خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!

از سائیٹ ایڈمن نومبر 18, 2021
از سائیٹ ایڈمن نومبر 18, 2021 0 تبصرے 64 مناظر
65

یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!

سارے وسائل‘ شان و شوکت‘سٹیٹس کو‘کے ہوتے بھی ہم بے چین ہیں‘ معاشرہ اضطرابی دلدل میں دھنس رہا ہے۔لاکھ کاوشوں کے باوجود نسل ِ نو بے نشان منزل کی مسافرہے۔ لیکن اِن مسائل کا حل ہم سے نہیں ہو رہا‘آخر وجہ کیا ہے؟آج ہماری اخلاقی زندگی زبوں حالی کا شکار ہے ہماری معاشرت سے انسانی خصائل ناپیدہو چکے ہیں کوئی ایسا عیب نہیں جو ہماری فطرت ثانیہ نہ بن چکا ہو۔ کوئی ایسی برائی نہیں جس میں ہم مبتلا نہ ہوں اور ایسی اخلاقی خرابی نہیں جو ہماری قومی بنیادوں کو کمزور نہ کر رہی ہو۔ ہم خود ان کمزوریوں میں مبتلا ہیں کون ایسا رہبر ہے‘ جو ہماری اِن تباہ کن عادات قبیحہ کے خوفناک نتائج سے ہمیں واقف کرے‘اور متوقع خوفناک انجام سے آگاہ کرے۔

دراصل اخلاقی اقدار وہ اصول ہیں جن کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے افعال صحیح ہیں اور کون سے اعمال غلط؟۔ جب کوئی شخص اس طرح کے اقدار کو اپنے روزمرہ کے طرز عمل میں لاگوکرتاہے تو وہ اخلاقی طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی مثالیں ذمہ داری‘ دیانتداری‘ وفاداری اور اخلاص ہیں۔اخلاقیات فلسفے کی ایک شاخ ہے جو افراد اور اخلاقیات کے طرز عمل کے مطالعہ کے لئے وقف ہے۔ اخلاقیات کی عکاسی کے ذریعے‘ہر شخص کو اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنا چاہئے کہ صحیح یا غلط کیا ہے؟معاشرتی طور پر کیا صحیح ہے اور کیا نہیں؟ جانے کہاں گئے وہ لوگ جو تعلقات سماجی رتبوں‘شان و شوکت‘سٹیٹس کو‘ ذاتی مفادات کو دیکھ کر استوار نہیں کرتے تھے بلکہ نظریات جن سے ملک‘ قوم‘ معاشرے کو بہترین بنانا‘اخلاقیات کو نبھانا سماجی اور مذہبی فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ معاشرہ کے افراد کا ایک دوسرے سے تعلق ہر خوشی‘ غمی پر مزید مضبوط ہوجاتا تھا اور اپنے معاشرے کے سفید پوش‘ مجبور‘بے سہار‘ نادار وں کے ساتھ کھڑے ہونا قابل ِ سعادت رسم چلی آرہی تھی‘ لیکن پھر ہمارے انداز بدلے‘زمانے کے انداز بدلے اور یہ معیار یہ بن گیا کہ ملک‘معاشرہ‘ انسانیت کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔ہم نے تعصب‘سٹیٹس کو اور بس پیسے کمانے کے چکر میں اپنی روایات کو چھوڑ دیا‘ جس کاخمیازہ ہماری نسلوں کو تباہی کی صورت میں مل رہا ہے۔عموماً تصور کیا جاتا ہے کہ تہذیب کی نمو اور آبیاری کا کام بس مخصوص لوگوں کی ذمہ داری ہے اور انہیں کو تہذیبی روایات نبھانا‘رکھ رکھاؤ اور پرانی سوچ کو نئی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔

ہماری بہت ہی شاندار و اعلیٰ اوصاف پر مشتمل تہذیب ہوتی تھی جس میں تفریق نہیں تھی اور نہ ہی کوئی کسی کمتری کا شکار ہوتا تھا۔ اول تو ایسی بات تو کوئی کرتا ہی نہیں تھا اور اگر کوئی ایسی حرکت کر بھی گزرتا تو اسے انتہائی نامعقول سمجھا جاتا تھا۔ معاشرے میں کسی غریب گھرانے کو تنگی کا احساس نہیں دلایا جاتا تھا بلکہ اللہ کریم کے حکم ”ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیا کرو“ صاحب ِ ثروت خود سے ان کی مجبوریوں کا خیال رکھتے تھے‘ راستے‘ پانی‘دوسروں کے لئے آسانیاں باٹنا سعادت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب احساس توکجا ہم بغیر دِل آزاری کیے‘ راستے‘ پانی‘ اذیت دینے اپنی وارثت سمجھتے۔وہ لوگ کسی کے کام آنا باعث ِ افتخار سمجھا کرتے تھے‘ہم کسی کو تنگ کر کے خود کو افلاطون سمجھ رہے ہیں۔ ان لوگوں کو تعلیم یافتہ ثابت کرنے کے لیے تعلیمی اسناد دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی بلکہ اخلاق‘ اندازِ گفتگو‘نشست و برخاست اور تہذیبی رکھ رکھاؤ ہی خاندانی ہونے کی عام نشانیاں تھیں۔ آج کی طرح برانڈڈ لباس‘جوتے اور پرس یعنی ظاہری اور اوپری لبادہ کسی کے خاندانی وقار میں اضافے کا سبب نہیں بنتا تھا بلکہ یہ نو دولتیا پن کہلاتا تھا۔

پھر محلوں اور گلیوں میں بھی رشتے‘ سگے رشتوں‘انسانی ہمدردی جیسے رشتے ہی محترم اور دیرپا ہوا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب محلوں‘ گلیوں اور گھروں کے چبوتروں پر بچے کھیلوں میں مگن رہا کرتے تھے۔ جب ایک گھر میں اچار ڈالتا تو گلی کے ہی نہیں بلکہ محلے کے کئی گھروں میں بانٹا جاتا تھا اور آس پڑوس کے گھروں میں سالن بھیجنا ایک معمول کی بات تھی۔کسی غریب کے بچے کی بغیر تشہر سکول فیس دے دینا‘یونیفارم مہیا کرنا ذریعہ نجات سمجھا جاتا تھا‘ لیکن ان شائد یہی چیزیں فیس بُک‘ واٹس ایپ سٹیٹس کی نظر ہو چکی اور غریب کے بچوں کی عزت نفس نام کی چیز ہی تلف کر دی گئی۔وہ تعلیم تو کیا؟ احساس کمتری میں مبتلا ہو گئے۔اب بہت یاد آتے ہیں وہ دِن وہ سہانے‘ وہ رونق وہ میلے‘ وہ گاؤں وہ ٹیلے۔

70 اور 80 کی دہائی میں بھی آج کل کی طرح کے فیشن عام تھا‘ لیکن ہر با وقار شخصیت میں سادگی کا عنصر غالب رہتا اور سادگی صرف لباس میں ہی نہیں بلکہ رہن سہن کا بھی حصہ تھی۔ اُس وقت کے ڈرامے دیکھ لیں‘ اپنے گھروں اور محلوں کو یاد کریں اور سوچیں کہ کیا کیا حسین یادیں زمانے کے ہاتھوں مٹی ہوا چاہتی ہیں۔ ہم ڈیکوریٹڈ ڈرائنگ رومز‘ویل فرنشڈ بیڈ رومز میں مزے کرتے ہیں کیونکہ اب آپ کو ڈر ہے کہ کہیں آپ کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ ہم سب اس ذہنی مرض میں مبتلا ہیں کہ ہمیں بہترین موبائل‘ اچھی سی گاڑی‘برانڈڈ لباس ضرور چاہیے کیونکہ ان سب چیزوں کے بغیر آپ کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا۔

اَدب احترا م‘ انسانیت‘ ہمدردی‘ اخوت کا رجحان تو ہواہی ہوگیا‘پہلے محلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی‘ رواداری‘ احساس کی فضا ہوا کرتی تھی۔ گھروں میں بچوں اور بڑوں کو کتاب پڑھنے کی ترغیب دی جاتی تھی بلکہ بہترین تحفہ کتاب، گھڑی اور پین سمجھا جاتا تھا اور اب لوگ اچھی کتاب پر بات ہی نہیں کرتے بلکہ بڑے بڑے اسٹورز پر لگنے والی ملبوسات، جوتوں اور ہینڈ بیگز پر سیل کی کہانیاں عام ہیں، اسی لیے اب کتاب مہنگی اور لباس اور جوتے سستے سمجھے جاتے ہیں۔ہمارامعاشرہ غریب پرور نہیں رہا اور ہم اس کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، لیکن اب اس کے بھیانک نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں ٹھہراؤ، تحمل اور برداشت کا سلسلہ رُک سا گیا ہے۔ اب کسی کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دینا، سفید ریش کے لئے راستہ دینا، کسی کی مجبوری کو رفع کرنااور دکھ سکھ بانٹ لینا خوبی نہیں، کمزروی اور سٹیسٹس کے خلاف عادت سمجھی جاتی۔

روپے پیسے کی اہمیت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گی، لیکن اس کو قبلہ و کعبہ بنا لینا کچھ عرصہ پہلے سے ہمارے حصہ میں آیا اور اب ہم میں رچ بس گیا اور انسانیت الوداع ہونا شروع ہوئی۔ ہم سب روپے پیسے کمانے میں ایسے لگے کہ اپنے بچوں کو نہ اچھا بچپن دے پارہے ہیں اور نہ ہی اچھی شخصیت۔ ہمارے معاشرے میں اپنی ہی نہیں بلکہ پڑوس‘محلے کے غریب‘ مجبور بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں صرف گھر والوں کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ خاندان کے کتنے ہی بڑوں‘ گلی اور آس پڑوس کے کتنے ہی ماموں‘خالہ‘چچا‘دادا‘ نانی جیسے کرداروں نے اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ گلی کے ہر بڑے کو حق حاصل تھا کہ وہ بچوں اور بڑوں کو ہر غلط بات پر ٹوکیں اور ان کو اچھے برے کی تمیز کرانے میں ان کی مدد کریں۔

اَب ایسی ہوا چلی ہے کہ اچھے اور مضبوط رشتوں پر بھی سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں۔ نفسا نفسی کے اس دور میں کون غریب کون امیر؟ کون بڑا، کون چھوٹا؟ کیاتہذیب‘کیا بد تہذیبی؟ کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہ رہا۔ یقینا انسانیت کے دم سے بھی معاشروں میں رونق ہوتی ہے اور احساس کے دم سے ہی معاشرہ اورمیں دیگر بھلائی کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اب وہ اقدار کمزور اور ناتواں ہوگئے ہیں تو دوسروں کا کیاکام ہے کہ وہ ہماری مزاج پرسی کو آئیں‘لیکن اب یہ سب باتیں پیسا کمانے کے ہاتھوں برباد ہو رہی ہیں۔

روز ایک نئی دوڑ تیز اور تیز بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے اور ہم کسی اور کام کے قابل نہیں رہے‘ مطلب پرستی‘ انا‘عصبیت‘ کھوکھلے نظام نے ہمیں سب کچھ آراستہ کر کے دیکھا جس کا حقیقت سے دورتلک کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اس میں ہماری بھی غفلت ہے۔ ہم بس غیروں کی سازش قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے۔

یقین کیجیے کہ جن لوگوں نے اپنی تہذیب‘ تمدن اخلاقی روایات کی قدر کی اپنے اصولوں کو مقدم جانا‘ اپنے ملک‘ قوم‘ معاشرے کو مقدم رکھا‘ ان کی مثالیں دُنیا دیتی ہے۔ ان لوگوں سے قوم نے ہی نہیں بلکہ باقی اقوام نے بھی بہت کچھ سیکھا۔ روپیہ پیسا ایک حقیقت ہے لیکن یہ سب کچھ نہیں ہے۔ دراصل اچھی اقدار اور محنت سے زندگیاں بدلتی ہیں۔ آئیں ایک نئی سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں بدلیں‘ یقین کریں انسانیت‘ دوسروں کی بھلائی میں حقیقی حسن ہے!اور اس کا ایک ہی حل ہے وہ ہے سیرت ِ معصطفیٰﷺ!

 

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اے دست کار!
  • مرے قلم کو ملی ہے وہ آب و تاب کہاں
  • فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر یہ دھیان رکھا ہے
  • اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سرکار محی الدین جی دل کانپے ہر ہر گام
پچھلی پوسٹ
وابستگاں کی کوئی نشانی نہیں ملے

متعلقہ پوسٹس

ڈیڈی

مارچ 20, 2020

توبۃ النصوح – فصل چہارم

اکتوبر 30, 2020

جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ

مارچ 7, 2020

منگنی کی خوشیاں

اپریل 4, 2026

کربِ آگہی

دسمبر 25, 2019

کھوٹى قسمت ہوئى کھرى میرى

دسمبر 5, 2021

ہم آج کہتے ہیں

جون 9, 2020

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

تعلیم اور نوجوان نسل کا مستقبل

مارچ 10, 2026

پچاس برس کے بعد

مئی 24, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے...

جنوری 29, 2020

ادب کی روشنی میں اُردو

اکتوبر 14, 2025

گل بانو کی کہانی

اپریل 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں