خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااک ترے آنے کے بعد
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

اک ترے آنے کے بعد

از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024 0 تبصرے 55 مناظر
56

عبدالحمید عدم نے اپنے طرحدار معشوق کے بارے میں ایک بے مثال شعر کہا تھا۔

زندگی میں وقت دو ہی مجھ پہ گزرے ہیں کٹھن
اِک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

ہم کہاں اور عبدالحمید عدم کہاں۔ یہ اگلے وقتوں کے لوگ تھے جنہیں معشوق بھی ایسے ملتے تھے جو کم از کم ان کے دو وقتوں کو کٹھن بنا کر ان کی زندگی کو ایک خوشگوار تجربے سے ہمکنار کر دیتے تھے۔ اب ہم جیسے لوگ ان کے پیارے پیارے کٹھن وقتوں کے حوالے سے اپنی زندگی کے بے معنی اور لاحاصل کٹھن وقتوں کو یاد کرتے ہیں۔ ہم یہ کالم اس برے وقت لکھ رہے ہیں جب ملک میں عام انتخابات کے سارے کٹھن مرحلے گزر چکے ہیں وہ گہما گہمیاں اور ساری ہنگامہ آرائیاں ماند پڑ گئی ہیں جو امیدواروں کی انتخابی مہم کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ بس دو دن گزر جائیں تو دوسرے کٹھن وقت کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ بلکہ جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے تو انتخابی نتائج کے سیلاب میں گلے گلے ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ سمجھئے کہ دو طوفانوں کے بیچ جو ایک پر اسرار خاموشی کا وقت ہوتا ہے اس میں بیٹھ کر ہم یہ کالم لکھ رہے ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں کہ جب طوفان آئے گا اور خاموشی ٹوٹے گی تو ہمارا کٹھن وقت کاٹنا جان لیوا ہو گا اور یہ کب تک جاری رہے گا۔ دیکھا جائے تو معشوق اور انتخابات کے ذریعہ عطا ہونے والے کٹھن وقت کا تقابل ہی غیر منطقی ہے۔ کیونکہ معشوق اپنے آنے اور جانے سے پہلے جو کٹھن وقت عطا کرتا ہے۔ اس میں بڑا گداز اور بڑی مٹھاس ہوتی ہے جبکہ عام انتخابات اپنے آنے اور جانے سے پہلے جو کٹھن وقت عوام کو عطا کرتے ہیں اس میں آدمی اس وقت کو گزارنے کی کوشش میں بسا اوقات خود دنیا ہی سے گزر جاتا ہے۔

آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس ملک کی جمہوریت میں ہم نے عملاً نصف صدی کا وقت گزارا ہے۔ خیال رہے یہ پل دو پل کی بات نہیں ہے۔ اس ملک کے دوسرے عام انتخابات میں جب ہم ووٹ دینے کے لئے پہلی مرتبہ پولنگ بوتھ پر گئے تھے اتفاق سے ہم جس قطار میں کھڑے ہوئے تھے وہاں ہم سے آگے ایک بزرگ بھی تھے جو خود بھی زندگی میں پہلی بار اس عظیم جمہوری تجربے میں شریک ہو رہے تھے۔ ان کے چہرے پر جو آثار نمایاں تھے ان سے لگتا تھا کہ بہت سراسیمہ اور پریشان ہیں۔ بار بار ہم سے پوچھتے تھے۔

’’ میاں ! سنا ہے کہ ووٹ دیتے وقت انگلی پر کوئی نشان لگا دیتے ہیں۔ کہیں اس عمل سے تکلیف تو نہیں ہو گی۔ زندگی میں دوچار مرتبہ ڈاکٹر سے انجکشن ضرور لگوایا ہے۔ اگر چہ ڈاکٹروں نے مجھے دلاسہ دینے کی خاطر ہر بار یہی کہا کہ انجکشن لیتے وقت تمہیں یوں محسوس ہو گا جیسے کیس چیونٹی نے تمہیں کاٹ لیا ہو۔ حالانکہ چیونٹی اتنی بے درد نہیں ہوتی۔ جتنے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ کیونکہ چیونٹی کاٹنے کی کوئی فیس نہیں لیتی۔ جبکہ ڈاکٹر تکلیف پہنچانے کے بعد فیس بھی وصول کر لیتے ہیں۔

بیٹے مجھے صاف صاف بتا دو کہ ووٹ دینے کے لئے نشان لگاتے وقت کوئی تکلیف تو نہیں ہوتی۔ ؟ ’’ ایمان کی بات تو یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہم بھی بالکل اناڑی تھے۔ کیونکہ ہم بھی زندگی میں پہلی بار ووٹ دینے والے تھے۔ تاہم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ بیشتر جمہوری ممالک کے حالات اور خود جمہوریت کے بارے میں ابراہم لنکن کے فرمودات اور ان فرمودات کے حشر وغیرہ سے ہم بخوبی واقف تھے۔ لہذا بڑے میاں موصوف سے جو نئے نویلے ووٹر بنے تھے ہم نے دست بستہ عرض کی۔ ’’ حضور میں بھی آپ ہی کی طرح پہلی مرتبہ ووٹ دے رہا ہوں۔ ناتجربہ کار ہوں۔ تاہم جمہوری نظام حکومت کے بارے میں بہت کچھ پڑھ رکھا ہے۔ جس کے مطابق اتنا جانتا ہوں کہ ووٹ دیتے وقت آپ کی انگلی میں تو کوئی درد نہیں ہوتا۔ لیکن آپ کے ووٹ کی مدد سے جب سرکار بن جاتی ہے تو لگاتار پانچ برسوں تک آپ سخت تکلیف سے گزر تے رہتے ہیں۔ دل کا درد تو معمولی بات ہے۔ آپ کے جوڑ جوڑ میں درد سما جاتا ہے۔ اتنا سنتے ہی بڑے میاں نے قطار میں سے اپنی جگہ چھوڑ دی اور راہ فرار اختیار کی۔

ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہماری ذراسی بات پر وہ اتنے برافروختہ ہو جائیں گے کہ اس ملک کے عظیم جمہوری تجربہ میں شامل ہونے سے اپنے آپ کو محروم کر لیں گے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کے بعد شاید ہی کبھی انہوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہو۔ کیونکہ جمہوری تجربے کی قطار سے نکلتے وقت ہی ان کی عمر کچھ ایسی تھی کہ لگتا تھا موصوف پہلی اور آخری بار اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہو۔ کیونکہ جمہوری تجربے کی قطار سے نکلتے وقت ہی ان کی عمر کچھ ایسی تھی کہ لگتا تھا موصوف پہلی اور آخری بار اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہوں۔ ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ جمہوریت میں عوام پر جو دو وقت کٹھن گزرتے ہیں ان کی صحیح عکاسی کرنے کے لئے عبدالحمید عدم کے مصرعہ کی ترتیب میں ذراسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اور مصرع اس طرح لکھا جانا چاہئے۔

اِک ترے جانے سے پہلے
اِک ترے آنے کے بعد 

اگر آپ مصرعہ کی الٹی ترتیب کو بغور پڑھیں تو عوام اور عاشق کے کٹھن وقت کے کرب کی مدد سے حکومتوں اور معشوق کی آمدورفت کے صحیح پس منظر سے کماحقہ لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ ہمارے ایک اور دوست تھے۔ بے حد جذباتی مگر رکھ رکھاؤ والے۔ اس ملک کے تیسرے عام انتخابات میں پہلی بار اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے لئے جب وہ اپنے گھر سے چلے تو کچھ اس شان سے کہ نئی شیروانی اور نئے جوتے پہن رکھے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ زیر جامہ اور رومال بھی نیا تھا۔ آنکھوں میں سرمہ اور کان میں عطر کا پھاہا بھی رکھ چھوڑا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے عید کی نماز پڑھنے کے لیے جا رہے ہوں۔ یا سہرے کے بغیر خود اپنے ’عقد ثانی‘ میں شرکت کی غرض سے جا رہے ہوں۔ جمہوریت کا نیا نیا تجربہ تھا۔ اور ان دنوں عوام میں جوش و خروش بھی بہت پایا جاتا تھا۔ چنانچہ بعض جوشیلے رائے دہندے ایک ہی پولنگ بوتھ پر دس دس بوگس ووٹ ڈال کر آتے تھے۔ آج جب ہم جمہوریت سے اپنے پچاس سالہ شخص تعلق پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے حقیر اور ادنی سے ووٹ نے جواہر لال نہرو۔ لال بہادر شاستری اندرا گاندھی۔ راجیو گاندھی کے علاوہ وی پی سنگھ اور منموہن سنگھ جیسی ہستیوں کو اس ملک کی وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچانے میں مدد کی۔ ان پچاس برسوں تک تو معاملہ ٹھیک ٹھاک چلتا رہا۔ لیکن بعد میں سیاست دانوں کا سماجی اخلاقی اور علمی معیار رفتہ رفتہ گرتا چلا گیا۔ ہمارے ایک دوست پارلیمنٹ کے رکن ہیں دہلی میں رہتے ہیں اور انہوں نے ہم پر یہ پابندی کر رکھی ہے کہ ہم کسی محفل میں ان کا تعارف رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے نہ کرائیں۔ کہتے ہیں لاج سی آتی ہے اور آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ اب پارلیمنٹ میں پڑھے لکھے ارکان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ غیر سماجی عناصر اور جرائم پیشہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض تو ایسے بھی ہیں جو جیلوں میں بند ہیں۔ تقریباً تین دہائیوں تک اس ملک کی سیاست میں ہماری دلچسپی برقرار رہی۔ لیکن جب پہلی مرتبہ مسز اندار گاندھی انتخابات میں ہار گئیں تو ہم نے اس بات کا اتنا گہرا اثر قبول کیا کہ دو دنوں تک گھر سے باہر نہیں نکلے۔ بلکہ پریس کلب تک نہیں گئے۔ تب ہمیں احسا س ہوا کہ ہم اپنا ووٹ ووٹ بنک میں رکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ لہذا ہم نے بڑی ہوشیاری سے اپنا ووٹ ووٹ بنک سے نکالا اور اب اسے حسب موقع اور حسب ضرورت استعمال کرتے ہیں۔ یوں بھی بنکنگ سے ہمارا کوئی خاص سروکار نہیں ہے۔ لوگوں نے ہمیں بہت کم کسی بنک میں دیکھا ہو گا۔ جب ہم بنکوں میں اپنا پیسہ تک رکھنے کے قابل نہیں ہیں تو اپنے اکلوتے ووٹ کو کسی ووٹ بنک میں کیوں رکھیں۔

ہمارے ایک اور دوست ہیں جو مسزاندراگاندھی کی ہار سے اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ جمہوریت سے ہی دستبردار ہو گئے۔ اب نہ تو وہ ووٹ دینے جاتے ہیں نہ کسی انتخابی جلسے کو سنتے ہیں۔ ہم شخصی طور پر جمہوری عمل سے اس قدر بد دل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔ وہ صبح کبھی نہ کبھی تو آئے گی ہی جب ہمارے ووٹ کی حکمرانی پھر سے قائم ہو جائے گی۔ پچھلی دو دہائیوں کا ہمارا تجربہ کہتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس ملک میں کسی ایک پارٹی کی حکمرانی قائم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ لہذا اب ’مخلوط حکومتوں‘ کا بول بالا ہے۔ مخلوط حکومت بے پیندے کے لوٹوں یا تھالی کی بینگنوں کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔ مخلوط حکومت سرکار چلانے کے کرتب تو دکھا سکتی ہے لیکن کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتی۔ پہلے سیاست دان اس ملک کو اور ملک کے شہریوں کو آپس میں جوڑنے کی بات کرتے تھے۔ مگر اب جوڑ توڑ ہی نہیں بلکہ توڑ توڑ کا چلن عام ہو گیا ہے۔ پہلے کوئی ایک سیاسی پارٹی شہریوں کو لوٹتی تھی مگر اب کئی لٹیرے مل کر پہلے عوام کے ووٹوں کو اور بعد میں ان کے نوٹوں کو لوٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس افراتفری کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اب ہرکس و نا کس اپنے آپ کو اس ملک کا وزیر اعظم بننے کا اہل سمجھنے لگا ہے۔ جس لیڈر کو اس کی تعلیمی لیاقت کی بنیاد پر ایل ڈی دسی کو نوکری نہیں مل سکتی اب وہ بھی وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھنے لگا ہے۔

جمہوریت کا یہی تو فائدہ ہے۔ تاہم ہم اپنے طور پر بہ رضا و رغبت یہ اعلان کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ اگر کوئی صاحب یا پارٹی ہمیں وزیر اعظم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ ہمارے بھروسے بالکل نہ رہیں۔
بہر حال دوہی دن بعد جب انتخابی نتائج آ جائیں گے تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ لیڈروں کی منڈی میں کس لیڈر کا کیا بھاؤ مقرر ہو گا۔ بہر حال ایک ذمہ دار شہری کی طرح ہم مایوس ہونے کے باوجود اس ملک کے جمہوری نظام سے جڑیں رہیں گے اور ووٹ دینے والوں کی قطار میں بشرط زندگی بار بار جاتے رہیں گے۔

کہیں تو قافلہ نو بہار ٹھہرے گا۔

 

مجتبیٰ حسین 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خالد میاں
  • سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں
  • شعور و فہم کا عالم
  • رسم کے مت اسیر ہو جاؤ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پیڑاں سہن دے عادی ہو گئے
پچھلی پوسٹ
مزاح نگاری کا پہلا سبق

متعلقہ پوسٹس

سمندر کی گہرائیوں میں

دسمبر 23, 2024

دوسری شادی، معاشرہ اور منافقت

مئی 7, 2025

اس دورِ ابتلا سے نکلنا بھی ہے مجھے

نومبر 19, 2021

انٹرویو شہزاد نیّرؔ

جولائی 13, 2025

اچھے ہمسائے

اگست 9, 2022

ہے سارا بدن مشکِ خُتن

مئی 29, 2024

سرِ کریک

اکتوبر 5, 2025

رفوگر

جون 14, 2020

شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟

جنوری 1, 2023

مُجھ کو آیا نہ زمانے کو لُبھانا یارو

اپریل 9, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مرے چراغ ہمیشہ یہ جستجو کرنا

مئی 18, 2025

چچا چھکن نے ایک بات سنی

اگست 22, 2022

کراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں...

جولائی 31, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں