خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباحدیث کی اقسام
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی مضامین

حدیث کی اقسام

از سائیٹ ایڈمن جنوری 22, 2023
از سائیٹ ایڈمن جنوری 22, 2023 0 تبصرے 56 مناظر
57

حدیث وہ نور ہے جو اللہ پاک کی طرف سے نبی پاکؐ کے قلب اطہر میں بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کے لیے ودیعت فرمایا گیا اور ہمارے آقاؐ نے اس نور کو اپنے الفاظ،عمل اور تائید سے مخلوق خدا میں بہترین عملی مظاہرہ کرتے ہوئے نافذ فرمایا۔خود آقا کریمؐ نے اپنی زبان اقدس سے حدیث کی کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں فرمائی اور نہ ہی صحابہ اکرامؓ نے تقسیم فرمائی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان ادوار مقدسہ میں آپؐ سے منسوب ہر بات خواہ وہ کسی بھی زریعے یا طریقے سے ملتی تھی،بلا شک و شبہ مسلم حقیقت سمجھی جاتی تھی۔بعد میں فتنوں کا دور شروع ہوا اور فرمودات نبیؐ میں ترامیم کی کوششیں شروع ہوئیں۔اس خطرناک صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اسناد کے حالات دیکھتے ہوئے علمائے دین نے مختلف جہات سے غور فرماتے ہوئے احادیث کی اقسام کا تعین فرمایا۔فن حدیث پر تفصیلی و اصولی گفتگو فرمائی۔قرآن سے استنباط کیا۔علمی بحثیں کیں۔ان کے اس علم معرفت کی وجہ سے حدیث کی اقسام وضع ہوئیں۔کم فہم لوگ حدیث کی حیثیت نہیں جانتے اور بنا سمجھے کسی حدیث پر اشکالات اور مفروضے قائم کرتے ہیں اور نا صرف جیّد محدثیں پر انگشت نمائی کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے عقائد و نظریات بھی متزلزل اور خراب کر دیتے ہیں۔
انھیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ آقاؐ جو ساری کائنات کے لیے رشد و ہدایت ہیں اور ان ؐ کا ایک ایک قول پوری امّت کے لیے قانون آفاقی کا درجہ رکھتا ہے۔لہذا امّت نے روز اوّل سے انؐ کے ایک ایک فرمان ذیشان کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ اپنائے رکھا تاکہ آقاؐ سے کوئی غلط بات منسوب نہ ہو سکے۔اقسام حدیث کا علم وہ عظیم الشان علم ہے کہ جس سے صحیح اور غلط میں وہ فرق قائم کر دیا گیا ہے کہ اس فرق کو اب کوئی نہیں مٹا نہیں سکتا۔نرے جاہل ہیں وہ لوگ جو اس علم کو سیکھے بغیر احادیث پر بحث کرتے ہیں اور اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔آئیے آسان اور مختصر انداز میں اقسام حدیث کا جائزہ لیتے ہیں۔سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ حدیث کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک سند اور دوسرا متن۔نبی پاکؐ سے لے کر صاحب کتاب تک روایت کرنے والوں کا سلسلہ سند کہلاتا ہے اور حدیث کے الفاظ کو متن کہتے ہیں۔متن کے اعتبار سے حدیث کی تین اقسام ہیں۔پہلی مرفوع کہلاتی ہے جس حدیث میں کسی قول،عمل،صفت یا تقریر (خاموش رہ کر اجازت دینا)کی نسبت نبیؐ سے کی گئی ہو۔دوسری موقوف کہلاتی ہے جس میں کسی صحابیؓ کے قول،فعل یا تقریر پائی جائے یا جس کی سند کا سلسلہ کسی صحابیؓ تک آ کر ختم ہو جائے۔تیسری مقطوع کہلاتی ہے کہ جس کا سلسلہ کسی تابعی تک آ کر ختم ہو جائے۔سند کے اعتبار سے حدیث کی پانچ اقسام ہیں۔پہلی متّصل،جس کے راوی شروع سے لے کر آخر تک پورے ہوں۔ایک بھی راوی درمیان سے چھوٹ نہ گیا ہو۔دوسری منقطع،جس کی سند ٹوٹی ہوئی ہو لیکن یہ معلق،مرسل اور معضل کے علاوہ ہو۔جس میں شروع کی سند ٹوٹی ہوئی نہ ہو،یعنی کسی صحابیؓ کو حذف نہ کیا گیا ہو۔اور دو لگاتار راویوں کو حذف نہ کیا گیا ہو۔
تیسری معلق،جس میں بتصرف وبل تصرف مصنف متعدد راوی ساقط ہوں۔چوتھی مرسل،جس کی اخیر کی سند سے تابعی کے بعد کوئی راوی ساقط ہو،موجود نہ ہو۔پانچویں معضل،جو کہ منقطع کے الٹ ہوتی ہے جس میں سے ایک ہی مقام سے دو راوی ساقط ہوں۔مرتبہ اور اعتبار کے لحاظ سے حدیث کی تین اقسام ہیں۔صحیح،حسن اور ضعیف۔صحیح اعلی مرتبے کی سو فیصد متفقہ حدیث ہوتی ہے۔مصنف سے لے کر نبی اکرمؐ تک تمام راوی صاحب عدالت،صاحب ضبط و عمل اور بالغ ہوں،نسیان کا احتمال تک نہ ہو،کبیرہ گناہ سے بچنے والے ہوں،صاحب مروت ہوں،سر راہ نہ کھاتے ہوں۔اس کی دو مزید اقسام ہیں۔صحیح لذاتہ اور صحیح لغیرہ۔دوسری حدیث حسن کہلاتی ہے اور اس کی بھی دو مزید اقسام ہیں۔ حسن لذاتہ،حسن لغیرہ۔حسن لذاتہ وہ حدیث ہے جس کے تمام راوی عادل و ضابط ہوں،سند میں کسی جگہ سے راوی چھوٹا ہوا نہ ہو اور حدیث معلل اور شاذ نہ ہو لیکن کوئی راوی خفیف الضبط ہو۔حسن لغیرہ وہ حدیث ہے کہ جس کی قبولیت میں تردّد ہو،جیسے کوئی راوی مستور اور مجہول الحال ہو،لیکن دوسری سندوں سے اسے تقویت ملتی ہو،یہ حدیث اکرچہ ضعیف ہو گی لیکن دوسری سندوں کی تائید سے قابل استدلال ہو جاتی ہے۔تیسری قسم ضعیف کہللاتی ہے۔اس کی مزید دو اقسام ہیں۔قوی بتعدد طرق اور ضعیف متروک۔ضعیف قوی بتعدد طرق وہ حدیث ہے جس کی سند موجود ہو،موضوع اور من گھڑت نہ ہو،لیکن اس کے راوی باعتباریادداشت یا عدالت کے کمزور ہوں۔لیکن اگر دوسری سندوں سے تقویت ملے تو قبول کی جا سکتی ہے۔حدیث ضعیف کا بھی اپنا ایک وزن ہے۔یہ من گھڑت نہیں ہوتی۔اس کی سند اگرچہ ضعیف ہو لیکن اس کے راویوں کا اگر ان سے پہلے راویوں سے مل کر روایت کرنے کا مظنہ نہ ہو تو اس تعدد طرق سے حدیث ضعیف قوی ہو کر حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔لیکن یہ فیصلہ حاذق محدثین ہی کر سکتے ہیں۔حدیث ضعیف متروک ضروری نہیں کہ ضعیف حدیث کثرت طرق سے ہمیشہ قوی ہو جائے گی۔بلکہ بعض اوقات کثرت طرق سے حدیث اور بھی ضعیف ہو جاتی ہے۔باعتبار علم حدیث کی چار اقسام ہیں۔متواتر،مشہور،عزیز،غریب۔متواتر وہ حدیث ہے جس کو ابتدائے سند سے لے کر آخر سند تک ہر زمانے میں اتنے لوگوں نے بیان کیا ہو کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال نظر آئے۔دوسری قسم مشہور ہے،یہ وہ ہے جس کے راوی پہلے طبقہ(صحابہؓ) میں حد تواتر کو نہ پہنچے ہوئے ہوں لیکین دوسرے اور تیسرے طبقہ(تابعین و تبع تابعین) میں اسے اتنے راویوں نے بیان کیا ہو کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھاہونا محال ہو،مشہور کہلائے گی۔تیسری قسم عزیز،وہ حدیث ہے جس کے راوی ابتدائے سند سے لے کر آخر سند تک دو سے کم نہ ہوں،(دو سے زائد ہوں تو بھی حدیث عزیز ہی رہے گی)۔چوتھی قسم غریب ہے۔یہ خبر واحد ہے،جس کی سند کسی مقام پر ایک ہی راوی سے ملی ہو۔مثلا کسی ایک صحابیؓ سے کسی ایک ہی تابعی نے روایت کیا ہو۔یہ حدیث صحیح ہی کی ایک قسم ہے۔اسے حدیث فرد بھی کہتے ہیں۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی مقدمہ مشکوۃ میں لکھتے ہیں کہ حدیث صحیح کا راوی ایک ہو تو غریب،دو ہوں تو عزیز،اگر دو سے زائد ہوں تو مشہور اور مستفیض کہیں گے اور اگر اس کے راوی کثرت میں اس درجے تک پہنچ جائیں کہ ان کا جھوٹ پر اتفاق کر لینا محال ہو تو حدیث متواتر کہلائے گی۔یہ مختصرا ًحدیث کی اقسام ہیں۔جن کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔پروردگار ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اس علم کے نور سے منور فرمائے۔آمین۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ترے قابل جو ہم سمجھے تو اپنا دل اُٹھا لائے
  • آپ سے انس ہوا چاہتا ہے
  • بے جا آنسو نہ اب بہا چپ کر
  • شہرِ جاں میں قیام ہے دل کا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کراچی کے بلدیاتی نہیں بد نیتی انتخابات!
پچھلی پوسٹ
کوئی آواز

متعلقہ پوسٹس

لفظوں کی شہزادی 

فروری 2, 2020

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک

مئی 23, 2020

کہاں ہوتے ہوۓ احساس

اکتوبر 15, 2025

لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے

نومبر 11, 2019

دل میں رہ جاتے ہیں سب لوگ

دسمبر 20, 2022

اصل وراثت

دسمبر 30, 2020

میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟

اپریل 28, 2026

یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

مئی 24, 2024

جانے دیتا ہوں جہاں

نومبر 1, 2025

جب اشک سرِ چشمِ گنہگار کھلے گا

مارچ 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ارے صاحب

فروری 21, 2021

اقبال یا انشا، غلط نسبت

دسمبر 20, 2022

آئینہ اپنے روبرو کر کے

نومبر 2, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں