468
زخم اپنے گلاب کر دینا
روح کو ماہتاب کر دینا
ڈال کر اک نظر محبت کی
سب کو تم لا جواب کر دینا
روح کے زخم روشنی دیں گے
ہجر کو آفتاب کر دینا
پتھروں سے اگر جو بچنا ہو
عکس کو بھی سراب کر دینا
باب لکھنا ہو زندگی کا اگر
چاہتوں کو نصاب کر دینا
اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لئے
اپنی آنکھوں کو خواب کر دینا
خود کو مسمار کر کے شاہیں تم
اک ستارہ شہاب کر دینا
نجمہ کھوسہ
