خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ

از سائیٹ ایڈمن نومبر 2, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 2, 2025 0 تبصرے 77 مناظر
78

دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ: انسانیت کے ضمیر پر بوجھ

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم آج کی دنیا کا سب سے سنگین اور خوفناک مسئلہ بن چکا ہے۔ انسان نے اپنی تاریخ میں جنگیں، غلامی اور وباؤں کے صدمے بہت جھیلے، مگر موجودہ دور کی معاشی نابرابری نے معاشرتی توازن کو جس طرح بگاڑا ہے، وہ اپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ دنیا بھر میں چند ہاتھوں میں وسائل کا ارتکاز بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ کروڑوں انسان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ایک بھاری بوجھ ہے جو دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔

اگر عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھلتی ہے کہ دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ صرف پسماندہ ملکوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی امیر اور غریب کے درمیان خلیج وسیع سےmoney distribution وسیع تر ہو رہی ہے۔ عالمی رپورٹوں کے مطابق دنیا کی کل دولت کا بیشتر حصہ چند فیصد امیر ترین افراد کے پاس ہے، جبکہ باقی انسانیت اس کے چھینٹوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ سوال شدت سے جنم لیتا ہے کہ اگر انسانی ترقی اور ٹیکنالوجی کا مقصد فلاحِ انسانیت ہے تو پھر غربت، بھوک اور فاقہ کشی کیوں بڑھ رہی ہے؟

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ نابرابری اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔ ایک طرف چند خاندانوں کی جاگیریں، محلات اور کاروباری سلطنتیں ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔ اشرافیہ اور عام آدمی کی زندگی میں یہ واضح فرق ایک ایسے خلا میں بدل چکا ہے جسے پر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہی خلا معاشرتی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سرمایہ ہمیشہ طاقتور کے پاس جاتا ہے اور طاقتور اسے مزید بڑھانے کے لیے قوانین، ادارے اور وسائل اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ یوں دولت کا ارتکاز بڑھتا جاتا ہے اور کمزور طبقے کے مواقع سکڑتے چلے جاتے ہیں۔ اس نظام میں انصاف اور اخلاقیات کمزور ہو جاتے ہیں اور صرف منافع کی اندھی دوڑ باقی رہ جاتی ہے۔

بدعنوانی اور اقربا پروری بھی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب طاقتور طبقہ اداروں پر اثر انداز ہو کر اپنی مرضی کے فیصلے کرواتا ہے، تو قانون عام آدمی کے لیے سزا اور صاحبِ اقتدار کے لیے سہولت بن جاتا ہے۔ یوں وسائل کا بہاؤ اوپر کی طرف محدود ہو جاتا ہے اور معاشرتی ڈھانچے میں مستقل بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

تعلیم اور صحت میں ناہمواری بھی اسی نابرابری کو واضح کرتی ہے۔ امیر کے بچے معیاری تعلیم اور جدید علاج تک رسائی رکھتے ہیں، جبکہ غریب کے لیے بنیادی سہولتیں بھی ایک خواب ہیں۔ یہی تفاوت آگے چل کر ایک مستقل خلیج پیدا کرتا ہے جس کے ایک کنارے طاقت اور خوشحالی ہے اور دوسرے کنارے محرومی اور ناامیدی۔

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا ایک اور پہلو زمین اور قدرتی ذرائع پر قبضہ ہے۔ جاگیردارانہ نظام اور وسائل کے ارتکاز نے عام آدمی کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا ہے۔ زمین، پانی، جنگلات اور معدنی وسائل پر چند خاندانوں کا اختیار عوام کو اس حق سے محروم کر دیتا ہے جو فطری طور پر سب کو یکساں طور پر ملنا چاہیے۔

مہنگائی اور عوامی مشکلات بھی اسی غیر منصفانہ تقسیم کا شاخسانہ ہیں۔ جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے پر پڑتا ہے۔ متوسط طبقہ، جو معاشرے کا توازن برقرار رکھتا ہے، تیزی سے سکڑ رہا ہے، اور یوں معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہو کر غیر متوازن ڈھانچے میں ڈھلتا جا رہا ہے۔

اسلام اور اخلاقیات کے تناظر میں یہ مسئلہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اسلام نے زکوٰۃ، صدقات اور وراثت کے اصولوں کے ذریعے ایک ایسا معاشی ڈھانچہ دیا جو دولت کو چند ہاتھوں میں محدود نہیں رہنے دیتا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں دولت کا مقصد صرف ذاتی آسائش نہیں بلکہ معاشرتی توازن اور اجتماعی بہبود ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان معاشرے ان اصولوں سے غافل ہو گئے ہیں اور نتیجہ وہی ہے جو آج ہمارے سامنے ہے۔

اس سنگین صورتِ حال کا حل ممکن ہے، مگر اس کے لیے پختہ عزم اور سیاسی بصیرت درکار ہے۔ سب سے پہلے ٹیکس کے نظام کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ دولت کا بہاؤ ہر سطح تک پہنچ سکے۔ ریاست کو فلاحی بنیادوں پر اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع سب کو یکساں فراہم کریں۔ سماجی انصاف پر مبنی معاشی پالیسیاں ہی اس زہر کا تریاق ہیں۔

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ایک ایسا زخم ہے جو ہر دن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ زخم صرف غریب کو نہیں کاٹ رہا بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا گیا تو یہ نابرابری صرف غربت اور بھوک ہی نہیں بلکہ بغاوت اور انتشار کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ دولت کو چند ہاتھوں سے نکال کر سب کے لیے ایک منصفانہ بہاؤ میں ڈالا جائے۔ یہی اصل ترقی ہے اور یہی انسانیت کا روشن مستقبل۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تازہ گوشت یا حرام گوشت
  • بانو قدسیہ
  • زمیں کھسکنے لگی
  • اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اب جو آتا نہیں جواب کوئی
پچھلی پوسٹ
یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی

متعلقہ پوسٹس

مشین گردی

نومبر 28, 2020

یوم حساب

ستمبر 6, 2024

غلطی کا اعتراف

اپریل 1, 2023

نِکّی

جنوری 15, 2020

دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے

دسمبر 31, 2019

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

خود سے لڑنا

جنوری 3, 2025

گرم کوٹ

جنوری 17, 2020

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

اپریل 23, 2020

سڑک – جو خون اگلتی ہے

جنوری 8, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حضور ﷺ کے عورتوں پر احسانات

مئی 11, 2024

درونِ خواب جواک راستہ بنایا تھا

دسمبر 15, 2019

نمازِ عشق

فروری 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں