خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں

حیات عبد اللہ کا اردو کالم

از حیات عبد اللہ فروری 4, 2020
از حیات عبد اللہ فروری 4, 2020 0 تبصرے 398 مناظر
399

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
حیات عبداللہ

میں مانتا ہوں کہ محبتیں بعض اوقات بڑا کڑا امتحان لیتی ہیں مگر محبتوں میں اتنی سخت کوشی اور سخت جانی تو تاریخ کے اوراق پر بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔جذبات واحساسات میں اس قدر صداقت اور استقامت کی طغیانی کہ ایک لاکھ کے قریب جانی‍ں قربان کر کے بھی چاہتوں کے بہتے اس دھارے میں کمی آئی نہ کجی۔کاش! ہماری سیاست، کشمیریوں کی محبت کی عظمت اور رفعت کو سمجھ سکتی کہ وہ ہمارے ساتھ وصال کے خواب اپنی پلکوں پر سجائے بیٹھے ہیں۔
اک تمھارے خیال میں ہم نے
جانے کتنے خیال چھوڑے ہیں
72 سال بیت چلے، کشمیریوں پر کالے قوانین نافذ کر کے ظلم وستم کا ایک خونیں سلسلہ جاری ہے۔ان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔گذشتہ 30 سالوں سے تو ظلم وجبر کے اس بھیانک سلسلے نے انتہاؤں کو چھو لیا ہے۔ کشمیری لوگوں کے دلوں میں ٹھاٹھیں مارتے ان جذبوں کی حدّت کو دیکھ کر شاید پتھریلی آنکھوں میں بھی آنسو اتر آئیں۔وہ بیس بیس سالوں سے جیلوں میں بند اذیتوں کے طوفان سے گزر رہے ہیں مگر آج تک کوئی سفاک ظلم اور کوئی ناپاک حربہ اُن کے سینوں میں موجزن اس محبت کی استقامت کو کم نہ کر سکا۔
پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم
اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے
آفرین ہے کشمیری ماؤں اور بہنوں پر جو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو پال پوس کر کشیمر پر قربان کر دیتی ہیں اور پھر اپنے بیٹوں کی شہادتوں پر سجدے میں گر کر اللہ کا شُکر بھی ادا کرتی ہیں۔اہلِ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبتوں جیسی سحر انگیزی تو کسی لوک کہانی یا کسی مبالغہ آمیز فرضی داستان میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔بے ضمیری کی حدود کو چُھوتی بے حسی تو ہماری سیاسی بساط پر چھائی ہے، جہاں بے رخی اور بے اعتنائی، بے وفائی کی حد تک جا پہنچی ہے۔کشمیر کے بچّے ہوں یا جوان، وہاں کے بزرگ ہوں یا خواتین، سب کی زبانوں پر بھارت کے خلاف نعرے ہیں۔وہ اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھام کر” پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے ہیں۔اس جدید گلوبل ویلج کے باسیوں کو بھارتی الیکشن ڈرامے تو دکھائی دے جاتے ہیں مگر لاکھوں انسانوں کے ہجوم کے دل اور زبان سے نکلتی ہوئی صدائیں سنائی نہیں دیتں۔قائدینِ آزادی کو پاکستان کے حق میں نعرے لگانے پر پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قائدین اکیلے ہی نعرہ زن ہوتے ہیں؟ نہیں.. ایسا تو نہیں ہے۔لاکھوں کا ہجوم ہوتا ہے جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے۔کیا ایسے ہجوم بھارتی الیکشن ڈراموں کا پول نہیں کھول دیتے؟ کیا جمہوریت پسندوں کو لاکھوں انسانوں کی صدائیں سنائی نہیں دیتیں؟ کیا ہزاروں انسانوں کے ہجوم بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے سے زیادہ مؤثر نہیں ہیں؟ مگر یہ تمام المناک صدائیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سماعتوں سے نہیں ٹکراتیں۔بھارتی فوج اسلحے کے زور پر بھی لوگوں کا ایسا جمِ غفیر جمع نہیں کر سکتی۔تاحدِ نظر پھیلے کشمیری لوگوں کے ہجوم ببانگِ دہل” پاکستان سے رشتہ کیا.. لا الہ الا للہ “کے نعرے لگاتے ہیں۔یہ حقیت ہے کہ کشمیری لوگوں کے دلوں کی خواہشوں کو آنسو گیس نہیں روک سکتی۔اُن کے دلوں میں پاکستان کے لیے ٹھاٹھیں مارتی محبتوں کو بندوقوں کی گولیوں سے کم نہیں کیا جا سکتا۔کوئی جبرواستبداد اُن کے دلوں سے اہلِ پاکستان کے لیے عزت وتکریم کے بے کراں جذبوں کو کمزور نہیں کر سکتا۔جب کشمیری لوگ اپنے شہدا کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، بھارتی سیاست دانوں کی چھاتی میں چُھرے پیوست ہو جاتے ہیں۔
بھارتی مظالم پر آج انسانیت چیخ اٹھی ہے۔ایک لاکھ کے قریب لوگوں سے زندگی چھین لینا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔جمہوریت کے دعوے داروں اور انسانی حقوق کے پاسبانوں نے آٹھ لاکھ سے زائد فوج محض اس لیے تعیینات کر رکھی ہے کہ کشمیریوں کے دل سے آزادی کی روشن شمع کو بجھا سکیں۔اہلِ کشمیر کے دل ودماغ سے پاکستان کی محبت کو ختم کرنے کر ڈالیں، مگر دل تو کیا وہ آج تک کشمیری لوگوں کی زبانوں سے” پاکستان زندہ باد“ کی صداؤں کے سامنے بھی بند نہیں باندھ سکے۔وہ کشمیری ماؤں بہنوں کے ہاتھوں سے پاکستانی پرچم سَر نِگوں نہ کروا سکے۔ظلم سے لدے 72 سال گزر چکے مگر جذبہ ء حریت آج تک ماند نہ پڑا تو اب کون سا ظلم باقی رہ گیا ہے جس کے کارن ان جذبوں کو شکست دے دی جائے گی۔احمق بھارتی فوجیوں کو تو پتا ہی نہیں کہ قربانیوں سے آزادی کی شمعیں مزید روشن ہوتی چلی جایا کرتی ہیں۔جبروجور سے تو جذبہ ءآزادی کو مزید تقویت اور جِلا ملا کرتی ہے۔بھارتی فوج کو کشمیر میں قتل وغارت گری کی کُھلی چُھٹی ہے۔ دس ہزار سے زائد نوجوانوں کا پتا ہی نہیں کہ بھارتی فوج نے اُنھیں کہاں غائب کر دیا؟
آج مقبوضہ وادی میں 6 ہزار سے زائد گمنام قبریں موجود ہیں۔معلوم نہیں ان قبروں میں آزادی کے کون کون سے متوالے سپوت دفن ہیں؟ ان بے نام قبروں میں دفن لوگ پاکستان کی محبت کے چراغ اپنے دلوں میں روشن کیے شہادت کے اعلی رتبوں پر فائز ہو گئے؟
نکہتِ بادِ بہاری کب کی رخصت ہو گئی
آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
ساری دنیا ہے مخالف ہم اکیلے پڑ گئے
یا الہی اپنی نصرت بھیج تُو کشمیر میں
بھارتی حکومت متعدد بار کُھل کر اعلان کر چکی ہے کہ اگر بھارت میں ممبئی طرز کا حملہ ہوا تو جواب میں دہشت گردوں کو استعمال کریں گے تا کہ بھارتی فوج کو یہ کام نہ کرنا پڑے۔گویا بھارتی حکومت کے دہشت گردوں سے قریبی مراسم ہیں۔دہشت گردوں سے رابطے دہشت گردوں ہی کے ہوا کرتے ہیں۔بھارت کی موجودہ حکومت ظلم وجبر کی ہر حد سے گزر چکی ہے۔ بھارت یاد رکھے کہ اسے ان گمنام قبروں میں دفن ایک ایک ظلم کا حساب دینا ہو گا۔بھارتی فوج سن لے کہ اہلِ کشمیر کے پور پور اور انگ انگ پر لگائے گئے ہر ایک گھاؤ کا حساب بہی کھاتے میں جمع ہوتا چلا جا رہا ہے۔بھارتی نیتاؤں اور سیناؤں سے درد کی ایک ایک لہر اور ٹِیس کا بدلا لیا جائے گا۔بھارتی حکومت نے جتنے کرب ان لوگوں کی رگ وپے میں گھونپے ہیں، ان سب کا حساب برابر ضرور ہو گا ان شاءاللہ۔
بھارت کے دل میں پاکستان دشمنی اور عداوت کے جوار بھاٹے آج ابلنا نہیں شروع ہوئے بلکہ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہ دشمنی موجود ہے۔1965 کی جنگ میں شکست کے بعد بھارتی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ”پاکستان اور بھارت کے درمیان اسی دن مخاصمت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، جس دن پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آئیڈیالوجی کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف اور دشمنی ہفتے بھر کی نہیں بلکہ سالہاسال تک رہے گی، اس لیے بھارت کو ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے“بھارت اس جنگ کے لیے تیار ہو یا نہ ہو البتہ ہماری ماؤں نے ایسے سپوت ضرور پیدا کر کے پاک فوج میں بھیج دیے ہیں جو بھارت کو کسی بھی قسم کا سبق سکھانے کی بھر پور جراَت رکھتے ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بحرِ بے کنار تُو
  • مجرم ہوں تیرا پر میں
  • کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے
  • سرخئ چشم سے تصویرِ نمو کھینچتا ہوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
مہرو
پچھلی پوسٹ
سکیسر کی بتیاں

متعلقہ پوسٹس

جوار کی کاشت و دیکھ بھال

مئی 19, 2024

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

مذہب میں دلچسپی

جنوری 5, 2022

میلاد االنبیؐ کی خوشی

ستمبر 29, 2023

بس گزارش یہی ہے خوابوں سے

اپریل 23, 2022

انار کلی

اپریل 2, 2018

بہو بیٹیاں

دسمبر 12, 2019

شعبان کی پندرہویں

مارچ 20, 2020

یہی نہیں کہ فقط شاعری دھڑکنے لگی

مارچ 3, 2022

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

انجام بخیر

نومبر 14, 2019

میں نے بدل کے دیکھ لیا...

نومبر 8, 2025

میں سوچتی ہوں کہ

ستمبر 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں