107
نکلے تھے کسی مکان سے ہم
روٹھے رہے اک جہان سے ہم
بدنامیاں دل سے آنکھ تک تھیں
رسوا نہ ہوئے زبان سے ہم
ہے تنگ جہانِ بود و نابود
اترے ہیں کسی آسمان سے ہم
پھولوں میں بکھر گئے تھے رستے
گزرے نہیں درمیان سے ہم
جو شان تھی ملتے وقت مشتاق
بچھڑے اسی آن بان سے ہم
احمد مشتاق
