خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباحضور ﷺ کے عورتوں پر احسانات
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامین

حضور ﷺ کے عورتوں پر احسانات

از سائیٹ ایڈمن مئی 11, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 11, 2024 0 تبصرے 78 مناظر
79

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پورے انسانوں پر احسانات ہیں خصوصی طور پر عورتوں پر میری جو بھی بہن ہے بیٹی ہے وہ آج حضور کے احسان کو ضرور مانے اج عورتوں کو بچیوں کو بہنوں کو ماؤں کو جو عزتیں ملی ہیں وہ رسول اللہ صلی علیہ وآلیہ وسلم کے فرمان کے صدقے میں ملی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کا شکریہ ادا کریں اور اس کا آسان طریقہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ ایک دفعہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک شخص جو کافروں میں سے تھا حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم میں ایمان لانا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھایا اور یوں وہ ایمان لاکر مسلمان ہوگیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لیکن وہ شخص اسلام لانے کے بعد بھی اداس اداس رہتا تھا لوگوں نے حضور کی بارگاہ میں ذکر کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا کہ اپ اتنے رنجیدہ کیوں رہتے ہیں تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے زمانہ جہا لیت میں جتنے گناہ کیے کیا سارے گناہ معاف ہو گئے صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہاں سارے گناہ اللہ نے معاف کر دیے کیوں کہ اسلام لانے کی برکت سے سارے گناہ معاف ہو گئے انہوں نے کہا کہ اس بات کا مجھے یقین ہے کہ میرے سارے گناہ معاف ہوگئے لیکن ایک گناہ ایسا ہے کہ مجھے بار بار یاد اتا ہے تو میں روتا ہوں۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اس قبیلے سے تھا جہاں بچی پیدا ہوتی تو پیدائش کو اپنے لیے آر سمجھتے تھے وہ سوچتے تھے کہ پھر داماد کے نخرے اٹھانے پڑیں گے سسرال والوں کے نخرے اٹھانے پڑیں گے اور بچی کی وجہ سے ہمیں دب کے رہنا ہوگا تو اس کو قتل کر دیتے تھے میں بھی ان میں سے تھااور میری بھی ایک بیٹی تھی لیکن میری بچی بڑی پیاری تھی بڑی خوبصورت تھی میں نے چاہا قتل کروں لیکن میں اسے قتل نہیں کر سکا جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی اس کا پیار بڑھتا گیا وہ اور پیاری ہوتی گئی ویسے ہی بچیاں بڑی پیاری ہوتی ہیں بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں اپنے باپ سے بہت محبت کرتی ہیں اج اپ دیکھ لیں کتنے ایسے ماں باپ ہیں جن کے بیٹوں نے انہیں ٹھکرا دیا بیٹیوں نے ان کا ساتھ دیاسارے ایسے نہیں ہوں گے الحمدللہ ایسے بیٹے بھی ہیں جو ساتھ دینے والے ہیں لیکن اگر فیصد دیکھا جائے تو بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کا فیصد زیادہ ہے جو اپنے ماں باپ سے بڑی محبت کرتی ہے زیادہ محبت کرتی ہیں خاص طور پر بیٹی کو باپ سے بڑی محبت ہوتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وہ کہنے لگا کہ وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ سے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرے میری گود میں ائے مجھے بڑی پیاری لگتی ہے لیکن پھر یہ ہوا کہ میرے قبیلے والوں نے مجھے ابھارا مجھے طعنہ دینا شروع کردیا میرا مذاق اڑایا اور کہا کہ بیٹی کی وجہ سے تجھے سسرال والوں کی غلامی کرنی ہوگی آپ ذرا غور کریں کہ آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں کیا یہ جہالت اج ہے کہ نہیں مجھے بتائیے کے کیا بیٹیوں والا ہی غلام کیوں بنتا ہے داماد جب سسرال جاتا ہے تو ایسا بن کے جاتا ہے جیسے ارمی چیف ہو سارے گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں کہ ذرا سی بات بری لگ گئی تو اسے برا لگ جائے گا ہاں لیکن سارے داماد ایسے نہیں ہے الحمدللہ جو دین کی سمجھ رکھتے ہیں تو وہ اپنے ساس سسر کو ماں باپ سمجھتے ہیں لیکن جو دین سے دور ہیں میں ان جاہلوں کی بات کررہا ہوں جب وہ سسرال کے گھر سے واپس اتے ہیں تو اتنی اؤ بھگت کرنے کے باوجود بھی ناراض ہوتے ہیں اپنی بیوی پر ظلم کرتے ہیں کتنے دن تک ناراض رہتے ہیں تیرے باپ نے جب میں پہنچا تو میرا استقبال صحیح نہیں کیا یہ ہوا وہ ہوا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اور اج زمانہ جاہلیت میں بھی وہی ہے آج لڑکی کا باپ ہے وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ میں اپنی بیٹی کے لیے جہیز کہاں سے لاؤں گا اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیٹی والے کو دبایا جاتا ہے توبہ استغفراللہ یہ ٹھیک ہے کہ ہر جگہ نہیں لیکن بہت سی جگہوں پر یہ معاملات ہیں میں بار بار ہر جگہ ایسا نہیں ہے کیوں کہ رہا ہوں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ الحمدللہ اللہ کے نیک بندے اس دنیا میں ہیں اگر ایسے نہ ہوتے تو دنیا کب کی تباہ ہو جاتی ایسے لوگ ہیں کہ بہو کو بیٹی سمجھتے ہیں ایسی بہو ہے جو ساس کو ماں سمجھتی ہیں الحمدللہ ہیں لیکن ہمارے اس معاشرے کی بہت بڑی تعداد گمراہ ہو چکی ہے پھر اس نے کہا کہ مجھے لوگوں نے ملامت کیا چاروں طرف طنز طعنے دینا شروع ہوگئے آخر ایک دن میں نے اس کی ماں سے کہا کہ مجھے دعوت میں جانا ہے میری بیٹی کو تیار کرو جب وہ تیار ہوئی تو اور خوبصورت ہو گئی اتنی خوش تھی کیونکہ جب سے پیدا ہوئی شرم کے مارے میں اس کو گھر سے باہر نہیں لے جاتا تھا لوگ کیا کہیں گے کہ میری بیٹی ہے وہ بہت خوش تھی کہ میرے والد مجھے اج باہر لے جا رہے ہیں۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس نے کہا کہ میری بیٹی پانچ سال یا سات سال کی عمر ہوگی پھر میں اسے ایک ویرانے میں لے گیا اور وہاں جاکر میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا جب مٹی میرے چہرے پر اتی میرے جسم پہ لگتی تو وہ ننھے ننھے ہاتھوں سے مٹی صاف کرتی تھی اور کہتی کہ ابا آپ کا جسم مٹی الود ہو رہا ہے اسے کیا معلوم کہ میں گڑھا کیوں کھود رہا ہوں جب میں نے گڑھا کھود لیا اور پھر اسے اٹھا کے گڑے میں ڈالنے لگا تو وہ سمجھ گئی تب اس نے روتے ہوئے کہا ابو میں کبھی آپ سے روٹی نہیں مانگوں گی مجھے اپ قتل نہ کریں مجھے اس گھڑے میں نہ ڈالیں لیکن زمانے جاہلیت کی باتیں مجھ پر غالب ائیں اور میں نے اسے گڑے میں ڈال دیا وہ ہاتھ سے فریاد کر رہی تھی مجھے ابا کہہ کر پکار رہی تھی لیکن میں مٹی ڈالتا رہا اور اسے میں نے دفن کر دیا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس شخص نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم زارو قطار رو رہے تھے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں کفر کی حالت میں جو گناہ ہوئے ان کی کوئی سزا نہیں دی جا سکتی کیوں کہ اللہ تعالی نے سارے گناہ معاف کر دیے اگر میں کسی کو زمانہ جاہلیت کے گناہ کی وجہ سے سزا دیتا تو تجھے دیتا تو نے یہ واقعہ سنا کر ہمیں رلا دیا ہمیں رنجیدہ کر دیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں زمانہ جاہلیت میں ہونے والا یہ ایک واقعہ نہیں ہے ایسے لاکھوں واقعات تھے لیکن سرکار علیہ وآلیہ وسلم کی آمد کے بعد ان واقعات میں یکثر کمی ہوتی گئی اس کے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کے صدقے میں خواتین کو کیا کیا مقام ملے لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج کے معاشرے میں ایک بار پھر کچھ عورتیں عرب کی باتوں سے متاثر ہو کر کہتی ہیں کہ ہمیں ازادی چاہیے ہمیں بے پردگی چاہیے اس خاندانی نظام سے باہر نکلنا ہے اگر یہ عورتیں غور کریں اور سرکار علیہ وآلیہ وسلم کا احسان مانے اگر عورت اللہ کے حضور اس کے شکرانے میں ساری زندگی اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کرے اور کہے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تو بھی وہ شکر ادا نہیں کر سکتی اللہ تبارک و تعالی محبوب کریم کے صدقے میں ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں محبوب کریم سے مزید محبت عطا فرمائے ان کی فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضور کے ایسے کروڑوں سے زیادہ احسانات ہیں ہم انہیں گن نہیں سکتے اج اٹھتے ہیں سوتے ہیں زمین پر چلتے ہیں تو صرف آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کی صدقہ ہے ورنہ ہمارے گناہ تو ایسے ہیں کہ ہم زمین میں دھنس جائیں اسمان ہم پر گر پڑے یہ بھی کم ہے لیکن ہم پر جو کرم ہے وہ محبوب کریم کی ان دعائوں کا نتیجہ ہے جو وہ ہمارے لئے ہر وقت مانگا کرتے تھے اپنے ظاہری وصال کے بعد بھی جب بھی عذاب ہماری طرف بڑھتا ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم ہمارے لیے قبر انور میں دعا کرتے ہیں اے اللہ میرے اس امتی کو مہلت دے دے اے اللہ میرے اس امتی سے عذاب دور کر دے اور یہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کی دعاؤں کا صدقہ ہے ان کی نظر کرم کا صدقہ ہے وہ ہماری غیب سے مدد کرکے ہمارے لئے آسانیاں فراہم کردیتا ہے لیکن پھر وہ امتی کتنا بد نصیب ہے کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کے طریقوں کو چھوڑ کر فرمان کو چھوڑ کر کافروں یہودیوں عیسائیوں کے کہنے پر چلے عورتیں ان کے نکالے ہوئے فیشن کو اپنائے اور ان کے کہنے پر چلیں۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آخر میں میں اتنا کہوں گا کہ مرد ہو بچہ ہو یا کوئی عورت ہمیں ایک اہل ایمان مسلمان ہونے کے ناطے صرف ان احکامات پر عمل پیرا ہونا ہوگا جو ہمیں اللہ رب العزت نے قرآن میں بتائے اور ان باتوں پر عمل کرنا ہوگا جو سرکار علیہ وآلیہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہیں اور ان سنتوں پر عمل کرنا ہوگا جو ہمیں سرکار علیہ وآلیہ وسلم نے خود اپنی زندگی میں ہمیں کرکے بتائے اسی طرح ہماری اس عارضی زندگی میں بھلائی اور ہمیشہ قائم رہنے والی قیامت کی زندگی کی بقا ہے دعا ہے باری تعالی سے کہ اے اللہ تو ہمیں صرف اپنا قرب عطا کر اپنے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور تیرے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم کا سچا عاشق و غلام بنا امین امین بجاء النبی الکریم صلی اللّٰہ علیہ وآلیہ وسلم ۔

یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘
  • ٹیکنالوجی کی ترقی
  • مسلسل اشک افشانی سے پہلے
  • تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہمیں دیتا ہے قرآن یہاں
پچھلی پوسٹ
دوسرا بوسہ

متعلقہ پوسٹس

شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت

ستمبر 7, 2021

شکل بھی ٹھیک ہے اور نام و نسب اچھا ہے

دسمبر 12, 2021

چاچا ناشکرا

نومبر 29, 2020

وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی

نومبر 7, 2020

ہم نے پایا گمان سے بڑھ کر

مئی 31, 2024

کُچھ بتائیں دِل کا شِیشہ چُور کیوں رکھا گیا

جنوری 29, 2024

میں بھی تیرے جیسی ہوں

اکتوبر 16, 2025

معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !

جنوری 2, 2021

خالد میاں

جنوری 12, 2020

ہماری آنکھوں کے پار اترو

دسمبر 19, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اب اِس کے بعد گھبرانا ہے...

جولائی 10, 2020

شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں...

مئی 2, 2020

پچھل پیری

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں