خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں

حیات عبد اللہ کا اردو کالم

از حیات عبد اللہ فروری 4, 2020
از حیات عبد اللہ فروری 4, 2020 0 تبصرے 436 مناظر
437

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
حیات عبداللہ

میں مانتا ہوں کہ محبتیں بعض اوقات بڑا کڑا امتحان لیتی ہیں مگر محبتوں میں اتنی سخت کوشی اور سخت جانی تو تاریخ کے اوراق پر بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔جذبات واحساسات میں اس قدر صداقت اور استقامت کی طغیانی کہ ایک لاکھ کے قریب جانی‍ں قربان کر کے بھی چاہتوں کے بہتے اس دھارے میں کمی آئی نہ کجی۔کاش! ہماری سیاست، کشمیریوں کی محبت کی عظمت اور رفعت کو سمجھ سکتی کہ وہ ہمارے ساتھ وصال کے خواب اپنی پلکوں پر سجائے بیٹھے ہیں۔
اک تمھارے خیال میں ہم نے
جانے کتنے خیال چھوڑے ہیں
72 سال بیت چلے، کشمیریوں پر کالے قوانین نافذ کر کے ظلم وستم کا ایک خونیں سلسلہ جاری ہے۔ان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔گذشتہ 30 سالوں سے تو ظلم وجبر کے اس بھیانک سلسلے نے انتہاؤں کو چھو لیا ہے۔ کشمیری لوگوں کے دلوں میں ٹھاٹھیں مارتے ان جذبوں کی حدّت کو دیکھ کر شاید پتھریلی آنکھوں میں بھی آنسو اتر آئیں۔وہ بیس بیس سالوں سے جیلوں میں بند اذیتوں کے طوفان سے گزر رہے ہیں مگر آج تک کوئی سفاک ظلم اور کوئی ناپاک حربہ اُن کے سینوں میں موجزن اس محبت کی استقامت کو کم نہ کر سکا۔
پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم
اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے
آفرین ہے کشمیری ماؤں اور بہنوں پر جو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو پال پوس کر کشیمر پر قربان کر دیتی ہیں اور پھر اپنے بیٹوں کی شہادتوں پر سجدے میں گر کر اللہ کا شُکر بھی ادا کرتی ہیں۔اہلِ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبتوں جیسی سحر انگیزی تو کسی لوک کہانی یا کسی مبالغہ آمیز فرضی داستان میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔بے ضمیری کی حدود کو چُھوتی بے حسی تو ہماری سیاسی بساط پر چھائی ہے، جہاں بے رخی اور بے اعتنائی، بے وفائی کی حد تک جا پہنچی ہے۔کشمیر کے بچّے ہوں یا جوان، وہاں کے بزرگ ہوں یا خواتین، سب کی زبانوں پر بھارت کے خلاف نعرے ہیں۔وہ اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھام کر” پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے ہیں۔اس جدید گلوبل ویلج کے باسیوں کو بھارتی الیکشن ڈرامے تو دکھائی دے جاتے ہیں مگر لاکھوں انسانوں کے ہجوم کے دل اور زبان سے نکلتی ہوئی صدائیں سنائی نہیں دیتں۔قائدینِ آزادی کو پاکستان کے حق میں نعرے لگانے پر پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قائدین اکیلے ہی نعرہ زن ہوتے ہیں؟ نہیں.. ایسا تو نہیں ہے۔لاکھوں کا ہجوم ہوتا ہے جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے۔کیا ایسے ہجوم بھارتی الیکشن ڈراموں کا پول نہیں کھول دیتے؟ کیا جمہوریت پسندوں کو لاکھوں انسانوں کی صدائیں سنائی نہیں دیتیں؟ کیا ہزاروں انسانوں کے ہجوم بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے سے زیادہ مؤثر نہیں ہیں؟ مگر یہ تمام المناک صدائیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سماعتوں سے نہیں ٹکراتیں۔بھارتی فوج اسلحے کے زور پر بھی لوگوں کا ایسا جمِ غفیر جمع نہیں کر سکتی۔تاحدِ نظر پھیلے کشمیری لوگوں کے ہجوم ببانگِ دہل” پاکستان سے رشتہ کیا.. لا الہ الا للہ “کے نعرے لگاتے ہیں۔یہ حقیت ہے کہ کشمیری لوگوں کے دلوں کی خواہشوں کو آنسو گیس نہیں روک سکتی۔اُن کے دلوں میں پاکستان کے لیے ٹھاٹھیں مارتی محبتوں کو بندوقوں کی گولیوں سے کم نہیں کیا جا سکتا۔کوئی جبرواستبداد اُن کے دلوں سے اہلِ پاکستان کے لیے عزت وتکریم کے بے کراں جذبوں کو کمزور نہیں کر سکتا۔جب کشمیری لوگ اپنے شہدا کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، بھارتی سیاست دانوں کی چھاتی میں چُھرے پیوست ہو جاتے ہیں۔
بھارتی مظالم پر آج انسانیت چیخ اٹھی ہے۔ایک لاکھ کے قریب لوگوں سے زندگی چھین لینا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔جمہوریت کے دعوے داروں اور انسانی حقوق کے پاسبانوں نے آٹھ لاکھ سے زائد فوج محض اس لیے تعیینات کر رکھی ہے کہ کشمیریوں کے دل سے آزادی کی روشن شمع کو بجھا سکیں۔اہلِ کشمیر کے دل ودماغ سے پاکستان کی محبت کو ختم کرنے کر ڈالیں، مگر دل تو کیا وہ آج تک کشمیری لوگوں کی زبانوں سے” پاکستان زندہ باد“ کی صداؤں کے سامنے بھی بند نہیں باندھ سکے۔وہ کشمیری ماؤں بہنوں کے ہاتھوں سے پاکستانی پرچم سَر نِگوں نہ کروا سکے۔ظلم سے لدے 72 سال گزر چکے مگر جذبہ ء حریت آج تک ماند نہ پڑا تو اب کون سا ظلم باقی رہ گیا ہے جس کے کارن ان جذبوں کو شکست دے دی جائے گی۔احمق بھارتی فوجیوں کو تو پتا ہی نہیں کہ قربانیوں سے آزادی کی شمعیں مزید روشن ہوتی چلی جایا کرتی ہیں۔جبروجور سے تو جذبہ ءآزادی کو مزید تقویت اور جِلا ملا کرتی ہے۔بھارتی فوج کو کشمیر میں قتل وغارت گری کی کُھلی چُھٹی ہے۔ دس ہزار سے زائد نوجوانوں کا پتا ہی نہیں کہ بھارتی فوج نے اُنھیں کہاں غائب کر دیا؟
آج مقبوضہ وادی میں 6 ہزار سے زائد گمنام قبریں موجود ہیں۔معلوم نہیں ان قبروں میں آزادی کے کون کون سے متوالے سپوت دفن ہیں؟ ان بے نام قبروں میں دفن لوگ پاکستان کی محبت کے چراغ اپنے دلوں میں روشن کیے شہادت کے اعلی رتبوں پر فائز ہو گئے؟
نکہتِ بادِ بہاری کب کی رخصت ہو گئی
آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
ساری دنیا ہے مخالف ہم اکیلے پڑ گئے
یا الہی اپنی نصرت بھیج تُو کشمیر میں
بھارتی حکومت متعدد بار کُھل کر اعلان کر چکی ہے کہ اگر بھارت میں ممبئی طرز کا حملہ ہوا تو جواب میں دہشت گردوں کو استعمال کریں گے تا کہ بھارتی فوج کو یہ کام نہ کرنا پڑے۔گویا بھارتی حکومت کے دہشت گردوں سے قریبی مراسم ہیں۔دہشت گردوں سے رابطے دہشت گردوں ہی کے ہوا کرتے ہیں۔بھارت کی موجودہ حکومت ظلم وجبر کی ہر حد سے گزر چکی ہے۔ بھارت یاد رکھے کہ اسے ان گمنام قبروں میں دفن ایک ایک ظلم کا حساب دینا ہو گا۔بھارتی فوج سن لے کہ اہلِ کشمیر کے پور پور اور انگ انگ پر لگائے گئے ہر ایک گھاؤ کا حساب بہی کھاتے میں جمع ہوتا چلا جا رہا ہے۔بھارتی نیتاؤں اور سیناؤں سے درد کی ایک ایک لہر اور ٹِیس کا بدلا لیا جائے گا۔بھارتی حکومت نے جتنے کرب ان لوگوں کی رگ وپے میں گھونپے ہیں، ان سب کا حساب برابر ضرور ہو گا ان شاءاللہ۔
بھارت کے دل میں پاکستان دشمنی اور عداوت کے جوار بھاٹے آج ابلنا نہیں شروع ہوئے بلکہ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہ دشمنی موجود ہے۔1965 کی جنگ میں شکست کے بعد بھارتی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ”پاکستان اور بھارت کے درمیان اسی دن مخاصمت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، جس دن پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آئیڈیالوجی کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف اور دشمنی ہفتے بھر کی نہیں بلکہ سالہاسال تک رہے گی، اس لیے بھارت کو ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے“بھارت اس جنگ کے لیے تیار ہو یا نہ ہو البتہ ہماری ماؤں نے ایسے سپوت ضرور پیدا کر کے پاک فوج میں بھیج دیے ہیں جو بھارت کو کسی بھی قسم کا سبق سکھانے کی بھر پور جراَت رکھتے ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاگل پن ہم جیسے پاگل کرتے ہیں
  • ذائقے کی لطیف حقیقت
  • خانہ جنگی کی دھمکیاں
  • موسموں کو ہرا کرو صاحب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
مہرو
پچھلی پوسٹ
سکیسر کی بتیاں

متعلقہ پوسٹس

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے

مئی 23, 2020

میرے وطن کی جان تھے عبدالقدیر خان

دسمبر 12, 2021

روح اور بدن

نومبر 3, 2025

کمہارن

دسمبر 31, 2021

مدینے سے جانے کو گاڑی کھڑی ہے

مارچ 25, 2025

بائی کے ماتم دار

جون 15, 2020

خوابِ ابری

دسمبر 1, 2024

مچھر

دسمبر 15, 2019

ہوش والوں کو کہاں علم

نومبر 14, 2021

اللہ رب العزت کی زیارت

مئی 14, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

توبۃ النصوح – فصل چہارم

اکتوبر 30, 2020

اپریل فول اور اس کی حقیقت

اپریل 1, 2020

طوائف اور جگر مرادآبادی

اپریل 24, 2017
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں