خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسفرنامہ بھارت – آخری قسط
اردو تحاریراردو سفر نامےحسن عباسی

سفرنامہ بھارت – آخری قسط

ایک سفرنامہ از حسن عباسی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 2, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 2, 2019 0 تبصرے 529 مناظر
530

سفر نامہ بھارت

حسن عباسی

اُس آنکھ کا نشہ کافی ہے

ممتاز محل کو اپنا کلام سُنانے کا حوصلہ کہاں سے لاتا۔

تاج محل کے سنگِ مرمر جیسا تو ایک مصرعہ بھی نہ ہوا۔

اُس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سُخن کہے

میں نے تو اُس کے پاﺅں میں سارا کلام رکھ دیا

حالانکہ وہ کلام تو اس قابل بھی نہ تھا۔

کچھ دیر بعد ارجمند بانو اپنے ناز و انداز دکھاتی، اپنے حُسن سے تاج محل کو شرماتی دوبارہ جا کر اپنی ابدی آرام گاہ میں سو گئی۔

شاہ جہاں کی زندگی کے آخری دن مجھے یاد آنے لگے۔

چاروں طرف اُداسی پھیلتی گئی۔

شاہ نے گوشہ تنہائی میں جو شب و روز گزارے وہ بہت اذیت ناک تھے۔

اُس کے دل پر کیا گذری ہوگی۔

شاہ نے ممتاز محل کی یاد میں کتنے آنسو بہائے ہوں گے۔

جب وہ آگرہ قلعہ کے قید خانے سے اپنے تعمیر کردہ اس عظیم شاہکار کو حسرت و یاس سے دیکھتا ہوگا تو اُسے کتنا دکھ ہوتا ہوگا ممتاز محل کے ساتھ محبت بھرے گذرے لمحوں کو یاد کرتا ہوگا تو دل لہو سے بھر جاتا ہوگا۔

بادشاہوں کے جیون بھی عجیب ہوتے ہیں۔

جتنی بڑی خوشیاں اتنے بڑے دکھ۔

انڈین پولیس کا خیال آتے ہی ایسا لگا جیسے میں بھی آگرہ فورٹ کے قید خانے سے تاج محل کا نظارہ کر رہا ہوں۔

تاج محل کو جتنے سیاح دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے دیکھنے لائق تھے۔ ہر چہرے پر حیرانی، تجسس اور چمک منفرد تھی۔ انداز جدا تھا۔

اُن میں ایک دراز قد اور دراز زلف گوری تاج کے ساتھ لگ کر اس طرح کھڑی تھی۔

جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ

تین باتیں ہو سکتی تھیں۔

یا تو وہ اس ملال میں تھی کہ یہ تاج محل اُس کے لےے کیوں نہیں بنایا گیا یا وہ سوچ رہی تھی کہ اسے بھی کوہِ نور ہیرے کی طرح چرایا کیوں نہیں گیا۔

ہر خوبصورت اور قیمتی چیز پر ہمارا حق ہے

تو یہ ہندوستان کے حصہ میں کیوں؟

یا پھر وہ اپنے بوائے فرینڈ یا لوّر کو یاد کر رہی تھی۔

اُداس اُداس سی تھی۔

خوبصورت آنکھوں میں اُتر کر اُداسی بھی خوبصورت ہو جاتی ہے۔

حسین چہروں پر غم بھی رنگ کی طرح چڑھتا ہے اُن کو پہلے سے بھی زیادہ حسین بنا دیتا ہے۔

اُس نے ٹائٹ بلیک جینز اور پنک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

محبت کے رنگ میں رنگی ہوئی۔

تاج محل کے پہلو میں مشرق و مغرب کا حُسن آپس میں گھل مل گیا تھا۔

میں اُسے دور سے دیکھتا رہا، قریب نہیں گیا۔

وہ اپنے دھیان میں بیٹھی مجھے اچھی لگی تھی۔

شاخ بدن سے لگتا ہے

مٹی راجھستانی ہے

یہ محبت کی یادگار دلوں کو ملانے والی ہے۔

جدا کرنے والی نہیں۔

ہم سب دوستوں نے ایک دوسرے کو چند لمحوں میں تلاش کر لیا

جیل یاترا سے بچنے کے لےے کچھ کرنا ضروری تھا۔

ستیہ جی کے علاوہ وہاں ہمارا کون تھا۔

فیصلہ یہی ہوا کہ اُن کو فون کیا جائے۔

پر کیسے کیا جائے؟

پولیس والوں کی درخواست، منت، سماجت اور کیا؟

چلنے کیلئے اٹھے تو دل بیٹھ گیا۔

تاج محل سے جانے کا تصور بہت بھیانک تھا۔

مگر جانا تو تھا۔

سو ہم تاج محل کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔

مجھے جمناندی کی قسمت پر ایک بار پھر رشک آ رہا تھا جو بڑے مزے سے تاج محل کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی۔

اُدھر سورج ڈوب رہا تھا اور اِدھر دِل۔

خلیل جبران نے سچ کہا ہے:

”میرے محبوب کا گھر پہاڑ کی چوٹی پر ہے۔ جب میں اُس سے ملنے جاتا ہوں تو پہاڑ پر چڑھتے ہوئے پتہ بھی نہیں چلتا یوں لگتا ہے جیسے اُتر رہا ہوں اور جب مل کر واپس آتا ہوں تو قدم اُٹھانا مشکل ہو جاتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے پہاڑ پر چڑھ رہا ہوں، میرے قدم بھی نہیں اٹھتے تھے“۔

جیسے ایڑیوں میں پارہ بھر گیا ہو۔

پھر بھی وہ سب زنجیریں جنھوں نے جکڑ رکھا تھا ایک ایک کرکے ٹوٹ رہیں تھیں اور تاج محل مجھ سے دور ہوتا جا رہا تھا۔

اُس وقت کے ہوم منسٹر ایل-کے ایڈوانی کے ایک فون نے ہمیں چھ ماہ کی قید بامشقت سے تو بچا لیا مگر تاج محل کے پہلو سے اُٹھ کر آنے والی سزا سے کوئی نہ بچا سکا۔

جس طرف جاﺅں وہی عالم تنہائی ہے

جتنا چاہا تھا تمہیں اتنی سزا پائی ہے

بھری دنیا میں جی نہیں لگ رہا تھا۔

دوست پی رہے تھے۔

بھنگڑے ڈال رہے تھے۔

رہائی کو Celebrate کر رہے تھے۔

میرے سامنے بوتل پڑی تھی۔

میں بھی جدائی کو Celebrate کر رہا تھا۔

مگر اُن آنکھوں کو یاد کر کے۔

تم اپنا جشن منا لینا میں اُس کی یاد مناﺅں گا

اُس آنکھ کا نشہ کافی ہے یہ بوتل موتل رہنے دو

پجارو دہلی جانے والی سڑک پر یوں جھوم جھوم کے جا رہی تھی جیسے اُس نے بھی پی رکھی ہو حالانکہ پی تو سردار جی نے رکھی تھی مگر جھوم پجارو رہی تھی خالد احمد کے کالم کی طرح مجھے اس بات کی سمجھ بھی آج تک نہیں آئی۔

میں نے کہیں پڑھا تھا غم کے موقع پر اگر رونا نہ آئے تو کوئی بات نہیں، ہنسنا نہیں چاہےے۔

سب ہی گاڑی میں مستی کر رہے تھے، گا رہے تھے، لطیفے سُنا رہے تھے میں شیشے سے باہر آگرہ کی طرف تیزی سے بھاگتے منظروں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر یہ منظر میری آنکھوں میں تیرنے لگے اور پھر ایک ایک کرکے ڈوب گئے۔

شام گہری سے گہری ہوتی گئی اور اُس نے شب کا پیرہن پہن لیا۔

سردار جی نے پجارو اچانک ایک ہوٹل پر روک دی۔ وہ ہوٹل بھی سرداروں کا تھا۔ لاہور میں جس طرح پٹھان رکشہ ڈرائیور اکثر پٹھانوں کے ہوٹل سے چائے پیتے اور کھانا کھاتے ہیں یہ اُس طرح کی سوچ تھی۔

ساگ، پراٹھے اور مکھن ٹیبل پر دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ پہلی بار سردار جی کی عظمت کا قائل ہونا پڑا۔

ساگ تو پنجاب کا تھا مگر پراٹھا اُڑیسہ کا لگ رہا تھا، چھوٹا دبلا پتلا کمزور۔

ملک میں یا ملک سے باہر ہم پاکستانی جہاں بھی جائیں پکڑے جاتے ہیں تاج محل سے رہائی ملی تو ساگ اور پراٹھوں نے پکڑوا دیا۔ جب ہم آٹھ لوگوں نے چالیس پراٹھے کھانے کے بعد مزید پراٹھوں کے لےے ویٹر کو آواز دی تو ہوٹل کے مالک بذاتِ خود ہماری زیارت کے لےے تشریف لائے صرف یہ دیکھنے کے لےے کہ یہ کس ملک کے باشندے اُن کے ہوٹل کے پراٹھوں کو شرف بخش رہے ہیں۔ اُنھیں دیدار کرتے ہی پتہ چل گیا کہ پاکستانی ”فوجاں نیں“۔

وہ اُس وقت تو پسپائی اختیار کر گئے مگر بل بناتے ہوئے بھرپور حملہ کیا اور ہماری جیبیں ہلکی کر دیں۔ ساگ پراٹھے 1200 روپے انڈین کرنسی میں تھے۔

میں نے عابد گوندل سے کہا:

یہ بل پاکستان دشمنی کا دستاویزی ثبوت ہے۔

اس نے ہمیشہ کی طرح نفی میں سر ہلایا اور جواب دیا:

”یہ آپ کے تاج محل کی طرف جانے والے راستے کی برکات ہیں“۔ ”آپ کے تاج محل“ کے الفاظ سُن کر ہم خود کو مابدولت سمجھنے لگے اور کمال فیاضی سے اپنے حصہ کی رقم عابد گوندل کی ہتھیلی پہ رکھ دی۔

ہم رات گئے آگرہ سے دِلّی لوٹے تو یہ خیال آتے ہی دل بہت خوش ہوا کہ کل ہماری پاکستان روانگی ہے انڈیا میں گزرے تیرہ دن ہمیں تیرہ صدیوں کے برابر لگ رہے تھے وطن کی یاد نے آنکھیں بھگو دیں نجانے کب نیند آگئی۔

یہ تو مفت کی رسوائی تھی

صبح اُٹھ کر ہم نے لاجپت بھون کے گراﺅنڈ میںبچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔ اس دن کے بعد ہم نے سوچا آئندہ کبھی بچوں کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلیں گے ہمارے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا تھا بہت چوکے چھکے پڑے تھے یہ تو مفت کی رسوائی تھی اس سے بہترہے بندہ کسی لڑکی کے چکر میں رسوا ہو۔

کمرے میںآکر ہم نے اپنے بیگ سے وہ لمبی لمبی فرمائشی فہرستیں نکالیں جو دوستوں، رشتہ داروں، بیگم، بچوں اور ہمسایوں نے آتے وقت ہمارے ہاتھ میں تھما دیں تھیں اور آنہ ٹکہ دےے بغیر بار بار تاکید بھی کردی کہ خالی ہاتھ مت آنا۔ ہم نے ان تمام لِسٹوں میں سے بیگم اور بچوں کے فرمائشی پروگرام پر نشان لگایا کیونکہ پاکستان پہنچ کر ہم نے سیدھا گھر جانا تھا۔ اس لےے ان کی چیزیں بہرحال ہمیں خریدنی تھیں۔

ساڑھیوں اور مصنوعی جیولری کے علاوہ انڈیا میں پاکستان سے کچھ الگ نہیں جو خریدا جا سکے سو ہم نے بھی اسی پر اکتفا کیا۔ نیز اب ہندو بنیئے سیانے ہو گئے ہیں پاکستانی چہرہ تو ویسے بھی دور سے پہچانا جاتا ہے سو قیمت تین گنا زیادہ مانگتے ہیں۔ یہاں کے دوکاندار بھی اب ہمارے ہاں کے پٹھانوں کی طرح ”اُسترے“ بن گئے ہیں۔

واپس پاکستان ہمیں ریل گاڑی سے جانا تھا اس لےے ہم بہت جذباتی ہو رہے تھے جلدی میں بہت سی یادیں لاجپت بھون کے کمرے میں رکھی رہ گئیں کچھ چہرے دیواروں سے اُتارنا بھول گئے صرف وہی یادیں ساتھ رہیں جو سانسوں میں خوشبو کی طرح بس گئیں تھیں صرف وہی چہرے ساتھ آئے جو آنکھوں میں خوابوں کی طرح ٹھہر گئے تھے۔

دلّی اسٹیشن دور سے لاہور اسٹیشن جیسا لگ رہا تھا۔ اندر داخل ہوئے تو ”بلّے بھئی بلّے“۔ اتنی رونق، اتنی گہما گہمی، اتنے پلیٹ فارم، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کدھر جائیں؟

مختلف پلیٹ فارموں پر مُدھر آوازوں میں بغیر کسی توقف کے اناونسمنٹ جاری تھی۔ اگرچہ اس خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی کہ ہم اپنے گھر اپنے دیس پاکستان جا رہے تھے پھر بھی جب اُس بھیگی ہوئی سرد رات میں ٹرین نے دِلّی کا ریلوے اسٹیشن چھوڑا تو دِل کو بہت دُکھ ہوا۔

ہماری بھیگی آنکھوں میں انڈیا میں گزرے شب و روز کی فلم چلنے لگی پیچھے بھاگتے منظروں میں ہم نے ایک ایک چہرے کو الوداع کہا ایزون کی ہنسی کو الوداع کہا۔ پلّاوی کی اداﺅں کو الوداع کہا۔ پرساد کی باتوں کو الوداع کہا ستیہ جی کی شخصیت کو الوداع کہا اور خیالوں ہی خیالوں میں نجانے کس وقت ہماری آنکھ لگ گئی۔

صبح ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ ہم اٹاری ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ سورج نکلا تو اس کی کرنوں کے ساتھ ڈاکٹر ایس-اے محال اور اُن کی بیگم امرتسر سے ہمارے لےے ناشتہ لے کر آئے ہوئے تھے وہ بھی پنجاب کا روایتی ناشتہ، ساگ، مکھن، پراٹھے، لسی سب سے بڑھ کر یہ کہ اس بات کی خبر رکھنا کہ ہم فلاں ٹرین سے صبح اٹاری پہنچ رہے ہیں میزبانی کی عمدہ مثال تھی۔

اُنھوں نے اپنی باتوں، اخلاق، محبت اور دریا دلی سے سچ مچ ہمارے دِل جیت لیے تھے جب ٹرین اٹاری سے واہگہ میں داخل ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے اُس پار کے سب منظر گم ہو گئے کچھ چیزیں اپنی نہیں ہوتیں لیکن اُن کے کھو جانے کا دُکھ بہت ہوتا ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تنہائی
  • اچھی کتاب
  • ٹانگوں میں سوجن،پٹھوں کی کمزوری سستی
  • جرمانے کی پالیسی یا عوام کی بھلائی؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سفرنامہ بھارت – پانچویں قسط
پچھلی پوسٹ
جلا وطن

متعلقہ پوسٹس

نصاب تدریس

مارچ 23, 2020

تانتیا

جنوری 8, 2022

پاکستان کی قوت اور عالمی وقار کا سفر

مارچ 25, 2026

نئی صدی کا عذاب

مئی 27, 2023

گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ

اگست 25, 2025

غل خان

مئی 10, 2020

حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت

جولائی 24, 2022

صبر کرنے والوں کے ساتھ

دسمبر 22, 2024

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

اگست 9, 2022

ایک تھا بجو کا

نومبر 27, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مقصد ِحیات

جون 27, 2022

سڑک – جو خون اگلتی ہے

جنوری 8, 2022

موجودہ صدی: نسل انسانی کے مٹ...

دسمبر 10, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں