خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانٹرویو شہزاد نیّرؔ
آپکا اردو بابااردو بابا سپیشلاردو تحاریرشہزاد نیّرؔ

انٹرویو شہزاد نیّرؔ

از سائیٹ ایڈمن جولائی 13, 2025
از سائیٹ ایڈمن جولائی 13, 2025 0 تبصرے 40 مناظر
41

السلام علیکم معزز قارئین
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر خوش آمدید
میں ہوں میزبان رشنا اختر اور حاضر ہوں ایک دلچسپ انٹرویو کے ساتھ ۔ ہمارے آج کی مہمان ہیں شہزاد نئیر صاحب جو ادبی دنیا میں اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں اور شہرت کی بلندیوں پر ہیں تو چلیئے وقت ضائع کیے بغیر گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسے ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام
اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں ۔

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا نام شہزاد نئیر ہے ۔ گجرانوالہ سے تعلق ہے۔ میٹرک گجرانوالہ سے کیا ۔ ایف ایس سی کے لیے ایف سی کالج لاہور آگیا ۔ ایف ایس سی کے بعد میں نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی ۔ دو سال کی تربیت کے بعد آفیسر بن کر آرٹیلری میں آگیا ۔

*باقاعدہ شاعری لکھنا کب شروع کی پہلی غزل جو بہت مقبول ہوئی۔

شعر و ادب کا تعلق سکول کے زمانے سے ہی جڑ گیا تھا ۔ ساتویں اور آٹھویں جماعت میں کچھ نہ کچھ لکھنے لگا تھا۔ نویں دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میں کافی کچھ پڑھ چکا تھا جس میں ساحر لدھیانوی کی شاعری امرتا پریتم کی شاعری اور افسانے، ممتاز مفتی اور قراة العین حیدر ۔ ایف ایس سی کے دوران بھی پڑھتا رہا اس دوران الطاف حسین حالی کی کتاب مقدمہ شعر و شاعری پڑھی پھر کچھ انگریزی ادب پڑھا ۔ آرمی میں آنے کے بعد بھی مطالعہ کا شوق جاری رہا اور لکھنا بھی مسلسل برقرار رہا ۔ زمانہ طالب علمی میں ایک غزل لکھی تھی ۔

وہ جس دن کا مجھ سے جدا ہوگیا ہے
دریچہ مصیبت کا وا ہوگیا ہے

چلے جارہے ہیں میرے سارے اپنے
الٰہی یہ کیا ماجرا ہوگیا ہے

جو نخوت سے میری گلی میں وہ آیا

تو زخموں کا جنگل ہرا ہوگیا ہے

رہی زندگی میں نہ اب دلنشینی

کہ نیئر کا دل بر خفا ہوگیا ہے

یہ زیادہ مشہور تو نہیں ہوئی لیکن جو میری غزل زیادہ مشہور ہوئی

تو بنا کے مجھے پھر سے بگاڑ دے
مجھے چاک سے نہ اتارنا

*شاعری میں ایک نقطے میں پوری تاریخ سمٹی ہوئی ہوتی ہے موجودہ بے ربط کاپی پیسٹ شعراء کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟

میں آپ کے اس سوال سے متفق ہوں کہ شاعری ربط کا نام ہے ، تنظیم کا نام ہے۔ اس میں چیزوں کو میچ کرنا پڑتا ہے یعنی جو آپ کے ذہن میں جو خیالات آتے ہیں انہیں کسی ترتیب ، حسن اور سلیقے کے ساتھ آنا چاہئیے ۔ ان دنوں ہمیں سوشل میڈیا پر ایسی شاعری بھی نظر آتی ہے جو بے ربط ہے جس میں تلازمہ کاری نہیں ہے ۔ خیالات بھی عامیانہ اور پست ہیں پھر ان کی بندش اور ادائیگی بھی ارفع نہیں ہے عامیانہ و سوقیانہ ہے ۔
ایسی شاعری کے بارے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ شاعری ایک رفعت فکری کا نام ہے۔ شاعری ارفع خیالی کا نام ہے اور اس کے لیے جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ بھی اچھی اور عمدہ ہونی چاہیئے ۔ اگر شاعری میں بھی اسی طرح کے عامیانہ و سوقیانہ اور پست خیالات باندھنے ہیں جس طرح بازاروں میں بات چیت کرتے پھر رہی ہیں تو پھر یہ تہذیب و ثقافت کا سر چشمہ کیوں گردانی جاتی ہے ۔ شاعری نے تہذیب سکھانی ہوتی ہے۔ ادب و سیلقہ و قرینہ سکھانا ہوتا ہے ، شعور کی راہنمائی کرنی ہوتی ہے ، جذبات کی تہذیب کرنی ہوتی ہے اور خیالات و احساسات کو الفاظ میں بیان کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے شاعری کی زبان بہتر ہونی چاہیئے ۔ بے ربط اور کاپی پیسٹ قسم کی جو شاعری جس کا ذکر آپ نے کیا ہے اسے میں قطعاً پسند نہیں کرتا اور قارئین کو بھی اسے پسند نہیں کرنا چاہیئے ۔ اس کی بجائے معیاری ، عمدہ پُرلطف اور اعلیٰ شاعری کو پسند کرنا چاہیئے ۔

*جتنی گہری شاعری اتنے گہرے زخم کیا یہ درست ہے ؟

زندگی میں بہت زخم ملتے ہیں ۔ حساس طبیعت کے لیے تو جگہ جگہ
عبرت کی جاہ ہے۔
بقول میر

سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جاہ جہانِ دیگر تھا

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ

مجھے تو لگتا ہے زندگی دراصل زخموں کا ہی ایک سلسلہ ہے ۔ کچھ زخم ذاتی ہوتے ہیں اور کچھ سماجی ہوتے ہیں اور کچھ کائناتی ہوتے ہیں ۔ اب کائناتی دکھ وہ تو ہونے کا دکھ ہے Existence کا ، وجودیت کا دکھ ہے جو ہر کسی کے ساتھ ہے۔ سماجی دکھ دیکھیئے کتنی اونچ نیچ ہے۔ ایک ہی وقت میں آپ دیکھتے ہیں کہ ایک بہت مہنگی گاڑی میں ، بہت مہنگے یونیفارم میں ایک بچہ سکول جارہا ہے اور اسی گاڑی کے ٹائر کی ہوا چیک کرنے والا بھی اسی کی عمر کا ایک بچہ ہے ۔ زخم تو بہت ہیں ایک طرف منوں ٹنوں کے حساب سے کھانا ضائع ہو رہا ہے اور ایک طرف کوڑے کے ڈھیر سے بچے ہڈیاں چن رہے ہیں ۔ زخم تو زندگی کا حصہ ہیں بس یہ کہ طبعیت حساس ہونی چاہیئے ۔ پھر ذاتی زخم بھی ہوتے ہیں ۔ کسی کی بے وفائی ، کسی کا تغافل ، محبوب ، گھر ، بچے، رشتے ہر طرف سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے جسے آدمی دکھ کے خانے میں رکھ لیتا ہے ۔ تو شاعری کیا ہے ؟ شاعری صرف دکھوں کا بیانیہ نہیں ہے زندگی کا بیانیہ ہے اور زندگی میں دکھ بھی ہیں ۔ زندگی کو جمالیاتی آنکھ سے ، حساسیت کی آنکھ سے ، انسان دوستی کی آنکھ سے اور محبت کی آنکھ سے دیکھنے کا نام شاعری ہے ۔ میرے خیال میں میرا جواب مکمل ہے کہ شاعری میں دکھ ہوتے ہیں؟ ہاں ! جتنا گہرا زخم اتنی گہری شاعری

*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب ہر عہد میں موجود رہا ہے ۔ ایک عہد تھا اس کا جو بنیادی علاقہ تھا ۔ ادب کے ساتھ جو بنیادی تعلق تھا ۔ علاقہ کا معانی تعلق بھی ہوتا ہے علاقہ کا لفظ تعلق ہی سے نکلا ہے ۔ ادب کا جو بنیادی تعلق تھا جو اشرافیہ طبقہ تھا اس کے ساتھ تھا ۔ شاعری کی سر پرستی بھی نواب ، راجے ، مہاراجے کیا کرتے تھے اور شعراء ان کے دربار سے وابستہ ہوتے تھے ۔ وہ جو پڑھا لکھا طبقہ جو کم تعداد میں ہوتا تھا اسی کے اندر شاعری پڑھی جاتی تھی اور مقبول ہوتی تھی لیکن جوں جوں عوامی دور آیا عوام تک شاعری گائیکی کی شکل میں پہنچی ۔ سماعت کی روایت ، ہمارے ہاں مشاعرے کی روایت ہے ۔ اس کے ذریعے پہنچی اور عوامی طبقات میں بھی مقبول ہوئی ۔ آج کل کے دور میں ادب کے فروغ کے لیے بہت کچھ ہے۔ سوشل میڈیا کے چھے، سات ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارم ہیں جہاں پر آپ کو ادب ملتا ہے ۔ کتابیں چھپوانا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ ان زمانوں میں مسئلہ تھا جب کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں چھاپہ خانہ نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو بڑے آرام سے کتابیں چھپ رہی ہیں رسائل و جرائد چھپ رہے ہیں ۔ ریڈیو ٹیلیویژن کے ذریعے بھی ادب فروغ پا رہا ہے ۔ اس وقت جو زیادہ ضرورت ہے وہ ادب کو اپنی منہاج پر قائم کرنا اور اس کے معیار کو زیادہ اونچا کرنا یہ ضروری ہے ۔
فروع کی جہاں تک بات ہے تو ایک بے وزن کلام کوئی پڑھ دے اپنی آواز میں یا ویڈیو اچھی بنائے اور لڑکا یا لڑکی خوش شکل بھی ہو تو اس کے ویوز ملین میں چلے جاتے ہیں حالانکہ وہ کلام تکنیکی اعتبار سے درست نہیں ہوتا یعنی وزن نہیں ہوتا ۔ اب حکومتی ادارے بھی ادب کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں اکادمی ادبیات اور مقتدررہ قومی ادبیات ہے۔ پنجاب میں مجلسِ ترقی ادب ہے۔ سندھ میں قومی ادارہ قومی زبان ہے ۔ فروغ تو ملتا ہی رہتا ہے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ادب کو اس معیارات پر قائم کریں اور عوام کے ذوق کی اس طریقے سے تربیت کریں کہ اعلیٰ ادبی معیارات کو فروغ حاصل ہو ۔

*شعراء کی زندگی اکثر کسمپرسی میں گزرتی ہے کیا یہ اچھی شاعری کے لیے ضروری ہے اگر ایسا ہے تو ہر مفلس اور صاحب زر شاعر کیوں نہیں ؟

یہ بات بہت پہلے کی اور بہت پرانی ہے تقریباً سو دو سو سال پہلے کی بات ہے ۔ آج کل ایسا تو کوئی شاعر نہیں نظر آتا جو صرف شاعری سے اپنا گزارہ کرتا ہو۔ ایک منیر نیازی تھے اور شاید آج کے دور میں کوئی ایک آدھ ہو لیکن زیادہ تر شعراء ایک کثیر تعداد میں شعراء کسی اور پیشے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری ان کا مسئلہ ہے زندگی بھر شاعری کرتے ہیں لیکن روزگار کسی اور شعبے سے وابستہ ہے ایسے لوگ زیادہ ہیں بہت کم لوگ ہیں جو شاعری سے اپنا رزق کماتے ہوں اور وہ بھی صرف وہی کماتے ہیں جو کما پاتے ہیں ظاہر ہے مشاعروں کا دور ہے سوشل میڈیا کا دور ہے یوٹیوب سے بڑی کمائی ہوجاتی ہے باقی پلیٹ فارم سے بھی کمائی ہوجاتی ہے تو ایسے لوگ کم ہیں ۔
اقبال ساجد ایک شاعر تھے انہوں نے کسمپرسی کی زندگی گزاری ۔ ساغر صدیقی نے بی کسمپرسی کی زندگی گزاری ۔ ضروری نہیں ہے کہ شاعر غریب ہو معاشی سطح کے مطابق اچھا شاعر ہو سکتا ہے ۔ احمد ندیم قاسمی نے ایک مناسب سی زندگی گزاری لیکن شاعری میں بہت نام کمایا ۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟

جب سروس میں تھا جتنا وقت میسر آتا تھا شعرو ادب میں صرف کرتا تھا اور ٹیلی ویژن دیکھتا تھا ۔
ملازمت کے بعد فیملی کو وقت دیتا ہوں اور شعرو شاعری کرتا ہوں ۔
موبائل فون بہت وقت لے جاتا ہے اس پر بھی ادبی کاموں میں مصروف رہتا ہوں۔ رات کو مطالعہ کی عادت برقرار ہے اس دوران موبائل فون آف ہوتا ہے ۔

*زندگی کا دیا ہوا کوئی سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

مال و دولت ، زر پیسہ یہ خوشیوں کی ضمانت نہیں ہے ۔ زندگی میں ایسے ایسے امراء دیکھے ہیں جو بہت پریشان رہتے ہیں ۔ ایسے متوسط یا غریب لوگ دیکھے ہیں جو خوشی خوشی زندگی گزارتے ہیں ۔ پیسے کے لیے لوگوں کو اپنی صحت خراب کرتے دیکھا ہے وہی پیسہ پھر صحت بحال کرنے پر لگاتے ہیں ۔ پیسوں سے زیادہ اہم چیزیں موجود ہیں مثلاً رشتے ، آرٹ، فنون اور دوسرے کا خیال ۔
پیسے کی دوڑ میں شریک نہیں ہونا کارپوریٹ ورلڈ کی یہ بہت بڑی سازش ہے وہ ہمیں برینڈ کانشئس کرکے زیادہ کمانے کی ترغیب دیتے ہیں کہ زیادہ کماؤ تاکہ زیادہ خرچ کر سکو ۔ خواہشات کو توازن اور اعتدال میں رکھیں ۔ ضروریات اور ہوتی ہیں خواہشات اور ہوتی ہیں ۔ خواہشات کو ہائی لیول تک نہ پہنچاؤ ضروریات پر توجہ مرکوز رکھو باقی وقت رشتوں اور خوشیوں پر صرف کرو ۔

*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

ایک عمومی روش جو میں نے دیکھی ہے کہ ہمارے ہاں تین چار چیزیں بڑی تیزی سے کم ہوگئی ہیں ۔ ایک اپنی بات کا پاس دوسرا خود سے بڑھ کر دوسرے کو اہمیت دینا ۔ ہر کوئی اپنی خود غرضی میں مبتلاء ہے کہ میرا کچھ بن جائے دوسرے کو دھکا مار کے خود آگے بڑھ جائے ۔ تیسری وعدہ خلافی ۔ چوتھی ان سب سے بڑی دھوکہ دہی ۔ دھوکے کی بڑی قسمیں ہوتی ۔ اگر کسی کاریگر سے کسی مشین کا نیا پرزہ تبدیل کروایا تو اس نے بازار سے چارگنا زیادہ قیمت وصول کی ۔ بعض لوگ خود کو مظلوم و مسکین ظاہر کرکے بھی مالی امداد حاصل کرتے ہیں جب تحقیق کی جاتی ہے تو حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ میرا ایک قریبی دوست تھا ۔ وہ پنجابی شاعر تھا ۔ ایک دن مجھے فون کیا اور بڑی تھکی تھکی آواز میں کہنے لگا شہزاد یار میں سخت بیمار ہوں کچھ کیجئے ۔ میں نے مدد کی یقین دہائی کرائی ۔ اب اس شخص کے قریبی دوست کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیمار نہیں ہے اس نے پیسے بٹورنے کے لیے کئی لوگوں کو ایسے دھوکہ دیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں دھوکہ بہت بڑھ گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ میں اپنے معاشرے کے اخلاقی معیارات سے اور معاشرتی چال چلن سے ، سچائی کے جو پیمانے ہیں ان سے بالکل مطمئن نہیں ہوں لوگوں میں اچھا کردار نایاب ہوتا جارہا ہے ۔

*معیار کا کوئی پیمانہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟
شعری و ادبی معیار دو تین باتوں سے طے پاتا ہے ایک تو یہ کہ جن خیالات کا آپ اظہار کر رہے ہیں وہ کتنے آفاقی یا عالمگیر ہیں زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں کو وہ اپنے خیالات لگتے ہیں ۔ کتنے لوگ اس پر ریسرچ کرتے ہیں کہ واہ کیا نقطہ بیان کیا ہے ۔ یہ موضوع کے متعلق معیار کہلاتا ہے ۔ شعر و ادب میں زبان ہمارا اوزار ہے ۔ زبان کو کتنی وسعت دی ہے ۔ زبان کو کتنا تخلیقی انداز میں استعمال کیا ہے ۔ کتنی درستی سے استعمال کیا اور بڑے مطالب اور مفاہیم کتنی جامعیت کے ساتھ شعری یا ادبی تخلیق میں سمو دیئے ہیں ۔ تیسرا معیار یہ ہے کہ کسی تخلیق میں زمان و مکان میں کتنا سفر کیا ۔ زمان سے مراد زمانہ یعنی کتنے سو سال نسل انسانی کے ساتھ متعلق رہی مثلاً شیخ سعدی ، مولانا روم اور شیکسپیئر کب تھے ؟ اب تک ایسے لگتا ہے کہ وہ ہمارے عہد کے متعلق ہیں ۔ زمان کے بعد آتا ہے مکان سے مراد کہ ادب پارہ یا ان کے لکھنے والے کا تعلق کہاں سے ہے تو یہ چند ادبی معیار ہیں ۔ جو چیز زمان و مکان میں جتنی دیر چلتی ہے وہ اتنی ہی اہم سمجھی جاتی ہے ۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟
پہلی نظموں کی کتاب برفاب 2006 میں شائع ہوئی ۔ اس قبل ادبی رسائل جرائد میں کلام شائع ہوتا رہا۔ کتاب کو انگلستان میں پین انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ۔نظموں اور غزلوں کی کتاب چاک سے اترے وجود 2009 میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کو پروین شاکر ایوارڈ نوازا گیا ۔ نظموں کی کتاب گرہ کھلنے تک اور پھر اس کے بعد 2018 میں کتاب خابشار شائع ہوئی اس طرح شاعری کی چار کتب شائع ہوچکی ہیں ۔
2024 میں مائکرو فکشن کا مجموعہ شائع ہوا کہانی چل رہی ہے۔

*موجودہ دور اسٹیٹس کا دور ہے ہاتھ میں آئی فون ہے اور بات کرنے کی تمیز نہیں ایسے لوگوں کے لیے چند جملے ۔

یہ وہ نو دولتیے ہیں جنہیں تہذیب و تمدن سے کوئی لگاؤ نہیں اور مہنگی گاڑی، مہنگے فون اور مہنگے کپڑے کو ہی زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس اگر پیسہ ہے دولت ہے ساتھ ہی اس میں عاجزی ہے خلق خدا کی بہتری کا خیال ہے انداز شائستہ ہے چلو پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر بات کرنے کی تمیز بھی نہیں ہے محض اپنی مہنگی گاڑی مہنگی گھڑی اور مہنگے فون پر ہی اتراتا پھر رہا ہو ایسے لوگوں سے تو میں دور بھاگنا ہوں لیکن ایک ضروری بات بتاؤں کہ جس شخص کو اپنے عہدے کا غرور ہو یا اپنے پیسے کا غرور ہو اس کے ساتھ میں دس منٹ بھی نہیں چل سکتا نہ گفتگو کر سکتا ہوں ۔ الگ ہو جانا ہٹ جانا ہی اس کا علاج ہے ۔
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جاۓ تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی تجسس ہے ۔
میرے نزدیک تجسس زندگی کا سب سے بڑا جذبہ ہے ۔ اس میں سائنسی تجسس یہاں تک کہ جب آپ کسی کے ساتھ تعلق یا رشتہ باندھتے ہیں تو تجس ہوتا ہے کہ وہ کیسے مزاج ، پسند ناپسند کا حامل ہے تو یہ تجسس ہے جو لے کر چلتا ہے ۔ ایک نظم بھی میں نے کہی تھی کہ

جب تلک یہ تجسس رہے گا
تعلق رہے گا

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں ؟

2 : صوفی غلام مصطفٰی تبسم ایوارڈ
3 : فیض امن ایوارڈ
4 : ایوان ِ اقبال ایوارڈ دُبئی
5 : پروین شاکر عکس خوشبو ایوارڈ 2009
اس کے علاوہ بہت ساری ادبی تنظیموں کی طرف سے لاتعداد اعزازی شیلڈز اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

*سو جھوٹوں میں ایک سچا پھنس جاۓ تو حل کیا ہے ؟

میرے زاویے سے معاشرے کے اندر بہت سی چیزیں رائج ہوتی ہیں جو لوگ درست سمجھ کے کر رہے ہوتے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہوتے ہیں پھر ایک بندہ پیدا ہوتا ہے منٹو جیسا ، بلھے شاہ جیسا ، وکٹر ہیوگو جیسا جو لوگوں سے کہتے ہیں کہ یار یہ جو تم کر رہے ہو وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ شروع شروع میں انہیں بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ معاشرہ ان کی فکر کی سطح کو پہنچا نہیں ہوتا ۔ جیسے بلھے شاہ پر کفر کے فتوےٰ بھی لگے حتیٰ کہ علامہ محمد اقبال کو بھی نا پسند کیا گیا ۔ سچے کو اپنا کام کرتے رہنا چاہیے ۔ سچ سے دستبردار نہیں ہونا چاہیئے ۔ طریقے سے ، سلیقے سے اور حکمت سے سچ کو سامنے لانا چاہیئے ۔

*سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟

سیرو سیاحت کا شوق رہا اور یہ شوق اب بھی ہے۔ پاکستان آرمی آفیسر کی حیثیت سے مجھے پورا پاکستان گھومنے کا موقع ملا ۔ کچھ اپنے شوق سے سیرو سیاحت کی ۔ گلگت بلتستان ، ہنزہ میں وقت گزارا اور سیاحت بھی کی ۔ پھر پشاور ، کوہاٹ اور جنوبی وزیرستان میں بھی رہا اس کے علاوہ بلوچستان میں ژوب ، دالبندی ، تربت اور گوادر میں بھی سیاحت کی ۔ سیرو سیاحت میرا شوق رہا ہے ابھی بھی لاہور کے آس پاس جتنی بھی جگہیں ہیں جیسے میں ہرن مینار وغیرہ بھی جاتا ہوں ۔ دوسرے ملکوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا فرانس ، انگلینڈ کے بہت سارے شہروں میں گیا ۔
یو اے ای بھی گیا تھا ۔ مکہ مدینہ بھی گیا اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی ۔ میرا خیال ہے جہاں تک آدمی کی پہنچ ہو ملک میں یا ملک سے باہر سیاحت ضرور کرنی چاہیئے ۔

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا؟
میری والدہ کا انتقال ناگہانی طور پر ہوا ۔ اس وقت میں نوجوان تھا اور میری چھوٹی بہن تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی ۔ وہ اتنا بڑا نقصان تھا ایسا لگتا تھا کہ زندگی میں کچھ بچا ہی نہیں ۔ وقت مرہم ہے لیکن جب وہ لمحہ یاد أتا ہے تو صبر نہیں ہوتا ۔ والدہ کے انتقال کے دو سال بعد کی بات ہے کہ میں ایک دوست کے گھر میں تھا تو دوست ہر چھوٹے چھوٹے کام کے لیے بار بار امی پکارتا کہ یہ کام کردیں ۔ مجھے احساس ہوا کہ میں تو کسی کو یہ لفظ کہہ بھی نہیں سکتا ۔ نقصان کا صدمہ بہت گہرا ہوتا ہے ۔ پیسے ، رشتے اور جذبوں کے نقصان بھی ہوئے لیکن یہ نقصان سب سے بڑا ہے ۔ اس صدمے سے نکلنے کے لیے خود کو موٹیویٹ کرنا کہ معشیت ، تقدیر پر اور زندگی کے مختلف زاویوں پر صبر کرنا ہی پڑتا ہے اور زندگی کو آگے چلانا ہی پڑتا ہے وہ کہتے ہیں نا کہ
Life must go on
زندگی چلتی رہنی چاہیئے

*نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہمارا اوزار یا ہتھیار ہے وہ زبان ہے ۔ کسی نے کچھ بھی لکھنا ہے جیسے نظم ، غزل ، افسانہ ، ناول اور کالم وغیرہ تو وہ زبان میں لکھنا ہے تو یہ سب لفظوں پر مشتمل ہیں لہذا زبان پر توجہ دیں معیاری ، درست ، خوبصورت ، عمدہ اور تخلیقی زبان استعمال کریں ۔ زبان کے خلاقانہ استعمال سے ، لفظوں کے غیر متوقع استعمال سے تخلیقیت پیدا ہوتی ہے ۔ لفظ کے معنی میں کشادگی لانا اگر آپ غزل یا نظم لکھ رہے ہیں اگر آپ لفظ اور جملے تخلیقی بنائیں تو آپ کے ادب پارے کی قدرو قیمت بڑھ جاۓ گی ۔ جس صنف میں بھی لکھ رہے ہیں اس کے تقاضے کو سمجھیں اور معیاری زبان میں لکھیں ۔

*آپ کا پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

شہزاد نیر

مرا نہیں تو وہ اپنا ہی کچھ خیال کرے

اسے کہو کہ تعلق کو پھر بحال کرے

نگاہ یار نہ ہو تو نکھر نہیں پاتا

کوئی جمال کی جتنی بھی دیکھ بھال کرے

ملے تو اتنی رعایت عطا کرے مجھ کو

مرے جواب کو سن کر کوئی سوال کرے

کلام کر کہ مرے لفظ کو سہولت ہو

ترا سکوت مری گفتگو محال کرے

بلندیوں پہ کہاں تک تجھے تلاش کروں

ہر ایک سانس پہ عمر رواں زوال کرے

وہ ہونٹ ہوں کہ تبسم سکوت ہو کہ سخن

ترا جمال ہر اک رنگ میں کمال کرے

میں اس کا پھول ہوں نیرؔ سو اس پہ چھوڑ دیا

وہ گیسوؤں میں سجائے کہ پائمال کرے۔

معزز قارئین امید ہے آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اپنی راۓ کا اظہار ضرور کیجئے گا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔
اللّٰہ حافظ

رشنا اختر

بشکریہ
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نازو
  • تقدیرِ رنگین
  • لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر
  • جج صاحب سیاست میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن
پچھلی پوسٹ
جس کی محنت اس کا حاصل

متعلقہ پوسٹس

مفت سم کارڈز فراڈ

اکتوبر 29, 2025

ایک تصویر

جنوری 13, 2020

افشائے راز

نومبر 15, 2019

اکثر اس طرح بھی رقصِ فغاں ہوتا ہے

جنوری 13, 2020

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019

قرطبہ کا قاضی

جنوری 12, 2020

مارگلہ اور تم اور میں

دسمبر 31, 2019

تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں

مئی 23, 2020

دل تماشائی رہے اچھا ہے

جون 27, 2025

عاداتاً ہم تو وفا کرتے ہیں

دسمبر 12, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک پرائی گڑیا کے نام

جون 18, 2018

المصور کی ندا!

مارچ 22, 2025

وصل میں ہم نے جو گزاری...

مئی 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں