567
جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں
ایسے کچھ لوگ مری راہ گزر کاٹتے ہیں
ایک تصویر بناتے ہیں زمیں پر پہلے
اور پھر بعد میں تصویر کا سر کاٹتے ہیں
پیار کا دیتے ہیں ہم اور محبت سے جواب
زہر کا زہر سے ہم لوگ – اثر کاٹتے ہیں
زرد راتوں میں کبھی غور کیا ہے تم نے
چاند کے نوحے شبِ غم کا جگر کاٹتے ہیں
ڈھل گئی عمر تو بچوں نے کہا ہے بابا !
لوگ ایندھن کےلیے سوکھے شجر کاٹتے ہیں
ہم کو پردیس میں یاد ان کی ستاتی ہے بہت
اور جب لوٹ کے آتے ہیں تو گھر کاٹتے ہیں
ہم جو چپ سادھ کے بیٹھے ہیں تری محفل میں
لفظ کی دھار سے قاتل کی نظر کاٹتے ہیں
دشتِ افلاس کی ان بانجھ زمینوں کی قسم
ہم شجر بوتے ہیں تو لوگ – ثمر کاٹتے ہیں
تم عدید اپنے دکھوں کے نہ سناو قصے
درد کی فصل تو ہم شام و سحر کاٹتے ہیں
سید عدید
