خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلام12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہشاہد نسیم چوہدری

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

از سائیٹ ایڈمن اگست 26, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 26, 2026 0 تبصرے 56 مناظر
57

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ؛ کائنات کا حسین ترین باب

عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور ایک امتی کے دل کی داستان

رات گہری تھی۔ مکہ کی خاموش وادی پر سکوت طاری تھا۔ ستارے جیسے کسی غیر معمولی خبر کے منتظر تھے۔ تاریخ اپنی رفتار سے چل رہی تھی، مگر کائنات کو شاید معلوم تھا کہ اب وہ لمحہ قریب ہے جس کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
اور پھر وہ ساعت آئی…
مکہ مکرمہ کی سرزمین پر حضرت آمنہؓ کے آنگن میں وہ نور جلوہ گر ہوا جسے دنیا نے محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام سے جانا۔ ایک ایسی ہستی جس کے آنے سے انسانیت کو سمت ملی، بھٹکے ہوئے قافلے کو منزل ملی، دلوں کو سکون ملا اور زندگی کو مقصد نصیب ہوا۔masjid nabvi
یہ صرف ایک ولادت نہ تھی؛ یہ رحمت کے ظہور کی داستان تھی۔
اسی لیے جب عاشقِ رسول ﷺ کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہیں:
مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
تو محسوس ہوتا ہے جیسے ایک زبان نہیں، کروڑوں دل بیک وقت سلام پیش کر رہے ہوں۔
12 ربیع الاول کی حقیقت کیا ہے ؟
12 ربیع الاول صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ وہ عظیم لمحہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی نعمت یعنی رسول اللہ ﷺ کو اس دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین”
(ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔)
یہ آیت مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت سراسر رحمت ہے۔ آپ کی ذات سے کائنات کو معنویت ملی، آپ کی تعلیمات سے انسان نے انسانیت سیکھی، آپ کے اخلاق سے دنیا نے حسنِ سلوک کا سبق لیا، اور آپ کے کردار سے مظلوم کو سہارا ملا۔
12 ربیع الاول کا ذکر آتے ہی فضائیں درود و سلام سے مہکنے لگتی ہیں۔ کہیں مسجد کے مینار روشن ہوتے ہیں، کہیں گھروں میں چراغاں ہوتا ہے، کہیں نعت کی محفل سجتی ہے اور کہیں ایک بوڑھی ماں اپنے لرزتے ہاتھ اٹھا کر اپنے محبوب نبی ﷺ پر درود بھیجتی ہے۔ کسی بچے کے ہاتھ میں سبز پرچم ہوتا ہے اور کسی نوجوان کے لبوں پر نعتِ رسول ﷺ۔
یہ محبت کا وہ رنگ ہے جسے زمانے کی کوئی گرد ماند نہیں کر سکتی۔
رسولِ اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا کے بہت سے معاشرے ظلم، جہالت، تعصب اور ناانصافی میں گرفتار تھے۔ طاقتور کمزور کو روند دیتا تھا، عورتmasjid nabvi کی عزت محفوظ نہ تھی، یتیم بے سہارا تھا اور غلام انسان ہونے کے باوجود انسانیت کے حقوق سے محروم تھا۔
پھر مدینۂ رحمت کا وہ چراغ روشن ہوا جس نے انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھایا۔
قرآن نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
یعنی آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
یہی تو محمد ﷺ کی شان ہے کہ آپ کی رحمت کسی ایک خطے، نسل، زبان یا زمانے تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ نے یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، غلام کو عزت دی، عورت کو مقام دیا، پڑوسی کے حقوق سکھائے، دشمن کے ساتھ بھی عدل کا درس دیا اور انسان کو یہ سبق دیا کہ اصل عظمت اقتدار میں نہیں، کردار میں ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت کا ہر ورق محبت کا چراغ ہے۔
آپ ﷺ کی صداقت ایسی کہ دشمن بھی امین کہہ کر پکاریں۔
آپ ﷺ کی امانت ایسی کہ مخالفین بھی اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھیں۔
آپ ﷺ کا اخلاق ایسا کہ قرآن نے فرمایا کہ آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔
اسی لیے مدحتِ مصطفیٰ ﷺ صرف شاعری نہیں؛ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
علامہ امام احمد رضا خان بریلویؒ کا سلام اسی کیفیت کی ایک لازوال ترجمانی ہے۔ "مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ اپنے معنی سے آگے بڑھ کر عقیدت بن جاتے ہیں، عقیدت عبادت کی خوشبو اختیار کر لیتی ہے اور دل مدینے کی گلیوں میں جا پہنچتا ہے۔
12 ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ ایک سوال بھی دیتا ہے:
کیا ہمارے دل میں محبتِ رسول ﷺ ہے؟
اگر ہے تو پھر ہماری زبان سے نکلنے والا درود ہمارے کردار میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اپنا محبوب مانتے ہیں تو ہمارے معاملات میں صداقت، ہمارے رویوں میں نرمی، ہمارے گھروں میں محبت، ہمارے معاشرے میں انصاف اور ہماری زندگی میں سنت کی خوشبو ہونی چاہیے۔
محبت صرف نعرہ نہیں، کردار کا نام ہے۔
ایک محفلِ میلاد میں بیٹھا ہوا ایک بوڑھا شخص جب آنکھیں بند کرکے درود و سلام پڑھتا ہے تو شاید اس کے سامنے دنیا کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ اس کی آنکھوں میں صرف مدینہ ہوتا ہے۔
ایک بچہ جب پہلی بار نعت پڑھتا ہے تو اس کے معصومmasjid nabvi لہجے میں شاید الفاظ کم ہوتے ہیں، مگر محبت بے حساب ہوتی ہے۔
ایک نعت خواں جب راقم الحروف کی نعت کے یہ شعر پڑھتا ہے:
ہر دور میں رہے گی بڑائی حضورؐ کی
قرآں ہے سارا مدح سرائی حضورؐ کی
تو محفل میں بیٹھے دل جان لیتے ہیں کہ یہ کسی شاعر کی محض عقیدت نہیں، ایک امتی کے ایمان کی خوشبو ہے۔
اور جب آواز بلند ہوتی ہے:
دل کو جِلا ملی ہے درِ مصطفیٰ سے یوں
ہم کو ملی ہے راہ نمائی حضورؐ کی
تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی زندگی کے اندھیروں میں سب سے روشن راستہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہے۔
آج دنیا جدید ہو گئی ہے۔ انسان نے فاصلے سمیٹ لیے، ٹیکنالوجی نے زمانے بدل دیے، مگر دلوں کا سکون آج بھی تلاش میں ہے۔ نفرتیں بڑھ رہی ہیں، رشتے کمزور ہو رہے ہیں، برداشت ختم ہو رہی ہے اور انسان ترقی کے باوجود اندر سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے وقت میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
ہمیں وہ مدینہ یاد کرنا ہوگا جہاں بھائی چارہ صرف کتابوں کا لفظ نہیں تھا، جہاں عدل صرف تقریر کا موضوع نہیں تھا، جہاں رحم صرف دعاؤں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں موجود تھا۔
12 ربیع الاول کا اصل پیغام یہی ہے کہ چراغاں صرف گلیوں میں نہ ہو، دلوں میں بھی ہو۔
درود صرف زبان پر نہ ہو، عمل میں بھی ہو۔
نعت صرف محفل میں نہ گونجے، کردار میں بھی سنائی دے۔
اور محبتِ رسول ﷺ صرف دعویٰ نہ رہے، زندگی کا راستہ بن جائے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور سوچتا ہے کہ اگر میں واقعی مصطفیٰ ﷺ کا امتی ہوں تو میرے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟
جواب سادہ بھی ہے اور عظیم بھی:
مجھے اپنے محبوب ﷺ کی سیرت کا عکس بننا ہے۔
اسی امید کے ساتھ شاعر کی زبان سے ایک التجا نکلتی ہے:
دنیا کے سارے رشتے بھلا کر سکوں ملا
نسبت جبیں نے جب سے ہے پائی حضورؐ کی
اور آخرکار ایک امتی کی تمام خواہشیں ایک ہی مقام پر آ کر ٹھہر جاتی ہیں—مدینہ۔
وہ مدینہ جہاں پہنچنے کی آرزو آنکھوں میں نمی بن جاتی ہے، جہاں کا تصور دل کو دھڑکاتا ہے اور جہاں جانے والا ہر عاشق یہی سمجھتا ہے کہ اس نے دنیا نہیں، اپنی منزل پا لی۔
اسی لیے:
بخشِش کی آس لے کے کھڑا ہوں مدینہ میں
کافی ہے مجھ کو دادِ گدائی حضورؐ کی
12 ربیع الاول کا سورج ہر سال طلوع ہوتا ہے، مگر اس کا پیغام کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی دولت محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہے، سب سے روشن راستہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہے اور سب سے خوب صورت آواز درود و سلام کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور فرمائے، ہمیں آپ ﷺ کی سچی محبت نصیب کرے، آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے اور ہماری زندگیوں کو اس قابل بنائے کہ قیامت کے دن ہم اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سامنے شرمندہ نہیں بلکہ سرخرو کھڑے ہوں۔
شاہد میری نجات کا سامان یہی تو ہے
کرتا رہوں میں نعت سرائی حضور کی
یہ شعر دراصل شاعر کے عشقِ رسول ﷺ، عاجزی اور امیدِ مغفرت کی خوب صورت ترجمانی کرتا ہے۔ "شاہد” اپنے آپ کو مخاطب کرکے یہ اقرار کرتا ہے کہ دنیا کی ہر آسائش اور ہر دعوے سے بڑھ کر اس کے لیے نعتِ رسول ﷺ ایک روحانی سہارا ہے۔ نعت سرائی کو وہ اپنی نجات کا سامانmasjid nabvi سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے دل میں یہ یقین ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ کی محبت، ذکر اور مدحت انسان کے دل کو پاکیزگی، ادب اور سیرتِ طیبہ کی پیروی کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس شعر کی اصل خوب صورتی عاجزی میں ہے؛ شاعر اپنی نیکیوں پر فخر نہیں کرتا بلکہ بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں اپنی نسبت کو سرمایہ سمجھتا ہے۔ یہی کیفیت عشقِ رسول ﷺ کی وہ منزل ہے جہاں زبان پر نعت، دل میں محبت اور زندگی میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا عکس مطلوب بن جاتا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا دن نہیں جس نے انسانیت کو اتنی روشنی، اتنا سکون، اتنی محبت اور اتنی ہدایت بخشی ہو جتنا دن 12 ربیع الاول کا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں نورِ محمدی ﷺ کی آمد سے اندھیروں کا خاتمہ ہوا، ظلمتوں کے در کھلے، اور انسانیت نے اپنے سب سے بڑے محسن کو پایا۔ اس روز کی خوشی محض کسی ایک فرد یا قبیلے کی خوشی نہیں بلکہ کائنات کے ذرے ذرے کی مسرت ہے، اسی لیے صدیوں سے عاشقانِ مصطفی ﷺ اس دن کو عید کی طرح مناتے آئے ہیں۔۔۔اور کہتے ہیں۔۔
مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام۔
اللہ کرے کہ ہماری زندگیاں بھی درود و سلام سے مہک جائیں، ہمارے دل عشقِ رسول ﷺ سے منور ہو جائیں، اور ہمارا کردار اس بات کی گواہی دے کہ ہم واقعی "مصطفوی” ہیں۔

نعت شریف بحضور سرور کونین

ہر دور میں رہے گی بڑائی حضورؐ کی
قرآں ہے سارا مدح سرائی حضورؐ کی

دل کو جِلا ملی ہے درِ مصطفیٰ سے یوں
ہم کو ملی ہے راہ نمائی حضورؐ کی

عرفاں کے سب چراغ فروزاں ہوئے وہاں
جس دل نےبھی ہے معرفت پائی حضورؐ کی

دنیا کے سارے رشتے بھلا کر سکوں ملا
نسبت جبیں نے جب سے ہے پائی حضورؐ کی

ذکرِ نبیؐ سے رخشاں ہے شاعر کا ہر سخن
لب پر رہے ہمیشہ ثنائی حضورؐ کی

عرش بریں سے فرش زمیں تک ہےاک صدا
ہوتی ہے ہر جا مدح سرائی حضور کی

بخشش کی آس لے کےکھڑا ہوں مدینہ میں
کافی ہے مجھ کو داد گدائی حضورؐ کی

شاہدؔ مری نجات کا ساماں یہی تو ہے
کرتا رہوں میں،نعت سرائی حضور کی

شاہد نسیم چوہدری

مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نبی سے محبت صرف نعروں سے نہیں بلکہ کردار، انصاف اور معاملات سے ظاہر ہونی چاہیے۔مصنف شاہد نسیم چوہدری اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سیرتِ نبوی کی پیروی ہی ہدایت اور سکون کا اصل ذریعہ ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو
  • سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ
  • گٹاری کے انڈے
  • نازو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی کاوش
پچھلی پوسٹ
ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

متعلقہ پوسٹس

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

دیکھوں جو آسمان تو یزداں مرے خلاف

دسمبر 7, 2025

چڑیل

جولائی 2, 2018

مس اڈنا جیکسن

جنوری 17, 2020

والدہ مرحومہ کی یاد میں

نومبر 14, 2025

آروو ایجوکیشن پریس

اکتوبر 1, 2024

خلیجی سلامتی

مارچ 14, 2026

ماموندر کی آدم خور

نومبر 23, 2019

سفید پوش طبقہ اور نوجوان نسل کے مسائل

مارچ 23, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

جنوری 2, 2020

ضمیر واحد متبسم

دسمبر 16, 2019

چوہے دان

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں