خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسرکس کے شیر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

سرکس کے شیر

از اقرا جبین ستمبر 20, 2020
از اقرا جبین ستمبر 20, 2020 0 تبصرے 79 مناظر
80

"سرکس کے شیر”
کنفیوشس نے کہا تھا کہ
"ریاست کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلو’ ریعت خودبخود بدل جائے گی۔”
آج کل پاکستان بالخصوص کراچی سیلاب کی صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور اس شہر کے لوگ اب سیاسی نمائندے اور دوسرے اداروں پر اس شہر کی ناقص صورتِ حال کا ملبہ ڈال رہے ہیں۔
جب میں اپنے ملک کو دیکھتا ہوں تو زیادہ تر مجھے سرکس کے شیر لگتے ہیں۔ یعنی وہ شیر جو ایک پنجرے میں قید ہو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا نہ کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی۔ ایک اپنی زندگی آرام دہ زون میں گزار رہا ہوتا ہے۔ اسے اس کا مالک تین وقت کا کھانا دے دیتا ہے۔ نہ اسے موسم کی تبدیلیاں متاثر کرتی ہیں نا اسے باہر ہونے والی تبدیلیوں سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ بس ہر روز تماشہ دکھا کر اپنے پنجرے میں واپس چلا جاتا ہے۔ بس ایک چیز جو اسے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے روزانہ اپنے مالک کے اشاروں پر کرتب دکھانا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے تو بچے بھی اس کی دم سے کھیلتے ہیں۔
کیا ہم سب سرکس کے شیر نہیں ہیں؟ ہم سب بھی اپنے کمفرٹ زون میں رہنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی خرابی اپنے ملک یا شہر میں ہو جائے تو ہم اپنے مالک کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لیتے ہیں۔ جیسے آج کل کراچی شہر کے حالات پر میرے شہر کے لوگوں نے حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لی ہے۔ بس پھر کیا ہو گا کچھ کمیٹیاں بنیں گی کچھ بیانات آئیں گے اور کچھ وقت بعد ہم کسی اور مسئلے کی طرف راغب ہو جائیں گے۔ لیکن عوام وہی سرکس کے شیر والی زندگی گزاریں گے اور جو رقز کرتے ہیں وہی کریں گے۔ ٹوٹی سڑکوں کا رونا روئیں گے نالوں پر غیر قانونی تجاوزات اور گلیوں میں پڑی گندگیوں کے گلے کریں گے لیکن خود کچھ نہیں کریں گے۔ کیونکہ کچھ کرنے کے لیے روزانہ سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔ ہم سب ریاست کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو بدلنا نہیں چاہتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ سیاستدان چور ہیں ادارے ناکام ہیں پولیس رشوت لیتی ہے۔ پاکستان میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں ملاوٹ ہے بھتہ خوری ہے کرپشن ہے۔ غرض میرے ملک پاکستان میں ہر قسم کی برائی ہے۔ تو بھائی تم کیا کر رہے ہو؟ پھر جواب آتا ہے میرے ایک ٹھیک ہونے سے کیا ہوگا؟
اگر علامہ اقبال یا قائد اعظم بھی یہی سوچتے کہ ہمارے پاکستان کا خواب دیکھنے سے کیا ہوتا ہے تو آج شاید پاکستان بھی نہ ہوتا۔ آج ہمارے ملک کا نوجوان باہر کسی ملک میں جا کر ہر گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے پر بھی آمادہ ہے لیکن اپنے ملک کے فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیےکوئی جدوجہد کرنے کو تیار نہیں۔ اس شیر کی طرح جو جنگل میں آزاد گھومتا ہے جسے شاید یہ تو نہیں پتا کہ آج اسے کتنے وقت کا کھانا ملے گا لیکن اسے اتنا پتا ہے کہ وہ آزاد ہے اور
کسی کے اشاروں کا محتاج نہیں ہے۔ شاید ہم اپنے ملک کے فرسودہ نظام سے مایوس ہو گئے ہیں اور ایک قوم کی بجائے انفرادی سوچ مسلط کر لی ہے۔پاکستان میں ہونے والی ہر برائی اور اقربا پروری سے خود کو بری الزمہ قرار دے دیا ہے۔ اور آج کا پاکستانی تو صرف اپنی زات یا بس کسی دوسرے ملک جانے تک محدود ہو گیا ہے۔
حالیہ بارشوں نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ یقیناً اس کی بڑی زمہ داری کراچی کی ایڈمنسٹریشن اور وہاں موجود حکومت پر ہے۔ لیکن کیا کراچی کا ہر شہری اپنے آپ کو اس زمہ داری سے بری الذمہ سمجھتا ہے؟ کیا ہم نے کراچی شہر کق وہ کچھ دیا ہے جس کی اس کو ضرورت ہے؟ کراچی کی سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر کس نے لگائے؟ یہ غیر قانونی تجاوزات کے مالک کون ہیں؟ ہم صرف اپنے گھر کو محفوظ بنا کر سکون کی نیند نہیں سو سکتے۔ اگر سڑکیں محلے اور چوراہے صاف نہیں ہیں تو دیکھ لیں ہمارے گھر بھی غیر محفوظ ہیں۔ ڈیفنس سے لے کر کچی آبادی تک سب کچھ درہم برہم ہو گیا۔ اس بارش نے ناصرف مالی نقصان کیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ اب بھی وقت ہے اپنے شہر کو سنبھال لو۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں یا تو اس کھنڈر نما باقیات میں اپنا مستقبل ڈھونڈیں گی یا تو دیارِ غیر میں ایک سرکس کے شیر کی طرح زندگی گزار رہی ہو گی۔
کاش جس طرح دن اور رات کا بہت بڑا حصہ ہم اپنی زات اور خواہشات کی تکمیل میں صرف کرتے ہیں کاش کچھ وقت معاشرے کی بھلائی اور اپنی صلاحیتوں کا کچھ حصہ دوسروں کی بھلائی کے لیے صرف کریں تو ہم پھر سے ایک آزاد اور خود مختار قوم بن کر ابھر سکتے ہیں۔

محمد اشفاق

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یک طرفہ محبت
  • بیگانگی
  • قید میں اس کو دکھاؤ
  • کچہری بس سٹاپ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
اقرا جبین

اگلی پوسٹ
مرد کی آمریت
پچھلی پوسٹ
ہم تو قائل ہی نہ تھے

متعلقہ پوسٹس

انساں کی اپنے واسطے تنظیم ہے غلط

جنوری 28, 2020

میرے وطن کی جان تھے عبدالقدیر خان

دسمبر 12, 2021

ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ

مارچ 25, 2025

بھٹو کی بیٹی

دسمبر 29, 2021

خطے میں نئی بساط

ستمبر 5, 2025

اِدھر اُدھر میں نہیں

نومبر 11, 2025

شاداں

فروری 16, 2020

فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

ستمبر 17, 2020

بے صدا ہورہی ہیں آوازیں

اگست 8, 2024

سجدوں کی لذت

مئی 26, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اوائل جنوری

جون 12, 2025

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

مئی 31, 2020

ریشم کی مہک

دسمبر 5, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں