493
یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا
دشمنوں کے بھی سوالات پہ غم کیا کرنا
رات دن اشکوں کی برسات پہ غم کیا کرنا
اپنے بگڑے ہوئے حالات پہ غم کیا کرنا
وقت کیسا بھی ہو دو پل میں گزر جائے گا
درد میں ڈوبی ہوئی رات پہ غم کیا کرنا
کام اس کا ہے ستانا وہ ستائے گا ہی
دشمن جاں کی خرافات پہ غم کیا کرنا
جانتی تھی کی بچھڑنا ہے ہمیں آخر جب
چند لمحوں کی ملاقات پہ غم کیا کرنا
بے وفائی سے تری خوب تھے واقف ہم تو
پھر ملی اشکوں کی سوغات پہ غم کیا کرنا
جیوتی آزاد کھتری
