خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمچھر
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرخواجہ حسن نظامی

مچھر

ایک اردو تحریر از خواجہ نظامی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019 0 تبصرے 498 مناظر
499

یہ بھنبھناتا ہوا ننھا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے ۔ رات کو نیند حرام کردی ہے ۔ ہندو، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، یہودی سب بالا تفاق اس سے ناراض ہیں ۔ ہر روز اس کے مقابلہ کے لیے مہمیں تیار ہوتی ہیں ، جنگ کے نقشے بنائے جاتے ہیں ۔ مگر مچھروں کے جنرل کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ۔ شکست پر شکست ہوئی چلی جاتی ہے اور مچھروں کا لشکر بڑھا چلا آتا ہے ۔

اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان ذرا سے بھنگے پر قابو نہیں پاسکتا۔ طرح طرح کے مصالحے بھی بناتا ہے کہ ان کی بو سے مچھر بھاگ جائیں ۔ لیکن مچھر اپنی یورش سے باز نہیں آتے ۔ آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہوئے آتے ہیں ۔ بے چارہ آدم زاد حیران رہ جاتا ہے اور کسی طرح ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

امیر۔ غریب۔ ادنیٰ ۔ اعلیٰ ۔ بچے ۔ بوڑھے ۔ عورت۔ مرد ۔ کوئی اس کے وار سے محفوظ نہیں ۔ یہاں تک کہ آدمی کے پاس رہنے والے جانوروں کو بھی ان کے ہاتھ سے ایذا ہے ۔ مچھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ ان جانوروں نے میرے دشمن کی اطاعت کی ہے تو میں ان کو بھی مزا چکھاؤں گا۔

آدمیوں نے مچھروں کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی ۔ ہر شخص اپنی سمجھ اور عقل کے موافق مچھروں پر الزام رکھ کر لوگوں میں ان کے خلاف جوش پیدا کرنا چاہتا ہے مگر مچھراس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔

طاعون نے گڑ بڑ مچائی تو انسان نے کہا کہ طاعون مچھر اور پسو کے ذریعے سے پھیلتا ہے ۔ ان کو فنا کردیا جائے تو یہ ہولناک وبادور ہو جائے گی ۔ ملیریا پھیلا تو اس کا الزام بھی مچھر پر عائد ہوا۔ اس سرے سے اس سرے تک کالے گورے آدمی غل مچانے لگے کہ مچھروں کو مٹادو۔ مچھروں کو کچل ڈالو۔ مچھروں کو تہس نہس کردواور ایسی تدبیرنکالیں جن سے مچھروں کی نسل ہے منقطع ہو جائے ۔

مچھر بھی یہ سب باتیں دیکھ رہا تھا اور سن رہا تھااور رات کو ڈاکٹر صاحب کی میز پر رکھے ہوئے ’’پانیر‘‘ کو آکر دیکھتا اور اپنی برائی کے حروف پر بیٹھ کر اس خون کی ننھی ننھی بوندیں ڈال جاتا جو انسان کے جسم سے یا خود ڈاکٹر صاحب کے جسم سے چوس کر لایا تھا۔ گویا اپنے فائدہ کی تحریر سے انسان کی ان تحریروں پر شوخیانہ ریمارک لکھ جاتا کہ میاں تم میرا کچھ نہیں کرسکتے ۔

انسان کہتا ہے کہ مچھر بڑا کم ذات ہے ۔ کوڑے ،کرکٹ،میل کچیل سے پیدا ہوتا اور گندی موریوں میں زندگی بسر کرتا ہے اوربزدلی تو دیکھو اس وقت حملہ کرتاہے جب کہ ہم سو جاتے ہیں ۔ سوتے پر وار کرنا، بے خبر کے چرکے لگانا مردانگی نہیں انتہا درجے کی کمینگی ہے ۔ صورت تو دیکھو کالا بھتنا۔ لمبے لمبے پاؤں بے ڈول چہرہ اس شان و شوکت کا وجود اور آدمی جیسے گورے چٹے ۔ خوش وضع۔ پیاری ادا کے آدمی کی دشمنی ، بے عقلی اور جہالت اسی کوکہتے ہیں۔ مچھر کی سنو تو وہ آدمی کو کھری کھری سناتا ہے اورکہتا ہے کہ جناب ہمت ہے تو مقابلہ کیجئے ۔ ذات صفات نہ دیکھیے ۔ میں کالا سہی ، بدرونق سہی ، نیچ ذات سہی اور کمینہ سہی مگر یہ تو کہیے کہ کس دلیری سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں اور کیوں کر آپ کی ناک میں دم کرتاہوں ۔

یہ الزام سراسر غلط ہے کہ بے خبری میں آتا ہوں اور سوتے میں ستاتا ہوں ۔ یہ تم اپنی عادت کے موافق سراسر نا انصافی کرتے ہو۔ حضرت میں تو کان میں آکر ’’الٹی میٹم‘‘ دے دیتا ہوں کہ ہوشیار ہو جاؤ۔ اب حملہ ہوتا ہے ۔ تم ہی غافل رہو تو میرا کیا قصور۔ زمانہ خود فیصلہ کردے گا کہ میدان جنگ میں کالا بھتنا ، لمبے لمبے پاؤں والا بے ڈول فتح یاب ہوتا ہے یاگورا چٹا آن بان والا۔

میرے کارناموں کی شاید تم کو خبر نہیں کہ میں نے اس پر دۂ دنیا پر کیا کیا جوہر دکھائے ہیں ۔ اپنے بھائی نمرود کا قصّہ بھول گئے جو خدائی کا دعویٰ کرتاتھا اور اپنے سامنے کسی کی حقیقت نہ سمجھتا تھا ۔ کس نے اس کا غرور توڑا ۔ کون اس پر غالب آیا۔ کس کے سبب اس کی خدائی خاک میں ملی ؟ اگر آپ نہ جانتے ہوں تو اپنے ہی کسی بھائی سے دریافت کیجیے یا مجھ سے سنیے کہ میرے ہی ایک بھائی مچھر نے اس سرکش کا خاتمہ کیا تھا۔

اور تم تو ناحق بگڑتے ہو اور خواہ مخواہ اپنا دشمن تصورکیے لیتے ہو۔ میں تمھارا مخالف نہیں۔ اگر تم کو یقین نہ آئے تو اپنے کسی شب بیدار صوفی بھائی سے دریافت کرلو۔ دیکھو وہ میری شان میں کیا کہے گا۔ کل ایک شاہ صاحب عالم ذوق میں اپنے ایک مرید سے فرما رہے تھے کہ میں مچھر کی زندگی کو دل سے پسند کرتا ہوں ۔ دن بھر بےچارا خلوت خانہ میں رہتا ہے رات کو ، جو خدا کی یاد کا وقت ہے ،باہر نکلتا ہے اور پھر تمام شب تسبیح و تقدیس کے ترانے گایا کرتاہے ۔ آدمی غفلت میں پڑے سوتے ہیں تو اس کو ان پر غُصّہ آتا ہے ۔ چاہتا ہے کہ یہ بھی بیدار ہو کر اپنے مالک کے دیے ہوئے اس سہانے خاموش وقت کی قدر کرے اور حمد شکر کے گیت گائے ۔ اس لیے پہلے ان کے کان میں جاکر کہتا ہے کہ اُٹھو میاں ! اُٹھو جاگو جاگنے کا وقت ہے ۔ سونے کا اور ہمیشہ سونے کا وقت ابھی نہیں آیا۔ جب آئے گا توبے فکر ہوکر سونا۔ اب تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا موقع ہے مگر انسان اس سریلی نصیحت کی پروا نہیں کرتا اور سوتا رہتا ہے تو مجبور ہو کر غُصّہ میں آجاتا ہے اور اس کے چہرہ اور ہاتھ پاؤں پر ڈنگ مارتا ہے ۔ پرواہ رے انسان آنکھیں بند کیے ہوئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور بے ہوشی میں بدن کھجا کر پھر سو جاتا ہے اور جب دن کو بیدار ہوتا ہے تو بے چارا مچھر کو صلواتیں سناتا ہے کہ رات بھر سونے نہیں دیا۔ کوئی اس دروغ گو سے پوچھے کہ جناب عالی ! کتنے سکنڈ جاگے تھے جو ساری رات جاگتے رہنے کا شکوہ ہو رہاہے ۔

شاہ صاحب کی زبان سے یہ عارفانہ کلمات سن کر میرے دل کو بھی تسلی ہوئی کہ غنیمت ہے ان آدمیوں میں بھی انصاف والے موجود ہیں بلکہ میں دل میں شرمایا کہ کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ شاہ صاحب مصلے پر بیٹھے وظیفہ پڑھا کرتے ہیں اور میں ان کے پیروں کا خون پیا کرتا ہوں ۔ یہ تو میری نسبت ایسی اچھی اور نیک رائے دیں اور میں ان کو تکلیف دوں ۔ اگرچہ دل نے یہ سمجھایا کہ تو کاٹتا تھوڑی ہے ۔ قدم چومتا ہے اور ان بزرگوں کے قدم چومنے ہی کے قابل ہوتے ہیں لیکن اصل یہ ہے کہ اس سے میری ندامت دور نہیں ہوتی اور اب تک میرے دل میں اس کا افسوس باقی ہے ۔

سواگر سب انسان ایسا طریقہ اختیار کرلیں جیسا کہ صوفی صاحب نے کیا تو یقین ہے کہ ہماری قوم انسان کو ستانے سے خود بخود باز آجائے گی ورنہ یادرہے کہ میرا نام مچھر ہے ۔ لطف سے جینے نہ دوں گا اور بتادوں گا کہ کمین اور نیچ ذات اعلیٰ ذات والوں کو یوں پریشان اور بے چین کرسکتی ہے

خواجہ حسن نظامی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بھوری مٹیالی آنکھیں
  • عشق کی اقسام
  • مکافات عمل
  • شجرہ نصب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عشق باز ٹڈہ
پچھلی پوسٹ
ایک بار الکشن میں

متعلقہ پوسٹس

برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا

ستمبر 24, 2025

چھوٹا منہ بڑی بات

اکتوبر 3, 2021

دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ

نومبر 2, 2025

استاد دامن

دسمبر 3, 2025

بندگی و الوہیت

دسمبر 29, 2024

توبۃ النصوح – فصل دہم

اکتوبر 30, 2020

موذی

جنوری 3, 2020

نصاب تدریس

مارچ 23, 2020

ہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎

جنوری 30, 2022

مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

مئی 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مسٹر چیری

اکتوبر 12, 2025

بے بسی اور خفت کا عالم

جنوری 4, 2022

دیوالی

فروری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں