476
وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے
مگر وہ کوئی مناسب بہانا چاہتا ہے
یہ زندگی ہے یہ تو ہے یہ روزگار کے دکھ
ابھی بتا دے کہاں آزمانا چاہتا ہے
کہ جیسے اس سے ملاقات پھر نہیں ہوگی
وہ ساری باتیں اکٹھی بتانا چاہتا ہے
میں سن رہا ہوں اندھیرے میں آہٹیں کیسی
یہ کون آیا ہے اور کون جانا چاہتا ہے
اسے خبر ہے کہ مجنوں کو راس ہے جنگل
وہ میرے گھر میں بھی پودے لگانا چاہتا ہے
وہ خود غرض ہے محبت کے باب میں تابشؔ
کہ ایک پل کے عوض اک زمانہ چاہتا ہے
عباس تابش
