خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسرکس کے شیر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

سرکس کے شیر

از اقرا جبین ستمبر 20, 2020
از اقرا جبین ستمبر 20, 2020 0 تبصرے 97 مناظر
98

"سرکس کے شیر”
کنفیوشس نے کہا تھا کہ
"ریاست کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلو’ ریعت خودبخود بدل جائے گی۔”
آج کل پاکستان بالخصوص کراچی سیلاب کی صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور اس شہر کے لوگ اب سیاسی نمائندے اور دوسرے اداروں پر اس شہر کی ناقص صورتِ حال کا ملبہ ڈال رہے ہیں۔
جب میں اپنے ملک کو دیکھتا ہوں تو زیادہ تر مجھے سرکس کے شیر لگتے ہیں۔ یعنی وہ شیر جو ایک پنجرے میں قید ہو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا نہ کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی۔ ایک اپنی زندگی آرام دہ زون میں گزار رہا ہوتا ہے۔ اسے اس کا مالک تین وقت کا کھانا دے دیتا ہے۔ نہ اسے موسم کی تبدیلیاں متاثر کرتی ہیں نا اسے باہر ہونے والی تبدیلیوں سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ بس ہر روز تماشہ دکھا کر اپنے پنجرے میں واپس چلا جاتا ہے۔ بس ایک چیز جو اسے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے روزانہ اپنے مالک کے اشاروں پر کرتب دکھانا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے تو بچے بھی اس کی دم سے کھیلتے ہیں۔
کیا ہم سب سرکس کے شیر نہیں ہیں؟ ہم سب بھی اپنے کمفرٹ زون میں رہنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی خرابی اپنے ملک یا شہر میں ہو جائے تو ہم اپنے مالک کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لیتے ہیں۔ جیسے آج کل کراچی شہر کے حالات پر میرے شہر کے لوگوں نے حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لی ہے۔ بس پھر کیا ہو گا کچھ کمیٹیاں بنیں گی کچھ بیانات آئیں گے اور کچھ وقت بعد ہم کسی اور مسئلے کی طرف راغب ہو جائیں گے۔ لیکن عوام وہی سرکس کے شیر والی زندگی گزاریں گے اور جو رقز کرتے ہیں وہی کریں گے۔ ٹوٹی سڑکوں کا رونا روئیں گے نالوں پر غیر قانونی تجاوزات اور گلیوں میں پڑی گندگیوں کے گلے کریں گے لیکن خود کچھ نہیں کریں گے۔ کیونکہ کچھ کرنے کے لیے روزانہ سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔ ہم سب ریاست کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو بدلنا نہیں چاہتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ سیاستدان چور ہیں ادارے ناکام ہیں پولیس رشوت لیتی ہے۔ پاکستان میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں ملاوٹ ہے بھتہ خوری ہے کرپشن ہے۔ غرض میرے ملک پاکستان میں ہر قسم کی برائی ہے۔ تو بھائی تم کیا کر رہے ہو؟ پھر جواب آتا ہے میرے ایک ٹھیک ہونے سے کیا ہوگا؟
اگر علامہ اقبال یا قائد اعظم بھی یہی سوچتے کہ ہمارے پاکستان کا خواب دیکھنے سے کیا ہوتا ہے تو آج شاید پاکستان بھی نہ ہوتا۔ آج ہمارے ملک کا نوجوان باہر کسی ملک میں جا کر ہر گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے پر بھی آمادہ ہے لیکن اپنے ملک کے فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیےکوئی جدوجہد کرنے کو تیار نہیں۔ اس شیر کی طرح جو جنگل میں آزاد گھومتا ہے جسے شاید یہ تو نہیں پتا کہ آج اسے کتنے وقت کا کھانا ملے گا لیکن اسے اتنا پتا ہے کہ وہ آزاد ہے اور
کسی کے اشاروں کا محتاج نہیں ہے۔ شاید ہم اپنے ملک کے فرسودہ نظام سے مایوس ہو گئے ہیں اور ایک قوم کی بجائے انفرادی سوچ مسلط کر لی ہے۔پاکستان میں ہونے والی ہر برائی اور اقربا پروری سے خود کو بری الزمہ قرار دے دیا ہے۔ اور آج کا پاکستانی تو صرف اپنی زات یا بس کسی دوسرے ملک جانے تک محدود ہو گیا ہے۔
حالیہ بارشوں نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ یقیناً اس کی بڑی زمہ داری کراچی کی ایڈمنسٹریشن اور وہاں موجود حکومت پر ہے۔ لیکن کیا کراچی کا ہر شہری اپنے آپ کو اس زمہ داری سے بری الذمہ سمجھتا ہے؟ کیا ہم نے کراچی شہر کق وہ کچھ دیا ہے جس کی اس کو ضرورت ہے؟ کراچی کی سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر کس نے لگائے؟ یہ غیر قانونی تجاوزات کے مالک کون ہیں؟ ہم صرف اپنے گھر کو محفوظ بنا کر سکون کی نیند نہیں سو سکتے۔ اگر سڑکیں محلے اور چوراہے صاف نہیں ہیں تو دیکھ لیں ہمارے گھر بھی غیر محفوظ ہیں۔ ڈیفنس سے لے کر کچی آبادی تک سب کچھ درہم برہم ہو گیا۔ اس بارش نے ناصرف مالی نقصان کیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ اب بھی وقت ہے اپنے شہر کو سنبھال لو۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں یا تو اس کھنڈر نما باقیات میں اپنا مستقبل ڈھونڈیں گی یا تو دیارِ غیر میں ایک سرکس کے شیر کی طرح زندگی گزار رہی ہو گی۔
کاش جس طرح دن اور رات کا بہت بڑا حصہ ہم اپنی زات اور خواہشات کی تکمیل میں صرف کرتے ہیں کاش کچھ وقت معاشرے کی بھلائی اور اپنی صلاحیتوں کا کچھ حصہ دوسروں کی بھلائی کے لیے صرف کریں تو ہم پھر سے ایک آزاد اور خود مختار قوم بن کر ابھر سکتے ہیں۔

محمد اشفاق

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • طوائف کون؟
  • شادی کی بریانی
  • زندہ ہیں تِرے شہر میں امید و یقیں پر
  • ڈاکٹر سلمان علی صاحب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
اقرا جبین

اگلی پوسٹ
مرد کی آمریت
پچھلی پوسٹ
ہم تو قائل ہی نہ تھے

متعلقہ پوسٹس

زند گی ، کیسی زندگی ہوگی

جون 27, 2025

ممتاز مفتی کی کتاب "غبارے” سے

دسمبر 16, 2019

چھوٹا منہ بڑی بات

اکتوبر 3, 2021

ہماری تہذیب اور مرحوم عامر

جولائی 13, 2022

فردوسِ بریں

جون 5, 2026

احتجاج کی پیچیدگی اور شہری تحفظ کا چیلنج

اکتوبر 11, 2025

تجھے حلال ہے مجھ پر

اکتوبر 7, 2025

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

مئی 28, 2024

جنریشن گیپ

مئی 21, 2020

مجھے میرے بزرگوں سے بچاؤ

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تو میرا عشق ہے

مئی 2, 2020

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ...

اپریل 14, 2021

ایک معمولی خط

مئی 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں