خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرعمر خیام
اردو تحاریردلچسپ معلومات

عمر خیام

از سائیٹ ایڈمن جون 1, 2025
از سائیٹ ایڈمن جون 1, 2025 0 تبصرے 43 مناظر
44

تہران (اے یو ایس )مشہور فارسی شاعر اور مفکر عمر خیام نے اپنی قبرکے بارے میں پیشین گوئی تھی کی جو حر ف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ۔ گیاریں صدی میں پیدا ہونے والے عمر خیام فلسفی نجوم اور ریاض دانی کے عالم اور شاعری ان کا ایک مشغلہ تھا لیکن ان کی لافانی ”رباعیات عمر خیام “ ہزار سال بعد بھی اتنی ہی مقبول ہے اور اس کا اثر نہ صرف ایشیاءکے ملکوں میں پا یا جاتا ہے بلکی مغرب میں بھی وہ کافی مشہور ہیں۔ ان کے نام پر کئی فلمیں بنائی گئیں ہے اور ان کی رباعیات کا ذکر سینکڑوں فارسی اور انگریزی کتابوں میں ملتا ہے۔ خیام نے اپنی قبر کی نسبت اپنی زندگی میں ایک عجیب پیشگوئی کی تھی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔

خیام کے شاگرد نظامی عروضی اپنی معروف تصنیف ’چہار مقالہ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سنہ 506 ہجری میں شہر بلخ میں بردہ فروشوں کی گلی میں امام عمر خیام اور خواجہ مظفر اسفزاری ٹھہرے تھے۔ میں ان سے ملنے گیا تو خیام نے باتوں باتوں میں کہا کہ میری قبر ایسی جگہ ہو گی جہاں ہر موسم بہار میں باد شمال اس پر پھول برسائے گی۔‘عروضی کہتے ہیں کہ ’مجھے ان کی یہ پیشگوئی محال معلوم ہوئی لیکن میں جانتا تھا کہ خیام لغو نہیں بکتے۔ 530 میں جب نیشاپور پہنچا تو خیام کی موت کو چند سال گزر چکے تھے۔ مجھ پر ان کی استادی کا حق تھا، جمعے کے دن ان کی زیارت کو گیا، ایک شخص کو اپنے ساتھ لے گیا کہ اس کی قبر کا پتا مجھے بتائے، وہ مجھے گورستان حیرہ میں لے گیا۔ بائیں ہاتھ مڑا تو باغ کی دیوار کے نیچے قبر پائی، دیکھا کہ امرود اور زرد آلو کے درخت لگے ہیں اور پھولوں کی اتنی پتیاں گری ہیں کہ قبر بالکل ڈھک گئی۔

اس وقت مجھ کو بلخ کا واقعہ یاد آیا اور میں رو پڑا۔‘ان کے علاوہ اگر عمر خیام کے اشعار پر انگریزی کے معروف شاعر یوجین او نیل، اگاتھا کرسٹی اور سٹیون کنگ وغیرہ نے اپنی تصانیف کے نام رکھے تو وہیں معروف افسانہ نگار ہیکٹر ہیو منرو عمر خیام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے اپنا قلمی نام ہی ’ساقی‘ رکھ لیا۔کلکتہ یونیورسٹی میں فارسی کے استاد ڈاکٹر محمد شکیل کا کہنا ہے کہ ان سب کے باوجود خیام کی حےات اور ان کی پیدائش کے بارے میں کم معلومات ہیں اور جو معلومات ہیں ان میں بہت سی باتوں پر تاریخ، ادب کے ماہرین میں اختلاف رائے ہے۔

omar khayyamیہی بات سید سلیمان ندوی نے اپنی تصنیف ’خیام‘ میں کہی ہے کہ ’جس شخصیت یا موضوع پر جتنا زیادہ لکھا جاتا ہے اس میں اتنا ہی تنوع اور تضاد ملتا ہے۔‘اسی سلسلے میں مولانا آزاد نیشنل اوپن یونیورسٹی حیدرآباد میں فارسی کے استاد ڈاکٹر قیصر احمد کا کہنا ہے کہ خیام کی شہرت کے باوجود ان کا علم عام نہیں۔دلیل کے طور پر وہ معروف سائنسدان سر آئزک نیوٹن کے اس بیان کو پیش کرتے ہیں جس میں انھوں نے خود کو علم کے سمندر کے ساحل پر کنکریاں چنتے ہوئے بچے کی مانند کہا تھا۔

عام روایت سے پتا چلتا ہے کہ ان کی پیدائش نیشا پور میں سنہ 1024 اور 1029 کے درمیان ہوئی جبکہ ان کے ہم عصر ابو ظہیرالدین بیہقی نے ان کی پیدائش سنہ 1048 بتائی ہے۔ان کی طالب علمی کا ایک مشہور قصہ فٹزجیرالڈ سمیت بہت سے لوگوں نے نقل کیا۔ قصہ یوں ہے کہ اپنے زمانے کے معروف عالم اور دانشور نظام الملک طوسی، حسن صباح اور عمر خیام ہم جماعت تھے۔ خیام کی وجہ شہرت آج ان کی رباعیات ہیں جن کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے لیکن ان کی رباعیات میں کیا ہے جو آج تک لوگوں کو اپنا گرویدہ بنائے ہوئے ہے۔خیام کی رباعیات کے بارے میں مولانا شبلی لکھتے ہیں کہ ’خیام کی رباعیاں اگرچہ سینکڑوں ہزاروں ہیں لیکن سب کا قدر مشترک صرف چند مضامین ہیں: دنیا کی بے ثباتی، خوش دلی کی ترغیب، شراب کی تعریف، مسئلہ جبر، توبہ استغفار وغیرہ ہے۔‘امام بغدادی نے کہا کہعمر خیام تصوف کی ایک کتاب پڑھ رہے تھے اور جب وحدت و کثرت کے بیان پر پہنچے تو کتاب بند کر دی۔’انھوں نے مجھ سے کہا کہ میرے دوستوں کو بلاو¿۔ میں نے فردا فردا سب کو بلایا۔ جب سب جمع ہو گئے تو انھوں نے کسی کی جانب التفات نہ کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ظہر عصر سے فارغ ہوئے تو سجدے میں رو رو کر کہنے لگے ’اے خدا تو نے مجھ جس قدر علم بخشا، میں نے تیرے پہچاننے میں کمی نہ کی۔ اب تو مجھے بخش دے کیونکہ ترا علم تیرے نزدیک میرا شفیع ہے۔‘
اس کے بعد ان کی روح پرواز ہو گئی۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت
  • سکیسر کی بتیاں
  • تعلیم اور روزگار کا ربط
  • تلافی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بدلاں وانگ نیں گجدے بندے
پچھلی پوسٹ
پریم چند : اردو افسانہ کے امام

متعلقہ پوسٹس

گورمکھ سنگھ کی وصیت

جنوری 18, 2020

بچنی

جنوری 21, 2020

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں

اپریل 21, 2017

احمد ندیم قاسمی

جولائی 11, 2024

آغاز آفرینش

جنوری 16, 2026

ایک بوند لہو

نومبر 10, 2019

تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

جنوری 15, 2026

رقعہ بنام نواب میر غلام بابا خان بہادر

دسمبر 8, 2019

آنسو کیا ہیں؟

اکتوبر 6, 2025

جھوٹی سسکیاں

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہر دن ماں کا دن

مئی 13, 2021

ملبے کا ڈھیر

جنوری 16, 2020

قوال پارٹی

نومبر 27, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں