403
ایک موہوم سی امید پہ چل پڑتا ہے
روشنی دل کو دکھائیں تو اچھل پڑتا ہے
اے مری سانس گذارش ہے کہ آہستہ چل
ایک درویش کی خلوت میں خلل پڑتا ہے
بارِ احسان کوئی اس کو گوارا ہی نہیں
میری خود داری کے ماتھے پہ جو بل پڑتا ہے
دل میں آنا تو بہت سوچ سمجھ کر آنا
اس کے رستے میں سلگتا ہوا تھل پڑتا ہے
عشق تو ایک مسافت ہے بیابانوں کی
اس کے رستے میں کہاں تاج محل پڑتا ہے
پوچھتے کیا ہو مزاجِ دلِ دلشاد ہے کیا
یہ دیا پیار کی اک آنچ سے جل پڑتا ہے
دلشاد احمد
