خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحبوب صابر

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں

محبوب صابر کا اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2017
از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2017 0 تبصرے 432 مناظر
433

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم
آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

جب میکاؤلی نے سولہویں صدی میں ” دا پرنس” لکھی تو اُس نے یورپ کی سیاسی زندگی میں ایک بھونچال برپا کر دیا- وہ یورپ جو اجتماعی سیاسی اور سماجی شعور سے عاری تھا اور جہاں پارلیمنٹ کی حثیت مسلمہ نہ تھی اور انتخابات محض ذاتی مخالفوں کی سرکوبی اور ایزا رسانی کا باعث تھے- باالکل ہمارے سماج ہی کی طرح سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے ڈھور ڈنگر مار دیا کرتے تھے یہاں تک کہ کھڑی فصلیں تک تباہ کر دیا کرتے تھے- طعن و تشنیہہ، گالم گلوچ اور دست درازی سیاسی پنڈتوں کا معمول تھا-

کوئی قانون اور ضابطہ حتمی طور پر نہ تھا- یہ وہی دور تھا کہ جب یورپ اپنی دوبارہ بحالی یا Rehabilitation کیلئے کوشاں تھا یا پھر آپ اسے Renaissance کہہ سکتے ہیں۔ اِسی زمانے میں ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ جیسی اصطلاحات نے جنم لیا- میکاؤلی نے اُس وقت کے بھٹکے ہوئے یورپ کی سیاسی اور سماجی تربیت کی اور اُس کی یہ کوشش خاصی حد تک کامیاب بھی رہی۔ اُس نے پارلیمنٹ کی حثیت اور اہمیت کواُجاگر کیا اور لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ مہذب معاشرے کے قیام کیلئے سیاسی رواداری اور مربوط سیاسی نظام کس قدر اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ اِسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ لگ بھگ ایک صدی بعد انقلابِ فرانس نے حقیقی پارلیمنٹ اورقانون کی بالادستی قائم کردی۔ حالانکہ اس سے پہلے Divine Right of the king یا بادشاہ ہی کا بیٹا بادشاہ کا فلسفہ اُس معاشرے میں مستعمل تھا- انقلاب فرانس کا سب سے بڑا محرک چرچ تھا جو امورِ مملکت میں اپنی ماورائی توجیہات کی بنا پر خلل ڈالتا تھا اور ہر شئے کو مذہب کے سانچے میں ڈھالنے کے درپے تھا- اُس وقت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سیاست عام آدمی یا معاشی اعتبار سے کمزور یا صرف چند تسلیم شدہ مذہبی پیشواؤں کے علاوہ اور کسی کا استحقاق نہیں-
ان حالات میں اُس وقت کے دانشوروں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ چرچ اور پارلیمنٹ دو علیحدہ ادارے ہیں لہذا ان دونوں کا انضمام معاشرے میں بے سکونی اور اضطراب کا باعث ہے سو ان دونوں اداروں کو اپنی اپنی حثیت اور اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیئے۔ ایک دل دہلا دینے والی خونریزی اور طویل جنگ وجدل کے بعد آخر ان دونوں اداروں نے اپنی بقا اور استحکام کی خاطر ایک دوسرے کی انفرادی حثیت کو تسلیم کر لیا- اُسی کے نتیجے میں عیسائیوں کا فرقہ protestants بھی معرضِ وجود میں آیا- اس تمہید کا بنیادی مقصد اپنے معاشرے میں پائی جانے والی وہ افراتفری ہے جو اب کسی حد تک سیاسی ابتری کا روپ دھار چُکی ہے اور جس کے ذمہ داران خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں- جس معاشرے میں سیاست غیر تعلیم یافتہ، غیر مہذب اور غیر شائستہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی وہاں بے سکونی اور اضطراب عین فطری سی بات ہے۔ کل جب پاناما کا فیصلہ آیا تو میرے ذہن میں یہ سب باتیں چشمِ زدن میں ایک ہیولے کی طرح آئیں اور گزر گئیں اور مجھے اپنا مُلک چند لمحوں کیلئے سولہویں صدی کا یورپ ہی لگنے لگا جہاں سچائی اور انصاف مفقود تھا اور محض ذاتی انا کی تسکین کیلئے لوگ بڑے سے بڑا جرم بڑے فخر سے کرتے تھے- جہاں انصاف اور راست گوئی سے ناآشنائی تھی، جہاں آئین و قانون کی تزہیک اشرافیہ ہونے کی دلیل تھی- مگر اس کے ساتھ ہی مجھے چند لمحوں کیلئے یوں محسوس ہوا کہ جیسے شائد اب جُرم کرنے والے اگرچہ ڈھٹائی اور بے حیائی کا تماشا تو رچائے ہوئے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں احساسِ ندامت بھی ہے اور یہ حیرت اور سراسیمگی کےنئے احساس سے بھی دوچار ہیں- مگر اب وہ وقت زیادہ دور نہیں کہ جب اس مُلک کے تھانے اور سول سرونٹس کو اپنی عزتِ نفس بحال کرنا ہے۔ مجھے نوجوان افیسرز سے مل کر خوشی ہوتی ہے کہ اُن میں سے اکثریت رشوت سے متنفر ہیں، وہ جھوٹی ایف آئ آر کاٹنا گناہِ کبیرہ تصور کرتے ہیں- مجھے آج کی عدالت کے اذہان میں بھی ایک نئ مشعل روشن ہوتی ہوئی دکھائ دے رہی ہے جو بدکرداری اور بددیانتی کی تاریکیوں کو مٹانے کا عزم لیئے ہوئے ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وزیرِ اعظم مُلک کی سب سے بڑی عدالت سے بددیانتی کی سند لینے کے بعد شائد اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتا اور خود کو متنارع ہو جانے کی بنا پر اپنے عپہدے سے سُبکدوش ہوجاتا مگر پھر خیال آیا کہ ابھی اس مُلک کی سیاست پوری طرح سے اور صحیح معنوں میں اہلِ علم اور حقیقی دانشوروں سے محروم ہے سو ایسی خواہش خود اذیتی کے سوا کچھ نہیں۔

مگر میرا پختہ یقین ہے کہ پاناما کا یہ فیصلہ اگرچہ اتنا توانا اور طاقت ور نہیں مگر پھر بھی اس کی بازگشت آنیوالے حُکمرانوں کے ذہنوں میں گونجتی رہئے گی- اور مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ اب پاکستان کی بیوروکریسی اور عدلیہ نے Renaissance کا عہد کر لیا ہے اور ہم بھی جلد اس مُلک میں انصاف اور قانون کی حاکمیت کی مجسم تصویر دیکھ سکیں گے جوبددیانت حاکموں کے بغیر ہوگی-

محبوب صابر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کھول دو
  • شراپتی ٹرین
  • نابینا علمائے کرام
  • لوٹ کر آۓ نہیں چھوڑ کے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا
پچھلی پوسٹ
طوائف اور جگر مرادآبادی

متعلقہ پوسٹس

آرٹسٹ کی موت

دسمبر 8, 2023

الزام گر وہ دیں گے ہمیں بے وفائی کا

جنوری 1, 2023

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے

اکتوبر 24, 2025

کسی کے آنے کے کامل یقیں پہ چلتا ہے

اکتوبر 16, 2025

تمام ہجر زدوں کا امام کر کے مجھے

نومبر 9, 2025

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

مصالحے اور صحت

جون 15, 2025

مادی و معنوی ترقی و کمال

فروری 17, 2026

تھی کس قدر شدید یہ مہر و وفا کی چوٹ

اگست 23, 2020

سہنے کو رنج گنبدِ بے در میں آ گیا

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لفظوں کی شہزادی 

فروری 2, 2020

دلچسپ وانمول قرآنی معلومات

نومبر 1, 2020

حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں...

مئی 22, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں