خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتاریکی میں ڈوبتی دنیا
آپکا اردو بابااردو تحاریرشیخ خالد زاہد

تاریکی میں ڈوبتی دنیا

از شیخ خالد زاہد مئی 2, 2024
از شیخ خالد زاہد مئی 2, 2024 0 تبصرے 46 مناظر
47

معاشرہ افراد کی مرہونِ منت ترتیب پاتا ہے، افراد اپنی تربیت بہترین اطوار پر کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں اور بہتر سے بہتر کی تلاش جاری ہے۔ تہذیبوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ان دفن شدہ تہذیبوں میں سے ان کے رہن سہن اور دیگر طور طریقوں پر تحقیق کی جاتی ہے اور باقاعدہ یہ ثابت بھی کیا جاتا ہے کہ ان تہذیبوں میں ایسا ہی ہوتا ہوگا۔ وقت کا تو نہیں، انسان کے طور طریقے ہر دور میں بدلتے رہتے ہیں۔دنیا کی تاریخ انسانیت کی تذلیل جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے، یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو تکلیف دینے سے کسی قسم کی عبرت حاصل نہیں کرتا یا پھر ہر انسان اس سوچ کا حامل ہے کہ جو وہ کر رہا ہے وہ صحیح ہے اسے ویسا ہی کرنا تھا جیسا وہ کر رہا ہے لیکن وقت سوچ میں تبدیلی لے آتا ہے پھر پچھتاوالادے لادے زندگی گزر جاتی ہے۔ ہمارے پیارے بنی ﷺ کے چچا کہا کرتے تھے کہ ہمارا بھتیجا جو کہہ رہا ہے وہ بلکل صحیح ہے لیکن ہم اپنے آباؤ اجداد کو کیسے ترک کردیں۔ آج احساس کو بھی شرمندگی کا سامنا ہوگاکیونکہ وہ اپنی شدت کھوچکا ہے اور کسی اندھیری کال کوٹھری میں سسکیاں لے رہا ہوگا۔ ہم مادہ پرست لوگ ہیں جہاں احساسات کا تعلق کیمرے کی آنکھ کو دیکھانے کیلئے تو امڈ آتے ہیں لیکن حقیقی دکھ اور تکلیف سے باز رہنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ دنیا اتنی رنگ برنگی ہوگئی ہے کہ پلک جھپکتے میں منظر بدل جاتا ہے اور وہ سب سامنے آموجود ہوتا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں، منظر بدل لیتے ہیں۔

اب کسی کے لئے بھی ساری دنیا میں یہ کہنا ناممکن ہے کہ دنیا ایک خوبصورت جگہ ہے اور یہاں رہنے کیلئے کسی خوبصورت کونے کا انتخاب کر کے وہاں رہ لیا جائے، انسان نے اپنی تباہی کیلئے ایسا ایسا سامنا تیار کر رکھا ہے کہ جب اسے استعمال کیا گیا تو وہ وہاں بھی پہنچ جائے گا جہاں اس کی ضرورت نہیں ہوگی، یعنی جب تباہی کا عمل شروع ہوگا تو کوئی بھی اس تباہی سے کیسے محفوظ رہ سکے گا۔ دنیا نے ایک نا ایک دن ختم ہونا ہے اور مسلمانوں کے عقیدے کیمطابق اب قیامت کے قریب کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں، اب یقینا قیامت آئی کھڑی ہے۔ فلسطین میں ہونے والا ظلم کسی ایسی ہی منزل کی جانب حتمی پیش قدمی کہا جاسکتا ہے۔ کوئی بولنے سے ڈر رہا ہے اور کوئی ایسے ڈھڑلے سے بول رہا ہے کہ اسے گولی سے مارا جا رہا ہے، ظالم اپنے قبیلے کے پر امن لوگوں کو مارنے سے بھی نہیں چوک رہا۔ پچھلے زمانوں میں یہ کام مخصوص لوگوں کے ذمے ہوا کرتا تھا لیکن آج تو سب، سب کچھ کرنے کیلئے پرتول رہے ہیں۔

پاکستان تو وہ ملک ہے جہاں بجلی کی تخفیف قوت (لوڈشیڈنگ)اس قدر ہوتی ہے کہ ملک کا اکثر حصہ تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ بہت سارے ایسے امور ہیں جو ہمیں تاریکی میں قید رہنے کے مترادف دیکھائی دیتے ہیں، جیسے لوٹ مار، چھینا جھپٹی،ویسے تو یہ الفاظ کی وجہ سے بہت ہی کوئی چھوٹی سی بات لگ رہی ہے لیکن کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں روزانہ کی بنیاد پر رات دن کی فکر سے آزاد سیکڑوں لوگ لٹ رہے ہیں اور کتنے ہی گھروں میں صف ماتم بچھ رہا ہے۔ جو اس بات کی واشگاف گواہی ہے کہ ہم تاریکی کے کس دور میں زندہ ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب بددعاؤں اور دل سے نکلنے والی آہوں سے خوف کھایا جاتا تھا اور کوشش کی جاتی تھی کے ایسا کوئی عمل سرزد نا ہو کہ جس کی وجہ سے کسی کا دل دکھے اور اس دکھے دل سے کوئی بد دعا نکلے، آج مادہ پرست معاشرہ اس فکر سے آزاد ہوچکا ہے اور صرف یہ جانتا ہے کہ میری زندگی کائنات میں سب سے اہم ہے جو کہ انسان کا سب سے بڑا وہم ہے۔ اپنے لئے رات کو بھی دن کی طرف دیکھنے کی خواہش رکھنے والے دوسروں کی زندگیوں میں اندھیرا کیسے کر سکتے ہیں۔ اس سوال کا بھرپور جواب آج ہم اپنے فلسطینیوں کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں۔ہم نے دنیا کے کچھ ممالک پر امریکا کا عملی تسلط دیکھا جن میں افغانستان، عراق، یمن،لیبیاقابل ذکر ہیں جہاں امریکا نے ناصرف اپنی فوجیں بھیجیں بلکہ جنگی جہازوں اور کیمیائی ہتھیاروں تک کا بے دریغ استعمال کیا، یہ سب کچھ ابلاغ نے دیکھایا بلکہ ان میں سے بعض جگہ تو براہ راست دیکھایا۔ اسی طرح دنیا کے بہت سارے مملک ایسے ہیں جہاں بظاہر تو جمہوری نظام حکومت ہے لیکن اصل اقتدار کسی اور کے پاس ہے اور وہاں کی عوام کی قسمتوں کا فیصلہ انکے ووٹ نہیں بلکہ آمریکاکی سرکار کرتی ہے۔ یہ کوئی اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہماری زندگیاں اسی طرح سے محفوظ ہیں لیکن امریکا کی بالادستی کا یہ عالم ہے کہ فلسطین میں جاری تاریخ کی بد ترین دہشتگردی کرنے والے اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی قرارداد کو اپنے بھرپور اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اسے ویٹو کر کے خارج کردیا۔ فلسطین ایک طرف تو گولا باری، گولیوں اور ہوائی حملوں سے گونج رہا ہے لیکن دراصل فلسطین میں گونجنے والی آوازیں آہوں اور کراہوں کی ہیں جو اپنے بچھڑجانے والوں اور زندہ بچ جانے والوں کے زخموں کے درد کی وجہ سے ماحول میں معلق ہوکر رہ گئی ہیں۔ اسرائیل باقاعدہ نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے جس کا اظہار یہودی فوجی سماجی ابلاغ پر بڑی بغیرتی اور دیدہ دلیری سے کر رہے ہیں۔روز ہماری نظروں سے معصوم لاشیں اور زخموں سے چور بچے سماجی ابلاغ پر گزر رہے ہیں۔ لاتعداد سرحدیں ہمارے درمیان کھڑی ہیں کہ ہم کسی بھی طرح سے انکے کام نہیں آسکتے، ہم بے حسی کے اس مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں کہ ایک لمحے میں منظر بدل دیتے ہیں اور کسی مضحکہ خیز چیز کو دیکھ کر ہنسنا شروع کردیتے ہیں۔

فلسطینی بے خوف و خطر،بے دریغ اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ایک مایوسی پھیلانے والے نے ایک خستہ حال فلسطینی نوجوان سے سوال کیا کہ اللہ آپ کی مدد کیوں نہیں کررہا تو اس نوجوان نے قران کی آیت پڑھ کر سنائی اور کہاکہ اللہ رب العزت ہمیں اس مشکل کے بدلے میں جنت عطاء کرینگے۔ ایمان کا ایسی پختگی اس رنگ برنگی دنیا میں ان فلسطینیوں کو ہی نصیب ہوئی ہے وہ بارود کی چھاؤں میں بھی نمازیں باجماعت کھلے آسمان کے نیچے پڑھ رہے ہیں گویا اللہ اور انکے درمیان کسی چھت کا پردہ بھی نہیں ہے۔ آج خوف بھی ان کے عزم اور حوصلے کے سامنے خوفزدہ دیکھائی دیتا ہے۔ایک بچہ جس کی عمر سال یا ڈیڑھ سال سے زیادہ نہیں ہوگی اس کے چہرے پر دوسو(200)ٹانکے لگے ہوئے ہیں اور اس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہواہے اور وہ زندگی کی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے ایک پانچ سال کی بچی کے سر میں گولی مالی جب وہ اپنی ماں کی گود میں تھی۔ لفظ ظلم معدوم پڑ گیایہ سب دیکھ کر اور معلوم نہیں ہمارے دل اور جذبے کیسے ہیں کہ یہ سب دیکھ کر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایران نے اسرائیل کے شہروں پر بمباری کی تو یہ سمجھا گیا کہ شائد وقت آن پہنچا ہے جب امت کھڑی ہوجائے گی اور اسرائیل کو اسکے کئے کی سزا دے گی لیکن یہ سارا معاملہ اس وقت ٹھنڈا ہوگیا جب ایران نے موقف دیا کہ انہوں نے دمشق میں انکے سفارتخانے کو نشانہ بنانے کا بدلا لیا ہے اور اس معاملے کو یہیں تک رکھا جائے لیکن گزشتہ شب ایران پر اسرائیل نے کچھ میزائل داغے ہیں۔دیکھیں یہ معاملہ اب کیا رخ اختیار کرتا ہے۔دبئی میں تاریخی بارشیں ہوئیں ہیں اور سارا شہر کسی دریا کا منظر پیش کر رہا ہے، کیا یہ باران رحمت ہے یا پھر اللہ کے غضب کی ایک جھلک۔

جدید دنیا کی تاریخ میں اسرائیل جیسی کارگردگی کسی نے نہیں دیکھائی ہے کیونکہ آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل کس بے رحمی، بے حسی اور بے دردی سے انسانیت سوز مظالم معصوم اور نہتے لوگوں پر ڈھا رہا ہے، لیکن مجال ہے کہ کسی نے ڈھال بننے کی کوشش کی ہو ہاں دنیا کے بیشتر ممالک میں اسرائیل کے خلاف باقاعدہ عوامی اور سرکاری سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے لیکن جو اسرائیل کے ظلم کا شکار ہیں ان کے مذہب سے تعلق رکھنے والے تقریباً 57 ممالک عید الفطر منانے اور اپنے اپنے ملکوں کی سیاسی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے میں اتنہائی مصروف ہیں۔ ان کا یہ عمل واضح کر رہا ہے کہ انکے لئے انکی ذاتی زندگی اہم ہے اور انکی یہ لاپرواہی بہت جلد انہیں اسرائیل کی لگائی ہوئی آگ میں گھسیٹ کر لے جائے گی اس وقت یقینا بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ کہیں ایسا نا ہو کہ توبہ کا دروازہ بند ہونے کا وقت بھی سر پر پہنچ چکا ہو۔روشنی اتنی بڑھ چکی ہے کہ کچھ دیکھائی نہیں دے رہا شائد تاریکی کی ایک شکل یہ بھی ہو۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • الف لیلہ کی ایک رات
  • عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں
  • میری ڈائری کا بوجھ
  • جب دُکھ یاد آئے , شعر کہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر مجاہد بخاری
پچھلی پوسٹ
بددعائوں سے ڈرتا ہوں

متعلقہ پوسٹس

سنہری چوٹی

مارچ 25, 2026

دیےنے تھامی ہوئی تھی قلم دوات کی نبض

نومبر 19, 2021

میری منگیتر

مارچ 7, 2022

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

لہو لہو سا منظر دکھائی ریتا ہے

اگست 23, 2020

خیالی زخم نہ مرہم سے

مارچ 8, 2025

درد ہوتا ہے تو ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہے

دسمبر 5, 2021

اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا

اکتوبر 11, 2025

مرحوم کی یاد میں

دسمبر 12, 2019

پانی میں ستی

مارچ 15, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آنے والے دور کی پیشن گوئیاں

فروری 17, 2026

مولانا وحید الدین خان اور اُردو...

ستمبر 20, 2025

موسمِ ہجر کے آزار بڑھائے گریہ

مئی 8, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں