خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرانور مقصود کی بے تکی شاعری
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

انور مقصود کی بے تکی شاعری

زیف سید | واشنگٹن

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 808 مناظر
809

انور مقصود کی بے تکی شاعری

انور مقصود پاکستانی ٹیلی ویژن کی دنیا کا اہم نام ہیں۔ انھوں نے اداکاری بھی کی، ڈرامے بھی لکھے، لیکن ان کے سٹیج شو خاص طور پر بے حد مقبول ثابت ہوئے ہیں۔ اس دوران انھوں نے مزاحیہ شاعری بھی شروع کر دی اور ایک پاکستانی چینل پر ’لوز مشاعرہ‘ کے عنوان سے مزاحیہ نظمیں اور غزلیں بھی قلم بند کرتے ہیں۔

انور مقصود آج کل اپنی ٹیم لے کر امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے ہیں، جس میں معین اختر کے علاوہ بہروز سبزواری، قاضی واجد، ایاز خان اور سلیم شہزاد جیسے منجھے ہوئے اداکار شامل ہیں، جو مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان تمام شعرا کے لیے لکھے جانے والے اشعار انور مقصود صاحب کی جولانیِ طبع کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہمیں بھی ان کا ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ انور مقصود بڑے علمی اور ادبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ نام ور شاعرہ زہرہ نگاہ ان کی بہن ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انور مقصود کی شاعری سن کر مایوسی اور کوفت کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوئی۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک قطعہ ملاحظہ کر لیجیئے جو قاضی واجد صاحب نے سنایا:

غالب نے شاعری جو کی وہ صرف اس لیے
ان کو تمام عمر میں بوسہ نہیں ملا
اپنا بھی یوں ہی حال ہے اب کیا تمھیں بتائیں
بوسے کو چھوڑو، کوئی سموسہ نہیں ملا

ابتذال اور پھکڑ پن سے قطع نظر ذرا قطعے کی بندش ملاحظہ فرمایئے، عجزِ شاعر ہر ہر مصرعے سے یوں ٹپکتا ہے جیسے برسات میں کسی مفلس کے گھر کی چھت ٹپکتی ہے۔ خیر آگے چلتے ہیں۔ اس کے بعد سلیم شہزاد صاحب کی باری آئی۔ وہ کچھ یوں غزل سرا ہوئے:

کل سے اس ملک کی حالت کو بدلتے دیکھا
بیلِ انگور میں تربوز لٹکتے دیکھا
ایک لیڈی کو سرِ عام گورنر کی طرف
مینڈکی کی طرح آہستہ پھدکتے دیکھا

آخری شعر کی داد انورمقصود صاحب نے خود یوں دی کہ ’کیا ترکیب ہے اس شعر میں!‘

ہم نے اک جج کے بحال ہونے کی خاطر یاں تک
سو وکیلوں کو سرراہِ تھرکتے دیکھا

مضمون کو ایک لمحے کے لیے الگ رکھ کر ذرا پہلے مصرعے کا وزن دیکھیئے جو بحر سے یوں خارج ہو گیا ہے کہ کیا کوئی وکیل آپے سے باہر ہوا ہو گا۔ حالاں کہ اس مصرعے کو درست کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا:

ہم نے اک جج کی بحالی کے لیے شہر کے بیچ
وغیرہ۔

اس کے بعد ایاز خان کو دعوتِ کلام دی گئی، جو ایک پٹھان شاعر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ کچھ یوں سخن آرا ہوئے:

پورے ملک میں ایک نظام
مالاکنڈ میں الگ نظام
نواز، عمران اور قاضی خوش ہیں
وہاں کا جج اک پیش امام

ملک (بر وزنِ شہر) کو ملَک (بر وزنِ خبر) باندھا گیا ہے، چلیں پٹھان شاعر تھا، اور پٹھان اردو بولتے وقت ملک کو ملک کہتے ہیں، لیکن اس بات کو کیا جائے کہ نواز کو ناز بنا دیا ہے اور ہم نے آج تک کسی پٹھان کو نواز کو ناز کہتے ہوئے نہیں سنا۔ جب کہ عمران بیچارے کی ع بھی کٹ کر دھڑ سے الگ ہو گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ امام کو بھی ’ایمام‘ کر دیا گیا ہے۔

اس کے بعد بہروز سبزواری تشریف لائے جو پنجابی شاعر بنے ہوئے تھے۔

اک احتجاجی ریلی نے یہ کام کر دیا
اب اپنے گھر پہ واپس ڈوگر ہیں آ گئے
سنتے تھے اب تو ملک میں انصاف ملے گا
ڈوگر تو کیری لوگر ہیں آ گئے

لگتا ہے یہ قطعہ خلا میں لکھا گیا تھا کیوں کہ ہر جگہ بے وزنی کی کیفیت ہے۔ اندازِ بیان اور مضمون کی رفعت کا آپ خود اندازہ لگا لیجیئے۔

اب یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا مزاحیہ شاعری میں شاعری کے لوازم کا خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا سنجیدہ شاعری میں؟ اگر ہم اردو کے اچھے مزاح نگار شعرا کو دیکھیں تو اس سوال کا یوں جواب ملتا ہے کہ مزاح نگار شاعر نہ صرف اچھا مزاح پیدا کرتے ہیں بلکہ وہ شاعری کے فن کی باریکیوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ اور ہمارا تو خیال ہے کہ شاعری کی جو بھی صنف ہو، اس میں بنیادی چیز شاعری ہوتی ہے۔ اگر شاعری اچھی نہیں تو وہ اچھا مزاح پیدا نہیں کر سکتی۔

اردو میں مزاح نگار شاعر کی اچھی خاصی بہتات ہے۔ جعفر زٹلی سے لے کر مرزا سودا، نظیر اکبر آبادی سے اکبر الہ آبادی کے علاوہ سنجیدہ شعرا نے بھی جہاں موقع ملا، ہلکے پھلکے موضوعات پر شعر کہے ہیں۔ میر تقی میر سے زیادہ ’شہنشاہِ غم‘ اردو میں اور کون ہو گا، لیکن ان کی کلیات میں بھی بے حد اعلیٰ پائے کے طنزیہ اور مزاحیہ اشعار مل جاتے ہیں:

میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

مفت آبروئے حضرتِ علامہ لے گیا
اک مغ بچہ اتار کے عمامہ لے گیا

قیامت کو جرمانہٴ شاعری پر
مرے سر پہ میرا ہی دیوان مارا

یہی حال غالب کا ہے:

کہاں میخانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

یا پھر

میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیئے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں!

جدید دور میں آ جائیے تو سید ضمیر جعفری، سید محمد جعفری، دلاور فگار، انور مسعود، عنایت علی خاں، نیاز سواتی، خالد مسعود اور دوسرے کئی نام ملتے ہیں، جنھوں نے نہ صرف اچھی مزاحیہ شاعری کی بلکہ شاعری کے فنی اصولوں کو بھی پوری طرح سے ملحوظِ خاطر رکھا۔ حتیٰ کہ انور مقصود ہی کی طرح ٹیلی ویژن کی شخصیت اطہر شاہ خان جیدی جب مزاحیہ شاعری کی طرف مائل ہوئے تو اردو کو یہ یادگار شعر دے گئے:

ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیا

اس شعر میں طنز، تضاد، پیراڈاکس اور خود پر ہنسنے کا جو انداز پایا جاتا ہے وہ اسے مزاحیہ شاعری سے کہیں بلند کر دیتا ہے۔

لیکن جب آپ مقبولیت کے اڑن قالین پر بیٹھے ہوئے محوِ پرواز ہوں تو پھر معیار، فن اور اصول وغیرہ جیسی چھوٹی موٹی چیزیں قالین کے نیچے سے زن سے گزر جاتی ہیں۔

لوز مشاعرے میں بہروز سبزواری نے ایک اور قطعہ سنایا۔ وہ بھی پڑھ لیجیئے:

انڈیا نے روکا پانی، خشک اپنے کھیت ہیں
سوکھے دریاؤں نے کیسا ہم سے ناتا توڑا ہے
یو ایس اے ہے جان ہماری اس لیے اس نے یہاں
پینے کے قابل نہیں جو کالا پانی چھوڑا ہے

یہ کون سی بحر ہے، کیا وزن ہے، اس کا سراغ لگانے سے کم از کم ہم تو قاصر ہیں۔

کنیڈی کے ہوائی اڈے پر یوں چیکنگ ہوئی اپنی
کہ جب پیدا ہوئے تھے ہم اسی حالت میں ہم نکلے
سلانے ہم کو جو آئی تھی قد میں ہم سے دگنی تھی
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

الفاظ کی بھرمار، بے حد ’لُوز‘ بندش، اور دوسرے اور تیسرے مصرعے میں دو دو بار لفظ ’ہم‘ کی تکرار۔

اور اب جگر تھام کے بیٹھو کہ صدرِ مشاعرہ کی باری آئی۔ یہ ہیں ٹُن مرادآبادی، یعنی معین اختر۔ امید ہے کہ شاید یہ کچھ اچھا کلام سنائیں گے:

ادھر مل رہے ہیں ادھر مل رہے ہیں
سیاست کے پنڈی میں گل کھل رہے ہیں

سیاست کا پہنا ہے پی پی نے کرتا
پاجامے متحدہ کے کیوں سل رہے ہیں

مضمون کے بے تکے پن کو اگر نظر انداز بھی کر دیں کہ اگر پی پی نے کرتا زیبِ تن کر رکھا ہے تو کیا متحدہ پاجامے نہ پہنے؟ پاجامہ کو بھی پجامہ کر دیا ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر ذرا متحدہ کا وزن دیکھیئے، کہ اس کو شاعرِ موصوف نے فعولن کے وزن پر باندھ دیا ہے، جو عروض کے ہر قانون کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔

یہ غزل بحرِ متقارب میں ہے جو نہایت مترنم بحروں میں شمار ہوتی ہے۔ اردو کی کئی شاہ کار غزلیں اسی بحر میں ہیں، جیسے ’فقیرانہ آئے صدا کر چلے‘، ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘، ’جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں‘، ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘، وغیرہ۔ اس بحر میں ایک رکن یعنی فعولن کی تکرار کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نرم و نازک بحر ایسے بے تکے پن کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

یہاں ہم یہ بات واضح کر دیں کہ شاعری کرنے کے لیے عروض کا علم ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر شاعر موزوں طبع ہو تو وہ بغیر فعولن فاعلات کی تکرار کے وزن میں شاعری کر سکتا ہے۔ شاعر تو ایک طرف رہا، مشاق قاری شعر پڑھتے پڑھتے بے وزن لفظ پر پہنچ کر یوں ٹھٹک جاتا ہے جیسے کھانا کھاتے کھاتے دانتوں تلے کنکر آ جائے۔

شاعرِ طرح دار گلزار کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ خود اپنے پہلے مجموعہٴ کلام ’چاند پکھراج کا‘ میں اعتراف کرتے ہیں کہ وہ عروض کی الف بے سے بھی واقف نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود مجال ہے کہ گلزار سرِمو بھی بہک جائیں۔

اس کے بعد ٹن حیدرآبادی نے احمد فراز کے ایک نہایت مشہور شعر پر ہاتھ صاف کرنا ضروری سمجھا:

ایک بکرے نے کہا بکری سے اے جانِ عزیز
اب کے ہم بچھڑے تو ممکن ہے کبابوں میں ملیں

اک عجب بات یہ دیکھی ہے یہاں نسواں میں
جتنی خوش شکلیں ہیں وہ ساری حجابوں میں ملیں

اور اب باری آئی خواجہ حیدر علی آتش کی مشہور غزل کی، جو بلاتبصرہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

یہ آرزو تھی ایس ایچ او کے روبرو کرتے
وہ چھتر مارتا اور آپ ہاؤ و ہو کرتے

ہمارے واسطے ذکیہ نے کتا پال لیا
سحر تلک رہے کتے سے گفتگو کرتے

ہم ایک بار گئے تھے شمالی بورڈر پر
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے

حلیم ٹھیک نہیں تھا چچا کے چہلم کا
بغیر لوٹے کے گھر لوٹے کو بہ کو کرتے

آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ انور مقصود یہ سمجھتے ہیں کہ مزاح صرف فحاشی، عریانی، رکاکت اور ابتذال سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی قبول ہے، لیکن کم از کم شاعری تو اچھی ہو۔ اور اگر خود شاعر موزوں طبع نہیں ہے تو پھر کم از کم کسی سے شاعری کے بنیادی اصول تو سیکھ لے۔ لیکن یہاں مسئلہ سستی کا نہیں، بلکہ تکبر کا ہے۔ ہم اتنے بڑے سپر سٹار ٹھہرے، ہمیں کچھ سیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔

ٹی وی کے بل بوتے پر شہرت حاصل کرلینا ایک بات ہے، لیکن پھر اس شہرت کو کیش کروانا ایک بات۔ چناں چہ اس شام بھی خوب کیش لٹا۔ اور ہم بھی پچاس ڈالر نقد اس ’مشاعرے‘ پر گنوا کر بہت پچھتائے۔

زیف سید | واشنگٹن

(شکریہ وائس آف امریکہ)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ
  • سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
  • ان صحبتوں میں آخر
  • کفن دفن​
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں
پچھلی پوسٹ
خلیل جبران اور آج کا پاکستان

متعلقہ پوسٹس

مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

مئی 23, 2020

ہالی ووڈ کا فریب – چوتھی قسط

جنوری 19, 2025

انسانی ہوس کا نتیجہ ہیں قدرتی آفات!

اگست 7, 2022

ٹیڑھی لکیر

جنوری 15, 2020

پرگتی

جنوری 24, 2020

بسم اللہ کی تاریخی حیثیت

نومبر 20, 2025

سیرتِ رسول ﷺ انسانیت کے لیے کامل نمونہ

اکتوبر 17, 2025

محسن ِ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر پاکستان!

اکتوبر 19, 2021

اصلی جن

اکتوبر 21, 2019

فیض اور میں

دسمبر 29, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مولانا شبلی نعمانی اور اردو زبان

ستمبر 24, 2025

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

اسکریبل آن لائن اجنبی کے ساتھ

جون 10, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں