113
بند کمرے میں کوئی میرے سوا بھی آئے
کھڑکیاں کھول کے رکھوں تو ہوا بھی آئے
روشنی پر وہ قناعت نہیں کرنے والا
اسکی خواہش ہے کہ حصے میں دیا بھی آ ئے
لوگ آنکھوں میں ترے خواب لیے پھرتے ہیں
اور اک ہم ہیں تجھے پا کے گنوا بھی آئے
کیوں میں الجھے ہو ئے دها گوں میں الجھتی جاؤں
اس تعلق کا کوئی ہاتھ سرا بھی آ ئے
ہجر ایسا ہو کہ کٹنے میں زمانے لگ جائیں
درد ایسا ہو کہ جینے کا مزہ بھی آئے
کیسے ممکن ہے میں جگنو کو ستارہ سمجھوں
کیسے ممکن ہے کوئی اسکی جگہ بھی آئے
جنگ باقی ہے ابھی اصلی رقیبوں سے مگر
ہم تو ترکش کے سبھی تیر چلا بھی آئے
فوزیہ شیخ
