خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےوہ لڑکی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

وہ لڑکی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020 0 تبصرے 308 مناظر
309

وہ لڑکی

سوا چار بج چکے تھے لیکن دھوپ میں وہی تمازت تھی جو دوپہر کو بارہ بجے کے قریب تھی۔ اس نے بالکنی میں آکر باہر دیکھا تو اسے ایک لڑکی نظر آئی جو بظاہر دھوپ سے بچنے کے لیے ایک سایہ دار درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔ اس کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ اتنا سانولا کہ وہ درخت کی چھاؤں کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ سریندر نے جب اس کو دیکھا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کی قربت چاہتا ہے، حالانکہ وہ اس موسم میں کسی کی قربت کی بھی خواہش نہ کرسکتا تھا۔ موسم بہت واہیات قسم کا تھا۔ سوا چار بج چکے تھے۔ سورج غروب ہونے کی تیاریاں کررہا تھا۔ لیکن موسم نہایت ذلیل تھا۔ پسینہ تھا کہ چومٹا جارہا تھا۔ خدا معلوم کہاں سے مساموں کے ذریعے اتنا پانی نکل رہا تھا۔ سریندر نے کئی مرتبہ غور کیا تھا کہ پانی اس نے زیادہ سے زیادہ چار گھنٹوں میں صرف ایک گلاس پیا ہو گا مگر پسینہ بلامبالغہ چار گلاس نکلا ہو گا۔ آخر یہ کہاں سے آیا! جب اس نے لڑکی کو درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے دیکھا تو اس نے سوچا کہ دنیا میں سب سے خوش یہی ہے جسے دھوپ کی پرواہ ہے نہ موسم کی۔ سریندر پسینے میں لت پت تھا۔ اس کی بنیان اس کے جسم کے ساتھ بہت بری طرح چمٹی ہوئی تھی۔ وہ کچھ اس طرح محسوس کررہا تھا جیسے اس کے بدن پر کسی نے موبل آئل مل دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جب اس نے درخت کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی لڑکی کو دیکھا تو اس کے جسم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس کے پسینے کے ساتھ گھل مل جائے، اس کے مساموں کے اندر داخل ہو جائے۔ آسمان خاکستری تھا۔ کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ بادل ہیں یا محض گردوغبار۔ بہر حال، اس گردوغبار یا بادلوں کے باوجود دھوپ کی جھلک موجود تھی اور وہ لڑکی بڑے اطمینان سے پیپل کی چھاؤں میں بیٹھی سستا رہی تھی۔ سریندر نے اب کی غور سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ گہرا سانولا مگر نقش بہت تیکھے کہ وہ سریندر کی آنکھوں میں کئی مرتبہ چبھے۔ مزدور پیشہ لڑکی معلوم ہوتی تھی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ بھکارن ہو۔ لیکن سریندر اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرسکا تھا۔ اصل میں وہ یہ فیصلہ کررہا تھاکہ آیا اس لڑکی کو اشارہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ گھر میں وہ بالکل اکیلا تھا۔ اس کی بہن مری میں تھی۔ ماں بھی اس کے ساتھ تھی۔ باپ مر چکا تھا۔ ایک بھائی، اس سے چھوٹا، وہ بورڈنگ میں رہتا تھا۔ سریندر کی عمر ستائس اٹھائیس سال کے قریب تھی۔ اس سے قبل وہ اپنی دو ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں سے دو تین مرتبہ سلسلہ لڑا چکا تھا۔ معلوم نہیں کیوں، لیکن موسم کی خرابی کے باوجود سریندر کے دل میں یہ خواہش ہورہی تھی کہ وہ پیپل کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے پاس جائے یا اسے اوپر ہی سے اشارہ کرے تاکہ وہ اس کے پاس آجائے، اور وہ دونوں ایک دوسرے کے پسینے میں غوطہ لگائیں اور کسی نامعلوم جزیرے میں پہنچ جائیں۔ سریندر نے بالکنی کے کٹہرے کے پاس کھڑے ہو کر زور سے کھنکارا مگر لڑکی متوجہ نہ ہوئی۔ سریندر نے جب کئی مرتبہ ایسا کیا اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو اس نے آواز دی۔

’’ارے بھئی۔ ذرا ادھر دیکھو‘‘

مگر لڑکی نے پھر بھی اس کی طرف نہ دیکھا۔ وہ اپنی پنڈلی کھجلاتی رہی۔ سریندر کو بہت الجھن ہوئی۔ اگر لڑکی کی بجائے کوئی کتا ہوتا تو وہ یقیناً اس کی آواز سن کر اس کی طرف دیکھتا۔ اگر اسے اس کی یہ آواز ناپسند ہوتی تو بھونکتا مگر اس لڑکی نے جیسے اس کی آواز سنی ہی نہیں تھی۔ اگر سنی تھی تو ان سنی کردی تھی۔ سریندر دل ہی دل میں بہت خفیف ہورہا تھا۔ اس نے ایک بار بلند آواز میں اس لڑکی کو پکارا۔

’’اے لڑکی‘‘

لڑکی نے پھر بھی اس کی طرف نہ دیکھا۔ جھنجھلا کر اس نے اپنا ململ کا کرتا پہنا اور نیچے اترا۔ جب اس لڑکی کے پاس پہنچا تو وہ اسی طرح اپنی ننگی پنڈلی کھجلا رہی تھی۔ سریندر اس کے پاس کھڑا ہو گیا۔ لڑکی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور شلوار نیچی کرکے اپنی پنڈلی ڈھانپ لی۔ سریندر نے اس سے پوچھا۔

’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘

لڑکی نے جواب دیا۔

’’بیٹھی ہوں۔ ‘‘

’’کیوں بیٹھی ہو؟‘‘

لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’لو، اب کھڑی ہو گئی ہوں!‘‘

سریندر بوکھلا گیا۔

’’اس سے کیا ہوتا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ تم اتنی دیر سے یہاں بیٹھی کیا کررہی تھیں؟‘‘

لڑکی کا چہرہ اور زیادہ سنولا ہو گیا۔

’’تم چاہتے کیا ہو؟‘‘

سریندر نے تھوڑی دیر اپنے دل کو ٹٹولا۔

’’میں کیا چاہتا ہوں۔ میں کچھ نہیں چاہتا۔ میں گھر میں اکیلا ہوں۔ اگر تم میرے ساتھ چلو تو بڑی مہربانی ہو گی۔ ‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر عجیب و غریب قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’مہربانی۔ کاہے کی مہربانی۔ چلو!‘‘

اور دونوں چل دیے۔ جب اوپر پہنچے تو لڑکی صوفے کی بجائے فرش پر بیٹھ گئی اور اپنی پنڈلی کھجلانے لگی۔ سریندر اس کے پاس کھڑا سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ خوبصورت نہیں تھی۔ لیکن اس میں وہ تمام قوسیں اور وہ تمام خطوط موجود تھے جو ایک جوان لڑکی میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے کپڑے میلے تھے، لیکن اس کے باوجود اس کا مضبوط جسم اس کے باہر جھانک رہا تھا۔ سریندر نے اس سے کہا۔

’’یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ ادھر صوفے پر بیٹھ جاؤ!‘‘

لڑکی نے جواب میں صرف اس قدر کہا۔

’’نہیں!‘‘

سریندر اس کے پاس فرش پر بیٹھ گیا۔

’’تمہاری مرضی۔ لو اب یہ بتاؤ کہ تم کون ہو اور درخت کے نیچے تم اتنی دیر سے کیوں بیٹھی تھیں؟‘‘

’’میں کون ہوں اور درخت کے نیچے میں کیوں بیٹھی تھی۔ اس سے تمہیں کوئی مطلب نہیں۔ ‘‘

لڑکی نہ یہ کہہ کر اپنی شلوار کا پائنچہ نیچے کرلیا اور پنڈلی کھجلانا بند کردی۔ سریندر اس وقت اس لڑکی کی جوانی کے متعلق سوچ رہا تھا۔ وہ اس کا اور ان دو ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں کا مقابلہ کررہا تھا جن سے اس کا دو تین مرتبہ سلسلہ ہو چکا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ وہ اس لڑکی کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی تھیں، جیسے برسوں کی استعمال کی ہوئی سائیکلیں۔ لیکن اس کا ہر پرزہ اپنی جگہ پر کسا ہوا تھا۔ سریندر نے ان ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں سے اپنی طرف سے کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ خود اس کو کھینچ کر اپنی کوٹھڑیوں میں لے جاتی تھیں۔ مگر سریندر اب محسوس کرتا تھا کہ یہ سلسلہ اس کو اب خود کرنا پڑے گا، حالانکہ اس کی تکنیک سے قطعات ناواقف تھا۔ بہر حال۔ اس نے اپنے ایک بازہ کو تیار کیا اور اسے لڑکی کی عمر میں حمائل کردیا۔ لڑکی نے ایک زور کا جھٹکا دیا۔

’’یہ کیا کررہے ہو تم؟‘‘

سریندر ایک بار پھر بوکھلاگیا۔

’’میں۔ میں۔ کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر عجیب قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’آرام سے بیٹھے رہو!‘‘

سریندر آرام سے بیٹھ گیا۔ مگر اس کے سینے میں ہلچل اور زیادہ بڑھ گئی۔ چنانچہ اس نے ہمت سے کام لے کر لڑکی کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ لڑکی نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، مگر سریندر کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ فرش پر چت گر پڑی۔ سریندر اس کے اوپر تھا۔ اس نے دھڑاد ھڑ اس کے گہرے سانولے ہونٹ چومنے شروع کردیے۔ لڑکی بے بس تھی۔ سریندر کا بوجھ اتنا تھا کہ وہ اسے اٹھا کر پھینک نہیں سکتی تھی۔ بوجہ مجبوری وہ اس کے گیلے بوسے برداشت کرتی رہی۔ سریندر نے سمجھا کہ وہ رام ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے مزید دراز دستی شروع کی۔ اس کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا۔ وہ خاموش رہی۔ اس نے ہاتھ پاؤں چلانے بند کردیے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے مدافعت کو اب فضول سمجھا ہے۔ سریندر کو اب یقین ہو گیا کہ میدان اسی کے ہاتھ رہے گا، چنانچہ اس نے دراز دستی چھوڑ دی اور اس سے کہا۔

’’چلو آؤ، پلنگ پر لیٹتے ہیں۔ ‘‘

لڑکی اٹھی اور اس کے ساتھ چل دی۔ دونوں پلنگ پر لیٹ گئی۔ ساتھ ہی تپائی پر ایک طشتری میں چند مالٹے اور ایک تیز چھری پڑی تھی۔ لڑکی نے ایک مالٹا ا ٹھایا اور سریندر سے پوچھا۔

’’میں کھالوں؟‘‘

’’ہاں ہاں۔ ایک نہیں سب کھالو‘‘

سریندر نے چھری اٹھائی اور مالٹا چھیلنے لگا، مگر لڑکی نے اس سے دونوں چیزیں لے لیں۔

’’میں خود چھیلوں گی‘‘

اس نے بڑی نفاست سے مالٹا چھیلا۔ اس کے چھلکے اتارے۔ پھانکوں پر سے سفید سفید جھلی ہٹائی۔ پھر پھانکیں علیحدہ کیں۔ ایک پھانک سریندر کو دی، دوسری اپنے منہ میں ڈالی اور مزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

’’تمہارے پاس پستول ہے؟‘‘

سریندر نے جواب دیا۔

’’ہاں۔ تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر پھر وہی عجیب و غریب مسکراہٹ نمودار ہوئی

’’میں نے ایسے ہی پوچھا تھا۔ تم جانتے ہو نا کہ آج کل ہندو مسلم فساد ہورہے ہیں۔ ‘‘

سریندر نے دوسرا مالٹا طشتری میں سے اٹھایا۔

’’آج سے ہورہے ہیں۔ بہت دنوں سے ہورہے ہیں۔ میں اپنے پستول سے چار مسلمان مار چکا ہوں۔ بڑے خونی قسم کے!‘‘

’’سچ؟‘‘

یہ کہہ کر لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’مجھے ذرا وہ پستول تو دکھانا‘‘

سریندر اٹھا۔ دوسرے کمرے میں جا کر اس نے اپنے میز کا دراز کھولا اور پستول لے کر باہر آیا۔

’’یہ لو۔ لیکن ٹھہرو‘‘

اور اس نے پستول کا سیفٹی کیچ ٹھیک کردیا کیوں کہ اس میں گولیاں بھری تھیں۔ لڑکی نے پستول پکڑا اور سریندر سے کہا۔

’’میں بھی آج ایک مسلمان ماروں گی‘‘

یہ کہہ کر اس نے سیفٹی کیچ کو ایک طرف کیا اور سریندر پر پستول داغ دیا۔ وہ فرش پر گر پڑا اور جان کنی کی حالت میں کراہنے لگا۔

’’یہ تم نے کیا کیا؟‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’وہ چار مسلمان جو تم نے مارے تھے، ان میں میرا باپ بھی تھا۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اسلام میں نوجوانوں کا کردار اور ذمہ داریاں
  • عالاں
  • وداع بپسی سدھوا
  • قدرتی ٹانک آم کے کرشمے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا
پچھلی پوسٹ
وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے

متعلقہ پوسٹس

ایک ماں کی ڈائری سے

جنوری 26, 2026

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025

جمغورہ الفریم

جون 9, 2020

پاکستانی نوجوان

اکتوبر 2, 2025

سوراخ

دسمبر 23, 2021

یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!

نومبر 18, 2021

موت، مشرف اور انصاف

دسمبر 20, 2019

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی

ستمبر 1, 2024

گھاس والی

دسمبر 9, 2019

تضادات کی درمیانی کیفیت

جون 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذرا اعتبار کر لے

نومبر 30, 2019

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

بہروپیا

جنوری 12, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں