386
وہ خواب دکھاتے ہے ساکار نہیں کرتے
الفت سے مگر کھل کے انکار نہیں کرتے
بس بات کوئی ان کو سمجھا دے یے اتنی سی
رشتوں میں کبھی کوئی بیوپار نہیں کرتے
دل اس نے کیا چھلنی بے رحمی سے پیش آیا
دشمن پے بھی ہم اپنے یوں وار نہیں کرتے
دیکھا ہے محبت میں برباد ہوئے کتنے
ہم دل کو بچاتے ہے بیمار نہیں کرتے
طوفان کوئی آئے اس راہ محبت میں
اس دل کو کبھی اپنے بیزار نہیں کرتے
ہم اچھے برے جیسے بھی سامنے ہے سب کے
ہم اپنی حقیقت سے انکار نہیں کرتے
مانا کی ہوئے زخمی یے قلب و جگر لیکن
ہم زخم چھپاتے ہیں اخبار نہیں کرتے
جیوتی آزاد کھتری
