خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسرکس کے شیر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

سرکس کے شیر

از اقرا جبین ستمبر 20, 2020
از اقرا جبین ستمبر 20, 2020 0 تبصرے 57 مناظر
58

"سرکس کے شیر”
کنفیوشس نے کہا تھا کہ
"ریاست کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلو’ ریعت خودبخود بدل جائے گی۔”
آج کل پاکستان بالخصوص کراچی سیلاب کی صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور اس شہر کے لوگ اب سیاسی نمائندے اور دوسرے اداروں پر اس شہر کی ناقص صورتِ حال کا ملبہ ڈال رہے ہیں۔
جب میں اپنے ملک کو دیکھتا ہوں تو زیادہ تر مجھے سرکس کے شیر لگتے ہیں۔ یعنی وہ شیر جو ایک پنجرے میں قید ہو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا نہ کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی۔ ایک اپنی زندگی آرام دہ زون میں گزار رہا ہوتا ہے۔ اسے اس کا مالک تین وقت کا کھانا دے دیتا ہے۔ نہ اسے موسم کی تبدیلیاں متاثر کرتی ہیں نا اسے باہر ہونے والی تبدیلیوں سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ بس ہر روز تماشہ دکھا کر اپنے پنجرے میں واپس چلا جاتا ہے۔ بس ایک چیز جو اسے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے روزانہ اپنے مالک کے اشاروں پر کرتب دکھانا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے تو بچے بھی اس کی دم سے کھیلتے ہیں۔
کیا ہم سب سرکس کے شیر نہیں ہیں؟ ہم سب بھی اپنے کمفرٹ زون میں رہنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی خرابی اپنے ملک یا شہر میں ہو جائے تو ہم اپنے مالک کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لیتے ہیں۔ جیسے آج کل کراچی شہر کے حالات پر میرے شہر کے لوگوں نے حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لی ہے۔ بس پھر کیا ہو گا کچھ کمیٹیاں بنیں گی کچھ بیانات آئیں گے اور کچھ وقت بعد ہم کسی اور مسئلے کی طرف راغب ہو جائیں گے۔ لیکن عوام وہی سرکس کے شیر والی زندگی گزاریں گے اور جو رقز کرتے ہیں وہی کریں گے۔ ٹوٹی سڑکوں کا رونا روئیں گے نالوں پر غیر قانونی تجاوزات اور گلیوں میں پڑی گندگیوں کے گلے کریں گے لیکن خود کچھ نہیں کریں گے۔ کیونکہ کچھ کرنے کے لیے روزانہ سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔ ہم سب ریاست کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو بدلنا نہیں چاہتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ سیاستدان چور ہیں ادارے ناکام ہیں پولیس رشوت لیتی ہے۔ پاکستان میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں ملاوٹ ہے بھتہ خوری ہے کرپشن ہے۔ غرض میرے ملک پاکستان میں ہر قسم کی برائی ہے۔ تو بھائی تم کیا کر رہے ہو؟ پھر جواب آتا ہے میرے ایک ٹھیک ہونے سے کیا ہوگا؟
اگر علامہ اقبال یا قائد اعظم بھی یہی سوچتے کہ ہمارے پاکستان کا خواب دیکھنے سے کیا ہوتا ہے تو آج شاید پاکستان بھی نہ ہوتا۔ آج ہمارے ملک کا نوجوان باہر کسی ملک میں جا کر ہر گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے پر بھی آمادہ ہے لیکن اپنے ملک کے فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیےکوئی جدوجہد کرنے کو تیار نہیں۔ اس شیر کی طرح جو جنگل میں آزاد گھومتا ہے جسے شاید یہ تو نہیں پتا کہ آج اسے کتنے وقت کا کھانا ملے گا لیکن اسے اتنا پتا ہے کہ وہ آزاد ہے اور
کسی کے اشاروں کا محتاج نہیں ہے۔ شاید ہم اپنے ملک کے فرسودہ نظام سے مایوس ہو گئے ہیں اور ایک قوم کی بجائے انفرادی سوچ مسلط کر لی ہے۔پاکستان میں ہونے والی ہر برائی اور اقربا پروری سے خود کو بری الزمہ قرار دے دیا ہے۔ اور آج کا پاکستانی تو صرف اپنی زات یا بس کسی دوسرے ملک جانے تک محدود ہو گیا ہے۔
حالیہ بارشوں نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ یقیناً اس کی بڑی زمہ داری کراچی کی ایڈمنسٹریشن اور وہاں موجود حکومت پر ہے۔ لیکن کیا کراچی کا ہر شہری اپنے آپ کو اس زمہ داری سے بری الذمہ سمجھتا ہے؟ کیا ہم نے کراچی شہر کق وہ کچھ دیا ہے جس کی اس کو ضرورت ہے؟ کراچی کی سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر کس نے لگائے؟ یہ غیر قانونی تجاوزات کے مالک کون ہیں؟ ہم صرف اپنے گھر کو محفوظ بنا کر سکون کی نیند نہیں سو سکتے۔ اگر سڑکیں محلے اور چوراہے صاف نہیں ہیں تو دیکھ لیں ہمارے گھر بھی غیر محفوظ ہیں۔ ڈیفنس سے لے کر کچی آبادی تک سب کچھ درہم برہم ہو گیا۔ اس بارش نے ناصرف مالی نقصان کیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ اب بھی وقت ہے اپنے شہر کو سنبھال لو۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں یا تو اس کھنڈر نما باقیات میں اپنا مستقبل ڈھونڈیں گی یا تو دیارِ غیر میں ایک سرکس کے شیر کی طرح زندگی گزار رہی ہو گی۔
کاش جس طرح دن اور رات کا بہت بڑا حصہ ہم اپنی زات اور خواہشات کی تکمیل میں صرف کرتے ہیں کاش کچھ وقت معاشرے کی بھلائی اور اپنی صلاحیتوں کا کچھ حصہ دوسروں کی بھلائی کے لیے صرف کریں تو ہم پھر سے ایک آزاد اور خود مختار قوم بن کر ابھر سکتے ہیں۔

محمد اشفاق

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئی تصویر کجا تیرے حوالوں کے لیے
  • انسانی تقدس ۔ سوشل میڈیا کے نرغے میں
  • نظمِ معریٰ اشکِ
  • عشق و عاجزی کا ڈھب ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
اقرا جبین

اگلی پوسٹ
مرد کی آمریت
پچھلی پوسٹ
ہم تو قائل ہی نہ تھے

متعلقہ پوسٹس

دل میں ہے احترام رسولِ کریمؐ کا

نومبر 5, 2025

موذیل

جنوری 16, 2020

رائٹ برادران

مئی 18, 2025

جو شجر دیتا تھا سایہ

جون 27, 2025

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022

اُمّ الغذا کلونجی: ہر بیماری کے علاج میں معاون

اپریل 24, 2022

شادی کی دعوت

نومبر 19, 2019

تاریکی میں ڈوبتی دنیا

مئی 2, 2024

مسز ڈی کوسٹا

جنوری 16, 2013

کہاں حالات پر کچھ بس ہمارا چل رہا ہے

مئی 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں اور چاند

نومبر 7, 2020

فطرت کا گمشدہ راز

دسمبر 25, 2024

افواجِ پاکستان کی نذر

فروری 16, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں