100
میں حقیقت سے نہیں خوابوں سے ڈرتا ہوں
میں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے ڈرتا ہوں
نفرت کے قابل سمجھتی ہے یہ دنیا جن کو
میں تو پیار بھی اکثر ان لوگوں سے کرتا ہوں
آج کے رشتے ناتوں سے بڑا خوف آتا ہے مجھے
درمیاں میں رہ کر بھی میں اپنوں سے ڈرتا ہوں
نفرتیں گھر چکی ہیں ہمارے دلوں میں اتنی
محبت کرنے والے اب سارے لوگوں سے ڈرتا ہوں
دشمنوں کی دشمنی سے ڈر نہیں ہے مجھ کو
آستینوں میں چھپے ہوئے سانپوں سے ڈرتا ہوں
اپنی ذات سے نہ ہو تکلیف کبھی کسی کو یوسف
بس دعائوں کا طلبگار ہوں بددعائوں سے ڈرتا ہوں
محمد یوسف برکاتی
