ضروریات سستے داموں بآسانی پوری کر سکتا ہے۔ مورنگا میں دمہ، السر، جوڑوں کا درد، بے خوابی، بلڈ پریشر،مرگی ، کولیسٹرول،کینسر اور جنسی کمزوری سمیت کم و بیش تین سوبیماریوں کا علاج موجود ہے۔

مورنگا کا درخت دو سے تین سالوں میں بیج دینے شروع کر دیتا ہے۔ ایک درخت سے تقریباََ 3۔4کلو بیج حاصل ہوتے ہیں اور ایک کلو بیج سے تقریباََ ایک پاؤ تیل نکلتا ہے۔ اس کے بیج میں 35سے 40فیصد تیل موجود ہوتا ہے جو کوالٹی میں عمدہ اور زیتون کے برابر ہوتا ہے۔مورنگا کی کاشت کو پاکستان میں فروغ دے کر خوردنی تیل پر خرچ ہونے والے اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں۔دنیا میں موجود دواساز کمپنیاں، کاسمیٹک، لبریکینٹس انڈسٹریز، آئل فیکٹریز، بائیو ڈیزل پلانٹس اور بہت سی دیگر صنعتیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔یہی نہیں بیج سے تیل نکالنے کے بعد اس کی کھلی کو پانی صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث ہر سال لاکھوں لوگ بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں جہاں صاف پانی کے مسائل کا سامنا ہے لوگوں کو اس طریقہ کار کے متعلق شعور دے کر صحت کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔پانی کی کمیابی کے علاوہ دنیا میں ایک اور بڑا مسئلہ کیمیائی کیڑے مار ادویات کے استعمال سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا تیزی سے حیاتیاتی کیڑے مار ادویات کی طرف منتقل ہورہی ہے جس میں مورنگا کو خاص مقام حاصل ہے۔اس کے پتے کو نچوڑ کر رس کو سپرے کیا جائے تو پودوں میں بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے اور بغیر کسی اضافی خرچہ کے40فیصد تک پیداوار میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔

مورنگا کو تجارتی مقاصد کے لیے دنیا بھر میں کاشت کیا جار ہا ہے۔یہ پودا ایک سال میں 10سے 15فٹ کا درخت بن جاتا ہے۔اس پر سال میں ایک دفعہ پھول آتے ہیں جو کہ بعد میں پک کر پھلیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ایک درخت کی پھلیوں سے آٹھ سے دس ہزار بیج حاصل ہوسکتے ہیں جن سے سوہانجنا کو فصل کے طور پر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے۔ بیج کو کپاس اور مکئی کی بجائی کی طرح 1فٹ کے فاصلے پر لگایا جاتا ہے۔ جب یہ پودے تین فٹ پر پہنچ جائیں تو ان کو اوپر سے کاٹ دیا جاتا ہے پھر بار بار 10سے 20دن کے وقفہ سے اس کے پتے بطور چارہ کاٹ کر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔مویشیوں کے لیے مورنگا کے پتے بطور چارہ استعمال کرنے سے مہنگے کھل اور بنولہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی ۔تحقیق کے مطابق مورنگا کے پتوں کا استعمال مویشیوں کے وزن میں 32فیصد اور دودھ میں 65فیصد تک اضافہ کا باعث ہے۔چارے کے لیے اس درخت کو سال میں 12سے 16دفعہ تک کاٹا جاسکتا ہے اور اس کا سیڈ کیک بھی بطور چارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مورنگا کی کاشت کے لیے دوسرا مقبول طریقہ بذریعہ قلم ہے جس میں 4سے 5 فٹ کی شاخ منتخب کر کے ایک فٹ چوڑااور 3فٹ گہرا گڑھا کھود کر دبا دیا جاتا ہے۔گڑھے بھرنے کے لیے ریت ، بھل اور پتوں کی کھاد کا آمیزہ استعمال کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ پانی براہ راست قلم کو نہ لگے بلکہ صرف نمی پہنچے۔یاد رہے کہ گڑھوں کا درمیانی فاصلہ 10سے 15فٹ تک ہونا چاہیے اور قلم کا 1/3حصہ زمین کے اندر ہو۔ جب بیج اور قلم کے ذریعہ مورنگا کی کاشت ممکن نہ ہو تو نرسری کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں پلاسٹک کی تھیلیوں میں مٹی، ریت ، بھل اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے بھر کر ہر تھیلی میں دو سے تین بیج لگادیے جاتے ہیں۔ایک ہفتہ میں بیج کا اگاؤ مکمل ہوجاتا ہے اور ڈیڑھ ماہ بعد پودے کھیت میں منتقل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔کھیت میں منتقلی کے فوراً بعد پانی لگایا جاتا ہے اور کچھ عرصہ تک ہفتہ وار آبپاشی کی جاتی ہے ۔چونکہ مورنگا گرم اور خشک آب و ہوا کا پودا ہے اس لیے کم پانی میں بھی گزارا کر سکتا ہے، اگر پانی دستیاب ہو تو دو ماہ بعد ہلکی آبپاشی مفید ثابت ہوتی ہے ۔ چارہ کے حصول کے لیے ایک ایکڑ مورنگامیں دو بوری یوریا کھاد ڈالنے سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بجائی کے 24گھنٹے کے اندر اندر Round Upبوٹی مار سپرے کرنا چاہیے ۔یوں تو مورنگا کیڑے مکوڑوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتا ہے لیکن جڑوں پر دیمک کے حملہ سے اس کے سوکھنے کا خدشہ رہتا ہے جس سے بچاؤ کے لیے سفارش کردہ زہر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مورنگا کو کسان اپنے کھیتوں کے آس پاس بھی اگا سکتے ہیں کیوں کہ اس کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اس لیے یہ زمین کی زرخیزی کو نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ اس کے پتے زمین پر گر کر زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔مغربی ممالک میں مورنگا کی کچن گارڈننگ کی جارہی ہے اور اس کے مختلف حصوں کو روز مرہ خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے کرشماتی خواص کے باعث ہم اسے اپنے گھروں میں،سڑکو ں کے کنارے اور پارکوں میں بھی لگا سکتے ہیں۔مورنگا کی وسیع پیمانے پر کاشت کے لیے حکومت کو مختلف پراجیکٹس متعارف کرانے ہوں گے اور کاشتکاروں میں شعور اجاگر کرنا ہوگا تاکہ زرعی ترقی کے علاوہ کثیر زر مبادلہ بھی کمایا جاسکے۔

 

 سعد الرحمٰن ملک

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غیر منظم منصوبہ بندیاں!
  • ہالی ووڈ کا فریب – دوسری قسط
  • دلشاد نظمی کی نظم نگاری
  • سیاہ گڑھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صنوبر کے نایاب جنگلات
پچھلی پوسٹ
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ

متعلقہ پوسٹس

آن لائن گیمز ۔ نسلوں کی تباہی

مئی 4, 2020

قسط وار ناول بہرام: پہلی قسط

جولائی 31, 2022

تاریکی

اکتوبر 14, 2025

کافر کوٹ کے کھنڈر

اکتوبر 9, 2022

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

اپریل 27, 2020

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

ال گلہری

دسمبر 30, 2014

انجمن پنجاب

اپریل 11, 2026

جب سامنے والا کباڑیا ہو

دسمبر 16, 2025

سیلاب کے زخم اور کیمروں کا تماشہ

ستمبر 4, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کڑکتی بجلی، ہواؤں سے ڈولتے خیمے

جون 3, 2020

سفر نامہ بھارت – پہلی قسط

نومبر 2, 2019

نئے سال کا پہلا کالم محبت...

جنوری 1, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں