326
دن ہی ڈھلتا نہ شب گزرتی ہے
ہم پہ حالت عجب گزرتی ہے
میر و مجنوں کے دور میں کب تھی؟
وہ مصیبت جو اب گزرتی ہے
منتظر ہیں کہ یہ سوارٸ مرگ
اِس محلے سے کب گزرتی ہے؟
باغِ اسباب کے احاطے سے
صرصرِ بے سبب گزرتی ہے
جس قیامت کا تھا بیاں کم کم
اِن دنوں سب کی سب گزرتی ہے
ھاتھ دھوئیں شراب سے کہ پئیں
بے بسی پُر غضب گزرتی ہے
ابنِ آدم ابھی نہ چل کہ ابھی
اجَلِ بے نسب گزرتی ہے
عارف امام
