خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 6, 2020
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 6, 2020 0 تبصرے 59 مناظر
60

کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!

کورونا کیساتھ ہمیں کہاں تک جانا ہے اس کا حتمی جواب دینا ابھی تک نا ممکن ہے، جب تک باقاعدہ طور پر ویکسین تیار ہوجاتی اورقابل استعمال ثابت ہوکر عام نہیں ہوجاتی۔ جہاں اس وبا ء سے بچاؤ کیلئے تقریباً سب کچھ بند کیا گیا یعنی لاک ڈاؤن کیا گیا وہیں ہر قسم کی کھیلوں کی سرگرمیاں بھی مکمل طور پر بند ہوگئیں یہاں تک گلی محلوں میں بھی کرکٹ دیکھنے کو نہیں ملی۔البتہ سماجی میڈیا پر متعدد کھلاڑیوں نے اپنی اپنی مصروفیات سے آگاہ رکھا کہ کہیں لوگ ان لوگوں کو بھول ہی نا جائیں اور انکی بھیجی گئیں وڈیوز کی بدولت لوگوں کو کسی حد محرک رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کوششیں کرتے رہے،جس کی مرہون منت انکے مداحوں کی خوب حوصلہ آفزائی ہوئی۔ طے پایا کہ کھلاڑیوں کو زیادہ دیر نہیں بٹھایا جا سکتا اسلئے سب سے پہلے فٹبالر زمیدان میں اترے اورتماشائیوں کے بغیر میدانوں میں کھیل شروع کردیا، اسطرح یہ طے پایا کہ تماشائیوں کے بغیر کھیلوں کا انعقاد کرایا جاسکتا ہے۔ہم کرہ عرض کے جس خطے سے تعلق رکھتے ہیں یہاں کرکٹ جنون کی حد تک ناصرف پسند کی جاتی ہے بلکہ کھیلی بھی جاتی ہے، لفظ جنون کی وضاحت کیلئے اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ شمالی علاقاجات جو کہ پہاڑی علاقے کہلاتے ہیں اور تقریبا ً پہاڑ ہی پہاڑ ہیں ہم پاکستانیوں نے وہاں بھی کرکٹ کی رونق لگائی ہوئی ہے (بہت ممکن ہو سماجی ابلاغ پر چلنے والی ایک ایسی ہی ویڈیو جو مذکورہ جنون کی ترجمانی کرتی ہے آپ لوگوں کی نظروں سے ضرور گزری ہوگی)۔یہ ہر ملک کے باشندے کا شوق ہوتا ہوگا کہ وہ کچھ ایسا کار ہائے نمایاں سر انجام دے کہ جو اسے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقبول کردے او روہ اپنے ملک کی پہچان بن سکے۔ ایسا ہونا آسان نہیں ہوتا، جہاں اسکے لئے انتہک محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے وہیں قسمت کی دیوی کا مہربان ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ محنت اور لگن تو بہت سارے لئے گھوم رہے ہوتے ہیں لیکن قسمت کی دیوی ہر کسی کا ساتھ نہیں دیتی۔لیکن اچھی بات یہ ہے کہ مایوس ہوکر کسی منفی سرگرمی کا حصہ نہیں بنتے بلکہ کرکٹ ہی کھیلتے رہتے ہیں۔

کورونا کیساتھ کرکٹ انگلینڈ میں شروع ہوئی کیونکہ انگلینڈ ہی کرکٹ کا آبائی گھر ہے اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم وہ پہلی ٹیم بنی جس نے کورونا کی موجودگی میں انگلینڈ کا دورہ کیا، یہ بات دونوں ممالک کی طرح دنیا جہان میں کرکٹ کے شائقین کیلئے انتہائی خوش اآئند اور تقویت کا باعث بنی۔ ہار جیت ہر کھیل کا حصہ ہوتا ہے اور اسی میں کھیلوں کی خوبصورتی چھپی ہوتی ہے۔ویسٹ انڈیز نے جو روٹ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا اور انگلینڈ کو پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی قیادت بین اسٹوکس کر رہے تھے۔ اگلے ہی میچ میں انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کی واپسی ہوئی اور جو روٹ نے کمان سنبھال لی پھر ویسٹ انڈیز دو ایک سے سریز میں ناکام ہوئی اور انگلینڈ نے ٹیسٹ چیمپئین شپ میں اپنی پوزیشن بہتر کی۔ اس سریز کی بدولت دیگر ملکوں نے بھی حوصلہ کیا اور پاکستان دوسرا ملک بنا جو کورونا کی موجودگی میں ایک طویل دورے پر انگلینڈ کی سرزمین پر پہنچا جہاں طے شدہ تین ٹیسٹ میچ اور تین ہی ٹی ٹونٹی کھیلنے تھے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ دونوں طرز کی ٹیمیں بیک وقت سفر پر روانہ ہوئیں تقریبا ً پچیس سے تیس رکنی یا شائد اس سے بھی زیادہ افراد نے اس دورے کیلئے اڑان بھری۔ ٹیم کی تیاری سے کہیں زیادہ ضروری کوروناسے محفوظ رہنا تھا، محفوظ رہنے کیلئے محدود رہنا ضروری تھا۔ تین ٹیسٹ میچوں کی سریز انگلینڈ نے ایک صفر سے اپنے نام کر لی۔ بارش نے بہت اہم کردار ادا کیا ورنہ نتائج بہت مختلف ہوسکتے تھے۔

سریز کی ابتداء سے قبل کچھ احباب کا خیال تھا کہ پاکستان تین صفر سے سریز ہار جائے گاجو ہمارے مزاج کو قدرے گراں گذرا اور اس بات کی شدید مذمت کی، کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ پاکستانی ٹیم گوکہ زیادہ تر کم تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی خصوصی طور پر گیند بازی کے شعبے میں لیکن اس کی کمی پوری کرنے کیلئے بھرپورتجربے کار بلے بازدستیاب تھے جن میں کپتان اظہر علی، اسد شفیق، شان مسعود، عابد علی، محمد رضوان اور دنیائے کرکٹ کا ابھرتا ہوا ستارہ بابر اعظم شامل رہے۔ بلے بازی میں سوائے شان مسعود کے پہلے میچ کی پہلی انگنز کی سینچری جس کی بدولت پاکستان تقریباً میچ جیتا ہوا تھا بلکہ یوں کہا جا رہا ہے کہ ساڑھے چار دن پاکستان میچ پر قابض رہا اور آدھے دن کے کھیل نے میچ انگلینڈ کو جیتا دیا، دوسرے بلے باز میں کپتان اظہر علی جنہوں نے تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی باری میں سینچری بنائی اور یقینا یہی سینچری میچ کو ڈرا کرانے کا سبب بنی، اسکے علاوہ محمد رضوان نے کسی حد تک متاثر کیا لیکن عابد علی، فواد عالم، اسد شفیق کا بلا خاموش ہی رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انکے ساتھ ناقدین کیا کرتے ہیں، فواد عالم جوکہ تقریباً ایک دہائی کے بعد بین الاقوامی مقابلے میں جلوہ گر ہوئے اور انکا یہ چناؤ بھی مشکوک ہی رہا جس کی وجہ سے انکے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچی پھر انکے کھڑے ہونے کے انداز کو تنازہ یا موضوع بحث بنا لیا گیایہ وجوہات ہوسکتی ہیں کہ وہ اپنا روائتی بہترین کھیل پیش کرنے سے قاصر رہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ انکی آخری سریز قرار پائے۔ سہیل خان بھی ٹیم کا حصہ تھے اور انگلینڈ کی سرزمین پر ایک اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں اور آپسی کھیلے گئے مقابلوں میں بھی اچھی بولنگ کی لیکن کپتان یا کھیلنے والے گیارہ کھلاڑیوں میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے اور شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ اپنی جگہ ٹھیک تھے لیکن محمد عباس کو تبدیل کیا جاسکتا تھا، جو مخالف ٹیم کیلئے بھی کچھ مختلف سوچنے کیلئے ہوتا لیکن باہر بیٹھ کر بنائی گئی طے شدہ حکمت عملی سے مقابلے نہیں کئے جاسکتے، بدلتے ہوئے حالات کیمطابق فیصلے کرنے والے مقابلے جیتا کرتے ہیں۔ یاسر شاہ اور شاداب کو ایک ہی میچ میں کھلادیا گیا، بدل بدل کر کھلایا جانا چاہئے تھا شاداب پر جب مکمل ذمہ داری ڈالی جائے گی تو وہ ذمہ داری نبھائے گا صحیح معنوں میں شاداب ایک آثاثہ ہے۔انتظامیہ نے سرفراز احمد کی صلاحیتوں سے جب مستفید ہونا ہی نہیں تھا تو لیجانے کی کیا ضرورت تھی، فرض کرلیتے ہیں کہ سرفراز کو آپ نے اب ٹیسٹ نہیں کھلانا تو آخری میچ میں کھلا دینا چاہئے تھا، رضوان سے زیادہ نہیں تو برابر رنز بنا کر دے ہی دیتے اور کھیل کی نفسیات سے بھی واقف ہونے کا کچھ فائدہ ٹیم کو پہنچتا اور شائد اظہر علی نے غلطیاں پہلے ٹیسٹ میچ میں کیں وہ نا ہوتیں۔ساری صورتحال میں بابر اعظم ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے محسوس ہوئے جسکی وجہ سے کوئی بڑی باری لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ مکمل طور پر اگر دیکھا جائے تو کچھ انتظامی خامیوں کی وجہ سے ایک اچھی ٹیم کامیابی کے قریب پہنچ کر اسے پانے سے قاصر رہی۔ اب ڈریسنگ روم میں بیٹھے مصباح اور یونس خان دو مختلف مزاجوں کے حامل بلے باز ہیں جس کا تاثر ٹیم پر نظر آنا شروع ہوجائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ یونس خان ٹیم کے ساتھ رہیں۔

ایک طرف ویسٹ انڈیز میں کیریبین لیگ چل رہی ہے جہاں آصف علی اپنے جارحانہ بلے بازی کے جوہر دیکھا رہے ہیں، انگلینڈ سے تین ٹی ٹوئنٹی کی سریز کا بھی آغاز جمہ سے ہونے جا رہا ہے۔ میچ جیتنے کا جتنا انحصار ٹاس پر ہوتا ہے اتنا ہی انحصار مقابلے کیلئے منتخب ہونے والی ٹیم پر بھی ہوتا ہے۔آصف علی کی خدمات پاکستانی ٹیم کو کیوں میسر نہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ممکن ہے کہ رضوان کی جگہ سرفراز ٹیم کا حصہ بن جائیں، یاسر شاہ کی جگہ تو شاداب نے ہی لینی ہے، نسیم شاہ کی جگہ موسی کے کھیلنے کی توقع کی جاسکتی ہے، عباس کی جگہ شنواری یا پھر سہیل خان ہوسکتے ہیں، فہیم اشرف فواد عالم کی جگہ، اسد شفیق کی جگہ عماد وسیم، عابدعلی، بابر اعظم، اپنی جگہ رہینگے، شان مسعود کی جگہ ایک نیا چہرہ خوشدل شاہ امیدوار ہیں، افتخار احمد ہیں۔ اسطرح سے ایک مضبوط اور متوازن کھلاڑی موجود ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ چناؤ کیبعد جو ٹیم سامنے آتی ہے اسے میدان میں کس طرح سے لڑایا جاتا ہے اور انگلینڈ سے ٹیسٹ سریز کا بدلہ ٹی ٹوئنٹی سریز تین صفر سے جیت کر لیا جاتا ہے۔

انگلینڈ بین الاقوامی کرکٹ کا مرکز بنا ہوا ہے، آسٹریلیا کی ٹیم بھی ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ میچوں کی سریز کھیلنے پہنچ رہی ہے۔ اسکے علاو ہ انگلینڈ کا ڈومیسٹک سیزن بھی چل رہا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر ملکوں میں ڈومیسٹک سیزن کب شروع کیا جاتا ہے کیونکہ کھلاڑیوں کو کھیل سے دور رکھنا ایسا ہی ہے کہ جیسا مچھلی کو پانی سے باہر رکھنا۔کرکٹ پر لکھنے بیٹھا ہوں تو ہم پر لازم ہے کہ اپنے ایک ایسے کرکٹ کے جنونی دوست سید زاہد حسین کا تذکرہ کرنا چاہونگا جنکا اوڑھنا بچھونا کرکٹ تھا جسکی وجہ سے کراچی میں تقریباً کاپوریٹ اور کلب کرکٹ کھیلنے والے بخوبی ان سے واقف ہونگے۔ کورونا کی وجہ سے تمام کھیلوں پر پابندی لگی تو کرکٹ کے میدان بھی سونے ہوگئے زاہد بھائی شائد کرکٹ کی جدائی برداشت نہیں کرسکے اورایک رات حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے اس دار فانی سے سونے میدانوں کوہمیشہ کیلئے سونا کرکے کوچ کرگئے (اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے، آمین یارب العالمین)

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئلہ بھئی نہ راکھ
  • پیٹ کا مسئلہ
  • ہو گیا جب زبان پر قابو
  • کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زبان کے زخم
پچھلی پوسٹ
یہ تو آگ ہے

متعلقہ پوسٹس

جو ہو سکے تو اے نصیب

اکتوبر 14, 2025

سوہانجنا ۔ ایک کرشماتی درخت

مئی 19, 2024

خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور

مارچ 21, 2020

 بھائی​

نومبر 12, 2019

باغ میں تُو اگر نہیں آتا

مئی 28, 2020

میں ہوں نا

نومبر 7, 2021

تمہارے ہجر کے ماتم

جولائی 5, 2025

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات

نومبر 9, 2025

بہو بیٹیاں

دسمبر 12, 2019

لذتِ نفس کی غلام عورت

نومبر 27, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ قلم سے اٹھی نوا لکھے...

مئی 14, 2024

مجھے پیار ہے

اکتوبر 16, 2025

انور مقصود کی بے تکی شاعری

دسمبر 4, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں