107
میں نے اپنی آنکھیں
اپنے ہاتھ اور اپنی سوچیں
جس دن سے اس کے پاس
گروی رکھی ہیں
اس دن سے وہ لا پتہ ہے
اب میں اپنی مرضی سے نہ دیکھ سکتی ہوں
نہ سوچ سکتی ہوں ، نہ لکھ سکتی ہوں
اور اب سنا ہے
اس نے انہیں تاوان میں دے دیا ہے
اس شخص کو
جس کے پاس
اس نے
اپنا آپ گروی رکھا تھا
نجمہ منصور
