436
ان پرندوں کے گھر نہیں رہتے
جو کسی شاخ پر نہیں رہتے
یہ جو ڈر ہیں یہ بولنے تک ہیں
بول اُٹھیں تو ڈر نہیں رہتے
بات یہ ہے کہ بات والوں کی
"بات رہتی ہے سر نہیں رہتے”
ایک کھونٹی پہ عمر بھر لٹکے
ہم سے دریوزہ گر نہیں رہتے
اپنے مالک سے ڈرنے والوں میں
ایسے ویسوں کے ڈر نہیں رہتے
زندگی کے حریص پنجرے میں
رہتے ہیں، خوش مگر، نہیں ریتے
بات کا مان توڑنے والے
پھر کبھی معتبر نہیں رہتے
دیکھ ناقدریء زمانہ دیکھ
اس میں دستِ ہنر نہیں رہتے
یہ تو طے ہے، کہ پھر کہیں کے بھی
تیرے خانہ بدر نہیں رہتے
بات میں سچ سبھاؤ ہو تو پھر
الٹے سیدھے بھنور نہیں رہتے
دلشاد احمد
