331
وفا کی راہ میں ایسے کمال کرتی ہوں
نہ کوئی شکوہ نہ کوئی سوال کرتی ہوں
میں روز تاروں سے دامن سجاتی ہوں اپنا
بہت سلیقے سے اپنا خیال کرتی ہوں
یہ کب تلک یوں ہی نفرت کا کھیل کھیلو گے
میں لیڈروں سے یہی اک سوال کرتی ہوں
غموں کو اپنی میں غزلوں میں ڈھالتی ہوں بس
یہ دنیا والے کہے کہ کمال کرتی ہوں
اداسیوں سے صدا رکھ کے فاصلہ جیوتیؔ
میں ایسے زیست حسیں پر جمال کرتی ہوں
جیوتی آزاد کھتری
